پولیس اہلکار کے خلاف FIR

کیا آپ جانتے ہیں کہ، آپ بھی کسی پولیس اہلکار کے خلاف ایف آئی آر درج کروا سکتے ہیں۔ 157, Police Order 2002 کے تحت ایک عام پاکستانی شہری کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی قانون نافذ کرنے والے پولیس اہلکار کے خلاف شکایت درج کروا سکتا ہے۔

اگر کسی ملزم کو 24 گھنٹے کےاندر عدالت میں جان بوجھ کر پیش نہ کرنےوالے پولیس اہلکار کو 1سال تک قید اور جرمانہ ھوگا.

کسی عورت کو تھپڑ مارنے یا برقعہ اتارنےوالے شخص پر دفعہ 354 تعزیرات پاکستان کی FIR درج ھوتی ھے جس کی سزا 2 سال تک قید اور جرمانہ ھے۔

اگر پولیس کسی کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھتی ھے تو پولیس پر دفعہ 342/34 تعزیرات پاکستان اور 155c کے تحت FIR درج ھوگی ۔

مزید پڑھیں: شریف اینڈ اماں پان ہائوس

پولیس اسٹیشن میں محرر کا عہدہ 24 گھنٹے میں 1 منٹ کے لئے بھی خالی نہیں رہ سکتا ۔

Chapter 22 Rule 8 Ploice Rules 1934.

پولیس اسٹیشن کی حدودمیں کوئی وبائی مرض پھیل جائےتو SHO اسکی رپورٹ SP اور ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر کودینےکا پابند ھے
22-36 Police Rules1934

اگر پولیس چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتی ھےتو ان پر دفعہ 452/34 ت پ اور 155cکی FIR درج ھوگی جس کی سزا 3سال تک قید اور جرمانہ ھے…

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *