ایف پی سی سی آئی نے چینی کی قیمتوں کے نوٹیفیکیشن واپس لینے کا مطالبہ کر دیا

کرا چی ( ) خواجہ شاہ زیب اکرم سنیئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں کے جاری کردہ چینی کی قیمتوں کے حالیہ نوٹیفیکیشن واپس لیے جائیں اور قیمتوں کا تعین کے میکانزم کو مارکیٹ کے حالات کے مطابق کام کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔

انہوں نے چینی کی قیمتوں کے بارے میں حکومتی مداخلت کے بارے میں حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو یہ فیصلہ چینی کی صنعت میں اسٹیک ہولڈرزسے مشورہ کیے بغیر نہیں لینا چاہئے۔

مزید پڑھیں: ایف پی سی سی آئی، کے سی سی آئی، پائما کا بجٹ اناملیز دور کرنے کے لیے مشترکہ جدوجہد کا فیصلہ

خواجہ شاہ زیب اکرم نے مزید کہا کہ یہ فیصلے زمینی حقائق اور اچھے کاروباری طریقوں پر مبنی نہیں ہیں اور یہ فیصلے عام چینی صارفین پر فوری طور پر منفی اثر ڈالیں گے اور شوگر انڈسٹری، گنے کے کاشتکاروں اور دیگر وابستہ شعبوں کے مستقبل کو نقصان پہنچائیں گے۔ایف پی سی سی آئی نے مستقل طور پر حکومت سے تاجروں اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کاروباری فیصلے کرنے کی اپیل کی ہے۔

تاہم عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ حکومتی حلقے اور محکمے اپنے طور پر فیصلے کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ کاروبار، تجارت اور صنعتی شعبوں کے چیلنجوں کا سبب بنتے ہیں۔خواجہ شاہ زیب اکرم نے اس بات پر زور دیا کہ مارکیٹ کی سپلا ئی ڈیمانڈ اور مسابقت کو چینی کی قیمت کا تعین کرنے کی اجازت ہونی چاہئے اور اس سے حکومت، کاروبار اور صارفین سب کے لئے فائدہ مند صورتحال پیدا ہوگی۔

مزید پڑھیں: ایف پی سی سی آئی کا ہیومن ریسورس سے متعلق ایک اعلی سطحی سیمینار کا انعقاد

ایف پی سی سی آئی کا مطالبہ ہے کہ حال ہی میں جاری کردہ چینی کی قیمتوں کے بارے میں نوٹیفیکیشن کو وفاقی اور صوبائی حکومتو ں کو واپس لینا چاہئے اور ایف پی سی سی آئی نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر مارکیٹ فورسزکے ذریعہ قیمتوں میں استحکام حاصل ہوتا ہے تو وہ پائیدار نو عیت کا حامل ہو تا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *