شریف اینڈ اماں پان ہائوس

پچاس سال پیشتر پی آئی ڈی سی کے قریب محض ایک پان کا کھوکھا ہوا کرتا تھا جہاں ایک خاتون پان لگا کر دیتیں جو بہت پسند کئے جاتے تھے، ان کے ساتھ ان کا بیٹا شریف پان لگاتے تھے شریف جب پان میں مصالحہ ڈالتے اس کا جسم ایک خاص توازن اور تال سے ہلتا تھا، خاتون کے ہاتھ کی پان اور انکے بیٹے شریف کا انداز لوگوں کو بھایا اور دکان چل نکلی، یے خاتون آگے چل کر اماں کے نام سے مشہور ہوئیں انکا اصل نام مریم بی بی تھا۔

اماں دراصل حسین گنج لکھنؤ کے نواب صاحب کی اہلیہ بیگم خلیق الزماں کے ہاں پان لگانے پر مامور تھیں، بیگم صاحبہ اور نواب صاحب دونوں کا پاندان ان ہی کے سپرد اور مہمانوں کو لگے ہوئے پان پیش کرنا انکی زمہ داری تھی۔ تقسیم کے بعد جب نواب صاحب کی بساط پلٹ گئی تو اماں کراچی آ گئیں ان کے شوہر سرکاری نوکر تھے جو نہ ا سکے، اور وہیں ان کا انتقال ہو گیا،۔

مزید پڑھیں: چند درد دل رکھنے والے حضرات کا احسان اقدام

اماں لکھنؤ میں چونکہ نواب صاحب کے اعلیٰ مرتب مہمانوں کو پان پیش کرنے پر مامور تہیں لہذا ان کے پان بھی اسی معیار کے ہوتے تھے، کتھے میں دودھ ملاتیں جس کے سبب چونے کی تیزی زائل ہوجاتی اور منہ کٹنے کا خدشہ باقی نہ رہتا، ان کے ہاتھ میں پان لگاتے کتھے چونے کا ایسا توازن تھا جو کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ اعلیٰ معیار کے کرارے پان میں ان کے ہاتھوں کا جادو سرچڑھ کر بولتا تھا،۔

نوابوں کے ہاں کام کرنے کے سبب ان کی گفتگو میں سلیقہ رہتا تھا، یہی وجہ بنی جب انہوں نے 1961ع میں پان کا ایک کھوکھا لگایا جو آگے چل کر 1969ع میں کھوکھے کے نزدیک ہی ایک “دکان میں منتقل ہوگیا جس کا نام ہوگیا “شریف اینڈ اماں پان ہائوس” اس دکان کی شہرت کو دیکھ کر ایک موسیٰ ملباری نام کے ایک نے پان کی دکان میں اضافہ کیا اور آنے والے برسوں تک کئی دکانیں کھل گئیں مگر شریف اینڈ اماں کی شان کسی دکان میں نہ آ سکی۔ 19 اپریل 1982کو اماں کا انتقال ہوگیا، پان کی دکان اور اس کی شہرت آج بھی ہے مگر رونق جو اماں کے دم قدم سے تھے پھر لوٹ نہ آئی۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *