بچوں پر نظر رکھنا کیوں ضروری ہے

تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

گزشتہ دنوں اسلام آباد کے انتہائی پوش علاقے میں ایک اعلیٰ فارن ایجوکیٹڈ لڑکے کے ہاتھوں اعلیٰ تعلیم یافتہ جوانسال لڑکی کے بہیمانہ قتل و ذبح کا المناک واقعہ سامنے آیا، جس سے پورا ملک اب تک سکتے میں ہے۔۔۔ اس طرح کے ظلم و زیادتی کے افسوسناک واقعات ملک کے طول و عرض میں آئے دن پیش آتے رہتے ہیں اور کچھ عرصے سے ایسے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔۔۔ اسلام آباد کا واقعہ اس لئے بھی انتہائی افسوس ناک ہے کہ اس واقعے کے دونوں کردار اعلی تعلیم یافتہ ہی نہیں، دولت مند اور روشن خیال طبقے سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔۔۔ یہ طبقہ عموماً بہت ماڈرن اور مہذب تصور کیا جاتا ہے اور عموماً اس طبقے کے افراد کی طرف سے ہی سب سے زیادہ ملک میں جاری ایسے گھناؤنے واقعات پر سخت رد عمل ظاہر کیا جاتا ہے۔۔۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ جرم اور ظلم کی نظریاتی شناخت اور فکری گروہ نہیں ہوتا۔۔۔ ماضی میں ایسے واقعات پر ہمارے روشن خیال دوستوں کی طرف سے یہ بیانیہ پیش کیا جاتا رہا ہے کہ یہ واقعات معاشرتی گھٹن کا نتیجہ ہیں۔۔۔ ایسے واقعات کے پس منظر میں پدرسری نظام، والدین کا کنٹرول اور مذہبی بندشیں اور پابندیاں کارفرما ہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔

ماضی میں جب بھی ایسا ہوا بلاوجہ مذہبی نظریات اور ملکی قوانین کو نشانہ بنایا جاتا رہا اور اس عمل کو ایک فیشن اور شغل ہی بنالیا گیا ہے۔۔۔ آج جبکہ اسلام آباد میں روشن خیال فرد کے ہاتھوں ایک روشن خیال لڑکی کے ساتھ یہ بہیمانہ واقعہ پیش آیا ہے تو کوئی بتا سکتا ہے کہ لڑکا اور لڑکی آخر کس گھٹن، گھریلو دباؤ یا پدرسری نظام کے جبر کا شکار تھے؟؟ وہ تو اپنی مرضی کے مالک تھے۔۔۔ گھر میں ان پر کوئی پابندی نہیں تھی۔۔۔ مقتول بچی کو تو یہاں تک آزادی حاصل تھی کہ وہ جانی پہچانی ایکٹوسٹ تھیں اور اس طرح کے واقعات کے خلاف ہمیشہ متحرک رہتی تھی۔۔۔ مگر اس کے باوجود ایسا دلخراش سانحہ ہوا کہ زمین بھی کانپ اٹھی ہوگی۔۔۔

روشن خیال طبقے کی طرف سے کچھ عرصہ قبل چپکے سے ملک میں “گھریلو تشدد بل” کے عنوان سے ایک متنازع قانون منظور کروانے کی کوشش کی۔۔۔ یہ قانون کلی طور پر اسی بیانئے کے گرد گھومتا ہے کہ عورت کو مکمل آزاد کر دیا جائے۔۔۔ اس پر گھر میں والد، بھائی اور شوہر کی کوئی روک ٹوک حتی کہ کوئی حق تک نہ ہو۔۔۔ یہ بل اس سوچ کے تحت نافذ کرنے کی کوشش کی گئی کہ عورتوں کو اپنی مرضی سے ہر قدم اٹھانے کی آزادی دی جانی چاہیے۔۔۔

الفاظ ذرا سخت ہیں مگر بہر حال ان کے عقل کے اندھوں کو اتنا بھی نہیں معلوم کہ ہمارے معاشرے اور فیملی سسٹم کی خوبی اور برکت و پہچان ہی یہی ہے کہ یہ والدین کی مرکزیت پر قائم ہے اور اس میں صرف بیٹی ہی نہیں بیٹا بھی باپ، دادا، اماں اور یہاں تک کہ اپنے بڑے بھائی کے ما تحت ہوتا ہے اور یہ بڑے اس کی کفالت، تعلیم، تربیت، علاج، روزگار سے لیکر شادی بیاہ تک کی ساری ذمے داریاں اٹھاتے ہیں اور اسے حفاظت و سلامتی کا سائباں فراہم کرتے ہیں۔۔۔ یہ لوگ جس بات کو گھریلو تشدد باور کرتے ہیں یہ دراصل نگرانی، تربیت اور حفاظت کا اہم ذریعہ ہیں۔۔۔ یہ نگرانی اور حفاظت نہ ہو تو پھر ظاہر جیسے اعلی تعلیم یافتہ اور روشن خیال نظر آنے والے لڑکے بھی درندے بن کر کسی کی آنکھوں کے نور کا بدن نوچنے میں ایک لمحے کی دیر نہیں لگاتے۔۔۔ پدرسری یا والد کی نگرانی وہ عظیم سایہ شفقت ہے جو بچوں اور بچیوں دونوں کی زندگی کی کڑی دھوپ سمیت معاشرے میں دندناتے ہر درندے سے حفاظت و صیانت بھی کرتا ہے۔۔۔

یہ کہنا ہم ہرگز مناسب نہیں سمجھتے کہ مرحومہ نور مقدم کے ساتھ جو انتہائی ظلم ہوا، اس کی ذمے داری اس کے اپنے نظریہ زندگی پر عائد ہوتی ہے۔۔۔ مگر ہم یہ ضرور کہیں گے کہ میرا جسم میری مرضی اور کسی بڑے کی نگرانی اور شفقت سے یکسر آزادی کا نظریہ اس طرح کے مزید اندوہناک و دلدوز سانحات کیلئے زمین ہموار کرنے کا ہی سبب بنے گا۔۔۔

میں اپنے عزیز دوستوں سے گزارش کرتا ہوں کہ گھریلو تشدد اور آزاد مرضی کی زندگی دراصل مغرب کے اس بے برکت معاشرے کا مسئلہ ہے جہاں بچے پدری شفقت اور ماں کی مامتا کی ٹھنڈک سے یکسر محرومی کے سائے میں پروان چڑھتے ہیں اور ایسا تو جنگل میں ہوتا ہے۔۔۔ کہ بڑا ہونے کے بعد ہر جانور آزاد ہوتا ہے۔۔۔ کیا ہم بھی جانور بننے کی راہ پر جانا پسند کریں گے؟ مغرب سے درآمد شدہ تمام تر تصورات ہماری پاکیزہ معاشرتی اقدار سے یکسر متصادم ہیں۔۔۔

ہمیں اس معاملے کو اس نقظہ نظر سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ساری دنیا کے انسانوں کو ایک جیسے نظریے اور اقدار کا پابند ہونا ضروری تو نہیں۔۔۔ مغرب کی اپنی سوشل ویلیوز ہیں اور ہمارا اپنا سماجی نظام ہے۔۔۔ جس کو مغرب کا نظام زندگی پسند ہے وہاں چلا جائے، یہاں رہ کر خود کو بھی پریشان کرنے اور معاشرے کو بھی ڈسٹرب کرنے کی آخر کیا ضرورت ہے؟

ملک بھر میں زیادتی و قتل کے واقعات میں اضافہ بہت افسوس ناک ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شخص اپنے بچوں کی اچھی دینی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دے۔۔ نور مقدم کا کیس ظاہر کرتا ہے کہ بچوں کو کسی صورت معاشرے اور ان کی مرضی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔۔۔ بالخصوص بیٹیوں کی حفاظت کیلئے ہر شخص اپنے بیٹوں کو یہ تربیت فراہم کرے کہ وہ دوسروں کی بہن بیٹی کو احترام دے، اس کی زندگی کی حفاظت کا خیال کرے، اس طرح خود اس کی اپنی بہن بیٹی بھی محفوظ رہے گی۔۔۔ اللہ تعالیٰ سب کی آزمائشوں سے حفاظت فرمائے آمین۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *