چند درد دل رکھنے والے حضرات کا احسان اقدام

اسلام کی پوری تاریخ میں مساجد کی اہمیت کسی سے ڈھکی چھپی ہوئی نہیں ہے ،تمام انبیائے کرام نے اللہ کی عبادت کے لئے مساجد کی تعمیر کا اہتمام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے گئے تو سب سے پہلے مسجد قبا پھر مسجد نبوی تعمیر کرائی اور حقیقت تو یہ ہے کہ مسجد نبوی اسلامی حکومت کا پارلیمنٹ تھی اعلیٰ عدلیہ تھی ایک کمیونٹی سینٹر تھی ۔ تمام فیصلے مساجد میں ہوتے تھے نکاح کی مجالس بھی مساجد میں لگتی تھیں ۔

یہی وجہ ہے کہ ہر مسلمان کے دل میں مسجد کی عظمت موجود ہے نئی مساجد بنانے کی بہت فضیلتیں ہیں، مگر اس سے بھی اہم کام مساجد کو آباد رکھنے کا ہے۔ کتنی ایسی خوبصورت مساجد دیکھنے میں آئیں جن کو بنانے میں خطیر رقم خرچ کی گئی تھی مگر اسے آباد رکھنے میں ناکام رہے۔ مساجد ویران ہوگئیں آج ان کی ویرانی دیکھ کر دل غمگین ہوتا ہے وجوہات کئی ہیں مگر سب سے بڑی وجہ امام صاحب کو مناسب تنخواہ نہ دینا ہے اکثر دیہاتوں میں لوگ امام صاحب کی تنخواہ کا بوجھ نہیں اٹھاپاتے یا 5 سے 6 ہزار تک لینے والے بندے کو تلاش کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: وباء کہاں ہے۔۔۔۔؟

عموماً ایسی تنخواہ پر کوئی عالم تو راضی نہیں ہوتا تو ایک خالی حافظ صاحب کو مقرر کیا جاتا ہے جو خود غیر تربیت یافتہ ہو وہ دوسروں کی کیا تربیت کرے گا
اسکا رہن سہن بھی جہلا سے ملتا جلتا ہے یقیناً ایسے ہی لوگوں سے پھر غلطیاں صادر ہوتی ہیں جس سے پورا مذہبی طبقہ بدنام ہوتا ہے یوں اک مسجد ویران ہوجاتی ہے ۔

مسلسل کوششوں سے اپنی مدد آپ کے تحت کچھ درد دل رکھنے والے دوستوں نے ایسی مساجد کو آباد کرنے کا پروگرام بنایا ہے، الحمد للہ کچھ مساجد کا سروے بھی کرلیا گیا۔ ہمارے ہاں چونکہ مسالک کا چکر بھی بہت زیادہ ہے تو میں نے ان مساجد کے بانیان کو یہ بھی آفر کی ہے کہ آپ اپنے مسلک کا کوئی عالم لے آئیں تنخواہ ہم دیں گے ہم آپکی مسجد میں اور کسی قسم کی مداخلت نہیں کریں گے۔

مزید پڑھیں: صحت مند زندگی کا انوکھا راز

لیکن اتنا ضرور کہتے ہیں بندہ ایسا لے آئیں جو مسلکی منافرت نا پھیلائے اس بکھری امت کو جوڑنے کا درد رکھتا ہو، نمبر دو ہم اسکی تربیت کا باقاعدہ کورس بھی کروائیں گے۔ جس میں موجودہ دور کے حالات کے مطابق امت مسلمہ کی اخلاقی اور مذہبی تربیت کے موضوعات ہونگے یاد رہے یہ تربیتی ورکشاپ بھی غیر مسلکی ہوگی جو ہمارے باہر کے دوست جو بہترین سکالر ہیں وہ آن لائن کرائیں گے ۔

ابتدائی تنخواہ 15000 ہزار مقرر کی گئی ہے ، باقی اسکی رہائش اور روٹی وغیرہ کا انتظام آپ نے کرنا ہے۔ الحمد للہ کافی مساجد کے بانیان راضی ہوگئے
آخر میں درد دل کے ساتھ ایک گزارش ، آپ بھی اگر کسی مسجد کو بنانے کا سوچ رہیں تو اس سے پہلے کسی ویران مسجد کو آباد کرنے کی ترتیب بنا لیں۔

اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *