مولانا محمد اشرف علی تھانوی ؒ – تحفظ ختم نبوت کے رضاکار

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی علمی اور روحانی وجاہت سے کون واقف نہیں ایک دفعہ ان کی خدمت میں حضرت مولانا لال حسین اختر( قادیانیت ترک کرنے کے بعد) حاضر ہوئےتو آپ نے مولانا لال حسین اختر کے ہاتھوں مرزائی مبلغین کی عبرت ناک شکست کا سن کر نہایت خوشی کا اظہار فرمایا اور دعا کے بعد ارشاد فرمایا کہ “مولانا آپ تحفظ ختم نبوت اور رد مرزائیت کا جو کام سرانجام دے رہے ہیں یہ دونوں کام بلاشبہ بہترین عبادت کا درجہ رکھتے ہیں.”

مزید پڑھیں: دیار خلافت کا سفر شوق – قسط 75

ایک دفعہ حضرت مولانا خیرمحمد جالندھری، سید عطاءاللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے ہمراہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت شاہ صاحب نے فرمایا کہ “حضرت! شعبہ تبلیغ احرار اسلام ،قادیان میں تبلیغی وتدریسی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ مبلغین ختم نبوت کی ایک جماعت قادیان اور اس کے مضافات میں ختم نبوت کا کام کر رہی ہے اور اس کا ملکی سیاست سے کوئی تعلق نہیں”.

مزید پڑھیں: قصہ بلیک ڈالرز کا!!

آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس جماعت میں شمولیت اور رکنیت اختیار کرنے کی فیس کیا ہے؟ جب بتایا گیا کہ ایک روپیہ تو آپ نے پچیس روپے نکال کر دیے اور کہا کہ 25 سال کا عطیہ ہے میں ختم نبوت کے شعبے میں شمولیت اختیار کر تا ہوں. اس دوران میری موت آ گئی تو میں بھی ختم نبوت کے تحفظ کے رضا کاروں میں سے بن جاؤں گا”۔
اللہ تعالیٰ کی شان کے آپ اسی دوران فوت ہو گئے. اللہ اکبر کبیرا.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *