دیار خلافت کا سفر شوق – قسط 75

تحریر: مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

دعا و فاتحہ سے فارغ ہو کر ہم حضرت مفتی محمود الحسن صاحب کی قیادت میں مزار کے احاطے میں واقع مختلف شعبوں اور کمروں میں گئے۔۔۔ یہاں ایک اچھا خاصا کتب خانہ بھی موجود ہے۔۔۔ ایک کمرے میں حضرت رومی کے تبرکات موجود ہیں۔۔۔ وقت مختصر تھا۔۔ جمعے کی نماز قریب تھی۔۔۔ چنانچہ ہم مزار سے نکلے۔۔۔ مزار کے احاطے کے ساتھ ہی تاریخی مسجد سلطان سلیم واقع ہے۔۔۔ بیچ میں ایک دیوار حائل ہے۔۔۔ ہم اگرچہ حالت سفر میں تھے، مگر مسلمانوں کا اتنا بڑا اجتماع ہو رہا ہو تو اس میں شامل نہ ہونا بڑی محرومی کی بات ہوتی ہے، چنانچہ ہم مزار سے نکل کر پیدل مسجد سلیم کی طرف چل پڑے اور کچھ ہی دیر میں پر شکوہ مسجد کی عالیشان عمارت ہمارے سامنے ایستادہ تھی۔۔۔

مسجد سلطان سلیم یا سلیمیہ مسجد:

یہ بھی ترکی کے عظیم تاریخی اور اسلامی ورثے میں سے ہے۔۔۔ یہ مسجد سلطان سلیم بھی کہلاتی ہے اور مسجد سلیمیہ بھی۔۔۔ ترکی کی تمام بڑی تاریخی مساجد عموما کسی نے کسی خلیفہ اور سلطان کے دور میں تعمیر ہوئی ہیں، اس لئے جو مسجد جس بادشاہ کے دور میں بنائی گئی ہے بعد میں وہ اسی سلطان کے نام سے منسوب ہوگئی۔۔۔ مسجد سلیمیہ بھی ترکی کی ایسی ہی ایک عظیم الشان سلطانی مسجد ہے۔۔۔

مزید پڑھیں: دیار خلافت کا سفر شوق قسط نمبر 74

مسجد سلیمیہ قونیہ کے قرہ تائے کے علاقے میں واقع ہے۔۔۔ یہ قونیہ کا سب سے گنجان آباد اور مصروف علاقہ اور شہر کا اہم کاروباری و معاشی مرکز ہے۔۔۔ مسجد سلیم کے قرب و جوار میں اہم علاقے شامل ہیں۔۔۔ اس کے مشرق میں “مولانا عجائب گھر ” اور مغرب سمت عزیزیئے مسجد واقع ہیں، جبکہ چند قدم کے فاصلے پر مولانا روم کا مزار موجود ہے۔۔۔

سلیم مسجد کی تعمیر سلطان سلیم ثانی کے حکم پر شروع ہوئی۔۔۔ سلطنت عثمانیہ کے مشہور اور ماہر معمار جو عثمانی طرز تعمیر کے بنیاد گزاروں میں شامل ہیں، نے اس مسجد کی تعمیر میں خصوصی مہارت اور فنی کمال کا مظاہرہ کیا۔۔۔ کہتے ہیں کہ سلیم ثانی نے جب یہ مسجد بنوانے کا حکم دیا تھا تو تب وہ تخت سلطنت پر متمکن نہیں تھے۔۔۔ وہ تب صرف شہزادے تھے۔۔۔ بعد میں وہ مسند آرائے خلافت ہوئے تو اپنی خاص نگہبانی اور توجہ سے اس کی تعمیر و تزئین کا کام آگے بڑھایا۔۔۔ روایت ہے کہ اِس مسجد کی تعمیر 12 سال کی طویل مدت میں تکمیل کو پہنچی۔۔۔۔ جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی تعمیر و دلکشی پر کس قدر خصوصی توجہ دی گئی ہوگی۔۔۔

مزید پڑھیں: دیار خلافت کا سفر شوق قسط نمبر 71

اس کے بعد بھی صدیوں کے مرور ایام میں اس کی تین مرتبہ اس کی توسیع و مرمت کا کام عمل میں آیا۔۔۔ تاہم اس کا بنیادی طرز تعمیر اور بنیادی خاکہ و نقشہ سلطان سلیم کے دور کا ہی ہے۔۔۔ یہ تقریباً اٹھ صدی پرانی مسجد ہے مگر اس کی شان و شوکت آج بھی اپنے شباب پر ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس کی تعمیر کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہے۔۔۔ آخری سلیم مسجد کی مرمت ایک صدی قبل 1914ء میں کی گئی۔۔۔

مسجد کی عمارت اینٹوں کی ہے۔۔۔اس کے دو بڑے گنبد اور دو ہی مینار ہیں۔۔۔ گنبدوں کی ساخت و ہیئت سولہویں صدی عیسوی کے عثمانی طرز تعمیر کو نمایاں کرتی ہے۔۔۔۔ اِس مسجد کی عمارت سے مشابہ بعد میں تعمیر کی گئی فاتح مسجد استنبول ہے۔ مسجد کا صحنِ خاص یعنی نماز کی ادائیگی والا رقبہ مسجد کی چھت پر واقع بڑے گنبد کے زیرسایہ ہے۔ بڑے گنبد کے ساتھ 7 مزید چھوٹے گنبد موجود ہیں۔ مسجد کی محرابِ خاص نیلے سنگ مرمر سے بنائی گئی ہے اور منبر سفید سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے۔۔۔ ہم یہاں داخل ہوئے تو اس کی دلکشی و رعنائی نے ایک لمحے کو تو ہمیں مبہوت کرکے رکھ دیا۔۔۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی تسبیح تقدیس و تعظیم کا استحضار کرتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے۔۔

(جاری ہے)

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *