دیار خلافت کا سفر شوق قسط 75

تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

عرض کر چکا ہوں کہ گروپ کے منتظمین کی بہتری کوششوں کی بدولت ہمیں مولانا روم کے مزار کے سامنے ہی ہوٹل میں کمرے مل گئے تھے۔۔۔ حضرت شمس تبریز کے مزار سے ہو کر ہم پہلے مولانا روم کے مزار میں گئے اور وہاں سے نکل کر مسجد سلطان سلیم میں جمعہ ادا کیا۔۔۔۔ شیخ شمس تبریز کا مزار ہوٹل سے ذرا دوری پر واقع ہے۔۔۔ بسیں ہوٹل سے ہمیں وہاں پہنچا کر واپس آگئی تھیں اس لئے کہ وہاں بسوں کو رکنے کی اجازت تھی اور نہ رکنے کھڑی ہونے کیلئے جگہ موجود تھی۔۔۔ چنانچہ شیخ کے مزار سے ہو کر ہم پیدل ہی ہوٹل کی طرف واپس آگئے اور مولانا روم کے مزار میں فاتحہ و دعا اور حضرت کی تبرکات، یادگاروں اور کتب خانے کی زیارت کرکے نماز جمعہ کیلئے مسجد چلے گئے۔۔۔ ہمارا ہوٹل مسجد سلیم کے قبلے کی سمت روڈ کے ساتھ ہی واقع تھا۔۔۔ جبکہ مسجد میں قبلے کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوں تو الٹے ہاتھ پر مولانا کے مزار کی دیوار واقع ہے۔۔۔

مولانا کے مزار میں بھی ساتھیوں کے ہمراہ اجتماعی فاتحہ، دعا و زیارات سے فارغ ہوکر میں نے حضرت سے عقیدت و محبت میں تخلیہ و مراقبہ کا اہتمام کیا۔۔۔اور عجیب فیوض و برکات کے مشاہدے و تجربے سے مستفید ہوا۔۔۔ یہاں ہم نے قرآن کریم کے اس قدیم و تاریخی نسخے کا بھی مشاہدہ کیا جس میں مولانا رومی علیہ الرحمہ تلاوت فرمایا کرتے تھے۔۔۔ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم یہ ہے کہ مولانا رومی اور شیخ شمس تبریز سمیت یہاں کے تمام مزارات میں ان خرافات اور بدعات کا رواج نہیں جو بد قسمتی سے ہمارے یہاں اولیاء اللہ کے مزاروں کے ساتھ ان کی تعلیمات کے برعکس فروغ دیا گیا ہے۔۔۔ اور بد قسمتی سے اسے تصوف کا نام بھی دیا جاتا ہے، حالانکہ تصوف کا ان خرافات اور بدعات سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔۔۔ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ ترکوں نے اولیاء اللہ کے مزارات کو ان چیزوں سے دور رکھ کر اس بات کو خصوصی اہمیت دی ہے کہ مزارات ان اولیاء کی تعلیمات، ارشادات اور عمل و کردار کا آئینہ دار ہوں۔۔۔ ایسا نہ ہو کہ اس کے بر عکس اعمال کی آماجگاہ بنے نظر آئیں۔۔۔ فللہ الحمد و الشکر۔۔۔

ہم مسجد میں پہنچے تو نماز کا وقت قریب تھا۔۔۔ مسجد میں داخل ہونے کے بعد کچھ دیر تو ہم اس کی دلکشی اور در و دیوار سے جھانکتی تاریخی دل بستگیوں میں کھو کر رہ گئے۔۔۔ پھر جلد مسجد کی صفوں میں جہاں جگہ ملی وہاں بیٹھ گئے۔۔۔ امام صاحب ترک زبان میں بیان میں مصروف تھے۔۔۔ جو ہمارے لئے ظاہر ہے کہ “زبانِ یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم” کا ہی درجہ رکھتی تھی، اس لئے ہم کچھ نہیں سمجھ سکے۔۔۔ عربی بیان مکمل ہونے کے بعد خطیب صاحب منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور انہوں نے شستہ عربی لہجے میں عربی اور ترکی میں خطبہ دیا۔۔۔ غالباً وہ عربی خطبے کا ترکی زبان میں ترجمہ پیش فرما رہے تھے۔۔۔

اس کے بعد امام نے خوبصورت آواز میں نماز کی امامت کروائی اور یوں ترکی میں ہمارا پہلا جمعہ قونیہ میں حضرت مولانا روم کے پہلو میں ادا ہوا۔۔۔ نماز کے بعد امام صاحب سے ہمارے گروپ نے ملاقات کی اور مختصر تعارف اور تبادلہ احوال کیا گیا۔۔۔ اور زبان بے زبانی میں ایک دوسرے کیلئے دلی جذبات پیش کئے گئے۔۔۔

نماز جمعہ کے بعد ہم ہوٹل میں دوپہر کے طعام کیلئے روانہ ہوئے۔۔۔ اور ایک بار پھر بہترین روایتی کھانوں کا شاندار اہتمام ہمارا منتظر تھا۔۔۔ کھانے کے بعد میں ساتھیوں اور منتظمین سے اجازت لیکر اپنے کمرے میں آیا اور کچھ دیر آرام کیا۔۔۔ اٹھے تو نماز عصر کا وقت ہو رہا تھا، چنانچہ ہوٹل میں ہی عصر پڑھی اور مغرب کیلئے ٹہلتے ہوئے مسجد کا رخ کیا۔۔

جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *