سیپا کی جانب سے منرل واٹر کمپنیوں سے 8 کروڑ روپے کی وصولی

کراچی: ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ(سیپا) نے منرل واٹربنانے والی کمپنیوں سے 8 کروڑ روپے کی وصولی کرکے رقم قومی خزانے میں جمع کرادی۔ سیکرٹری ماحولیات محمد اسلم غوری اور ڈائریکٹرجنرل سندھ نعیم احمد مغل کے احکامات پر ڈپٹی ڈائریکٹرزکامران راجپوت اورمنیرعباسی نے کمپنیوں کے ریکارڈ کی چھان بین کے بعد رقم کاتعین کیا تھا۔

عدالت عظمی پاکستان نے ائینی درخواست نمبر26/2018کے تحت زمین سے معدنیاتی پانی (منرل واٹر)نکال کر پینے کے لیئے تیارکرکے فروخت کرنے پر رقم سرکاری خزانے میں جمع کرنے کاحکم دیاتھا. پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایساحکم اعلی عدالت کی جانب سے جاری کیا گیاتھاجس پر عمل درامد اوررقم وصول کرنے کا لائحہ عمل طے کرناسرکاری اداروں کے لیئے ایک اہم اور پیچیدہ معاملہ تھا۔

مزید پڑھیں: پولیس اہلکار کے خلاف FIR

تاہم سیپاکے اعلی انتظامیہ نے عدالت عظمی کے احکامات پر عمل درامد اوررقم وصولی کی ذمہ داری دوکہنہ مشق ڈپٹی ڈائریکٹرزکو تفویض کی جنہوں نے شبانہ روز محنت اورماتحت عملے کی مددسے نہ صرف رقم کاتعین کیابلکہ نیسلے, شیزان, مہران بیوریجز, ایکوافینا, پیپسی, پاپولر, سزواٹر اور کلیگن سے 8 کروڑ روپے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کراٰئے۔

سندھ میں سپریم کورٹ کے حکم پر یہ پہلی وصولی ہے جس پر سیکرٹری ماحولیات اور ڈائریکٹرجنرل سندھ نے دونوں افسران اور ان کے ماتحت عملے کی کارکردگی کوسراہتے ہوئے امیدظاہر کی کہ منرل واٹرتیارکرنے والی کمپنیوں سے خطیررقم وصول کرنے سے قومی خزانے کوکافی فائدہ ہو گااور ساتھ ہی ساتھ سپرہم کورٹ کے حکم کی بجااوری بھی کی گئی.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *