وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی پریس کانفرنس، 9 اگست سے لاک ڈاؤن ہٹا دیں گے

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے بھر میں 8 اگست 2021ء تک جزوی لاک ڈاؤن لگانے کا اعلان کردیا اور اپیل کی کہ لاک ڈاون کو کامیاب کرنے میں ہماری مدد کریں۔ انشااللہ 9ا گست کو ہم پابندیاں ہٹانےکی پوزیشن میں ہوں گے۔ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی میں صوبائی وزراء ناصر حسین شاہ، مرتضیٰ وہاب، قاسم سراج سومرو و دیگر کے ہمرا پریس کانفرنس میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی قسم کے کورونا وائرس (ڈیلٹا ویرینٹ) نے دنیا میں مسئلے پیدا کیے ہیں، کراچی میں اس کی شرح 100فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ڈیلٹا ویرینٹ بڑا ہی خطرناک ہے، یہ کم از کم 5 لوگوں کو متاثر کرتا ہے، کراچی میں اس کے زیادہ کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔

مزید پڑھیں: کراچی کے تاجروں نے لاک ڈاون کا فیصلہ مسترد کردیا

اُن کا کہنا تھا کہ گزشتہ 3 دنوں میں کراچی میں ڈھائی ہزار کے حساب سے کیسز رپورٹ ہورہے ہیں، شہر قائد میں سماجی فاصلہ مشکل ہوگیا ہے۔ ایک تناسب کے مطابق روزانہ 100 لوگ اسپتال جارہے ہیں جبکہ ہمارے اسپتالوں کی سہولیات اتنی اچھی نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہوں گا کہ 8 اگست تک لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ متفقہ تھا، اجلاس میں سب نے اپنی اپنی رائے دی۔اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اسد عمر اور وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان سے بات کی۔

اُن کا کہنا تھا کہ مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ نہیں کیا گیا، ہم نے کچھ چیزوں کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، 9 دن سب نے مدد کی تو پھر صوبہ کھولنے کی طرف جائیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ کیا 9 دن بعد یہ وبا ختم ہوجائےگی؟ میں کہتا ہوں نہیں، یہ وبا ختم نہیں ہوگی مگر ہمارےاسپتال چوک نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد ٹاسک فورس کے فیصلوں سے آگاہ کرنا ہے، کورونا وبا کے آغاز سے ٹاسک فورس متحرک انداز میں کام کررہی ہے۔ ٹاسک فورس نے مشکل مگر سود مند فیصلے کیے، گزشتہ سال مکمل لاک ڈاؤن کا فائدہ ہوا، ٹاسک فورس کے فیصلوں کی وجہ سے نقصان کم ہوا۔

مزید پڑھیں: سندھ حکومت کا صوبے بھر میں کل سے لاک ڈاﺅن نافذ کرنے کا فیصلہ

اُن کا کہنا تھاکہ ٹاسک فورس نےاہم فیصلے کئے جس پر لوگوں نے مزاحمت بھی کی، ہم نے صحت عامہ کی سہولیات کو بڑھاکر مزید بہتر کیا۔ پچھلے سال فروری میں پہلا کیس سندھ میں آیا، ہم نے پچھلے سال لاک ڈاؤن کیا جس کا سب کو فائدہ ہوا، ان فیصلوں کے باعث ہمیں اس کےمثبت نتائج ملے تھے۔

انہوں نےمزید کہاکہ کورونا کی تیسری لہر میں ہم سے زیادہ شمالی علاقہ جات اور لاہور میں نقصان ہوا تھا، لاہور میں کرفیو جیسےاقدامات کیے گئے تھے۔ چوتھی لہر میں اسپتالوں نے سہولت بہتر کی مگر وہ ناکافی ہے، آج سے ایک ماہ پہلے سندھ میں روزانہ 500 کیسز تھے، پچھلے مہینے سے 2500 کیسز روزانہ آرہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیلٹا ویرینٹ سےسب سے زیادہ متاثر کراچی ہوا، بھارتی قسم کا کورونا مسلسل لوگوں میں پھیلتا رہے گا، اگر روکا نہ جائے تو ڈیلٹا ویرینٹ مزید پھیلے گا۔ڈاکٹرز کے مطابق کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 10 ہزار تک ہوگئی ہے، لوگ وبا کا ٹیسٹ نہیں کراتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں قدرے بہتر تعداد میں ویکسی نیشن ہوئی ہے، کراچی میں 24 فیصد اہل افراد کو ویکسین دی جاچکی ہے، ویکسین لگوانے والوں کو ڈیلٹا ویرینٹ کم اثر کرتا ہے۔ اگر وائرس کے پھیلاؤ کو روکا نہ گیا تو اگلے 5 روز میں اسپتالوں میں گنجائش ختم ہوجائے گی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *