دیار خلافت کا سفر شوق قسط نمبر 74

تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

حضرت مولانا مفتی محمود الحسن مسعودی مد ظلہ کی قیادت میں ہم مولانا رومی علیہ الرحمہ کے مزار پر انوار میں داخل ہوئے۔۔۔ جہاں پر مزار کے خادموں نے ہمارا نہایت سکون اور مسرت آمیز مسکراہٹوں کے ساتھ ہمارا استقبال کیا۔۔۔ مزار کی عمارت بہت پرانی ہے اور اسے اقوام متحدہ کے سائنس و ثقافت کے ادارے یونیسکو نے آثار قدیمہ اور عالمی ثقافتی ورثہ کے زمرے میں شامل کر رکھا ہے۔۔۔ عمارت پرانی ہونے کے باوجود ایسی دلکش ہے کہ آپ کو اس کی قدامت اس کے عکس و نقوش اور در و دیوار سے جھلکنے کے بجاۓ وہاں مرقوم تاریخ سے ہی پتہ چلتی ہے۔۔۔ ہمارے یہاں کی افسوسناک صورتحال ہر شہری کو معلوم ہے۔۔۔ ایسی ثقافتی اور سیاحتی پس منظر رکھنے والی عمارتیں اپنی خستہ حالی سے بہ زبان حال خود بتاتی ہیں کہ وہ کتنی قدیم اور کہنہ ہیں۔۔۔ بہر حال یہ ترکی ہے۔۔۔ نفیس، مہذب، با شعور اور قدر شناس ترکوں کی سرزمین۔۔۔ اللہ تعالیٰ ترکوں کو مزید ترقیاں عطا فرمائے اور اشرار کی شریر نگاہوں سے ان کی حفاظت کرے۔۔

عمارت کی قدامت اس کے ظاہر سے بالکل بھی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔۔۔ چنانچہ مرقوم تاریخ سے پتہ چلا تو بہت متعجب بھی ہوئے، مگر پھر اس احساس سے اطمینان بھی ہوا کہ یہ ترکوں کی اپنے اسلامی ورثے سے والہانہ وابستگی کی ہی دین ہے۔۔۔ اور ان کی زندہ دلی، زندہ ضمیری اور ذمے دار قوم ہونے کی نشانی ہے۔۔۔ اور یہ اس لئے بھی ہمارے لئے قابل اطمینان احساس ہے کہ یہ اعلیٰ اوصاف نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر اگر امت مسلمہ کے کسی حصے میں پائے جاتے ہیں تو وہ ہمارے اولو العزم اتراک بھائی ہی ہیں۔۔۔ اور یہ ہمارے لئے مشترکہ فخر کا اثاثہ ہے۔۔ عمارت پرانی ہونے کے باوجود یہاں آسودہ خاک بزرگ کے مشکبو وجود کی کشش سے انوار و برکات کا مرکز نظر محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ اور اہل نظر کو صاف انوارات ربانی کی جھلکیاں دکھائی پڑتی ہیں۔۔۔ کیوں نہ ہو کہ حضرت رومی فنا فی اللہ اور عارف حق شناس انسان تھے۔۔۔ ساری زندگی ذات الہی کے عرفان کے جام لنڈھاتے گزری تھی۔۔۔ اور یوں رب کریم نے انہیں اپنی محبوبیت کے مقام رفعت مکان پر فائز کر دیا تھا۔۔ اس کے روحانی اثرات ہم اہل عقیدت اور راہ سلوک کے طالب اپنی روح و قلب پر محسوس کرتے ہوئے حضرت رومی کے حضور متحیر کھڑے تھے۔۔۔ یہ وہ مرد حق آگاہ تھے جن کی زندگی میں ایک اہل اللہ کی نظر نے انقلاب برپا کر دیا تھا۔۔۔

نگاہ ولی میں وہ تاثیر دیکھی
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی

جی ہاں حضرت شمس تبریزی نے ہی اس عالمِ ظاہر کے قلب کو اپنے ناوکِ نگاہ سے ایسا نشانہ لیا کہ وہ عشق خداوندی میں پھڑک کر رہ گیا اور پھر باقی پوری زندگی بھی تڑپتا اور تشنگان راہ معرفت کو بھی تڑپاتا رہا۔۔۔

ہم نے حضرت رومی کے حضور کھڑے ہو کر ان کیلئے بجان و دل رحمت حق طلب کی، فاتحہ پڑھی، دعا کی اور اپنی اور پوری امت کی طرف سے ان کی خدمت میں جذبات تشکر و سپاس پیش کئے۔۔۔ دعا سرا تھی۔۔۔ دیر تلک اس اللہ والے کے پہلو میں کھڑے ہو کر اس کی عظیم خدمات کی اللہ کے سامنے گواہی دی اور اس کے وسیلے سے اپنے لئے بھی راہ حق پر استقامت اور عرفان حق کا شعور مانگتے رہے۔۔۔ ہم ساکت و جامد کھڑے بلکہ گڑے تھے۔۔۔ مگر خاموشی یہاں ایسی زبان بن گئی تھی کہ لفظوں میں بھی اس کا عشر عشیر بیان نہ ہو سکے۔۔۔

ایک اضطراب تھا جو دل کو مچلائے دے رہا تھا۔۔۔ ایک احساس تھا جو دل کو پگھلا رہا تھا۔۔۔ گھڑیوں کی ساعت کے حساب سے تو یہی کوئی پانچ دس منٹ کا وقت گزرا ہوگا۔۔۔ مگر کسی غیر مرئی میکانکی قوت کے بل پر اس حالت سے باہر آئے تو سینہ ابل رہا تھا۔۔۔ آنکھوں میں سرخ ڈوریاں ہلکورے لے رہی تھیں۔۔۔ اور تکان نے پیر ایسے پتھر کر دیے تھے جیسے یہاں ہم چند ثانیے نہیں بلکہ اصحاب کہف (بلا تشبیہ) کی طرح صدیوں جمائے کھڑے رکھے گئے ہوں۔۔۔ کیا روحانی واردات اور کیفیات یہی ہوتی ہیں؟؟ عجیب سا تجربہ بدن کے دشت حیراں میں بجلی دوڑا گیا تھا۔۔۔

جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *