اسمبلی میں موجود علماء اور المیہ

تحریر: محمد سعد سعدی

اسمبلی کے فورم پر علماء کرام کے جانے کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ وہاں جا کر دین اور اسلامی اقدار و روایات کا تحفظ کریں گے اور اس کے خلاف آنے والا ہر بل کی مخالفت کریں گے اور اس کو روکنے کی کوشش کریں گے۔

حالیہ دنوں میں دو اہم متنازعہ قانون پاس کئے گئے۔ ایک اوقاف ایکٹ پنجاب اسمبلی سے پاس کیا گیا۔ پنجاب اسمبلی میں میں دو مذہبی نمائندے موجود ہیں، مولانا الیاس چنیوٹی اور مولانا معاویہ اعظم صاحب۔ ان دونوں حضرات کو اوقاف ایکٹ کے پنجاب اسمبلی سے پاس ہونے کا علم ہی نہیں تھا، بل پاس ہونے کے 2 ماہ بعد ملک کی نامور شخصیت نے وہ بل خود ان کو دیا اور کہا کہ یہ بل پاس ہو چکا ہے اس پہ آواز اٹھائیں۔ تو تعجب سے پوچھا گیا کہ یہ پاس ہو چکا ہے؟

مزید پڑھیں: چیئرمین پشاور تعلیمی بورڈ پروفیسر نصراللہ خان کا مختلف کالجوں کا دورہ

دوسرا گھریلو تشدد بل اسمبلی سے پاس کیا گیا۔ جو سراسر اسلامی تعلیمات اور ہماری مذہبی و ثقافتی روایات کے خلاف تھا۔ اسمبلی کے فورم پہ اس کی مخالفت سامنے نہیں آئی۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان کو علم تھا کیونکہ بعد میں جب اسمبلی کے ارکان کو بریف کیا گیا تو ان کی گفتگو سے معلوم ہوا کہ وہ اس کی سنگینی اور مضمرات سے واقف نہیں تھے لیکن بہر حال بعد میں انہیں اس بل کی سنگینی کا اعتراف کرنا پڑا۔

ہماری سیاسی قیادت جب روز اول سے ہی اس حکومت کو غیر ملکی ایجنڈہ قرار دے رہی ہے تو پھر ہمیں پہلے سے زیادہ چوکنا رہنا چاہئے اور اسمبلی کے ہر بل اور ہر ایکٹیویٹی پہ مکمل نظر رکھنی چاہیے تاکہ کوئی چیز ایسی پاس نہ ہو سکے جو ہمارے دین اور روایات کے خلاف نہ ہو۔

مزید پڑھیں: مولانا محمد اشرف علی تھانوی ؒ – تحفظ ختم نبوت کے رضاکار

ممکن ہے کہ اب متعلقہ جماعتوں کے کارکنان ہمیں ملامت کریں لیکن گزارش یہ ہے کہ اگر یہ سب حقیقت ہے تو پھر ہمیں اپنی غلطی اور غفلت کا اعتراف کرتے ہوئے اراکین کو ذمہ داری کا احساس دلانا چاہئے اور انہیں بیدار کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *