مسئلۂ كشمیر كو عالمی زبانوں میں اجاگر كرنے كی ضرورت۔ ڈاکٹر راسخ الكشمیری

جہاں کشمیر کے معاملے پر قحط الرجالی پائی جاتی ہے وہاں مسئلہ کشمیر کو ایک منظم طریقے سے اقوام عالم تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر لانے میں بھی کوتاہی نظر آتی ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ فرزندان کشمیر جو باہر ممالک میں رہتے ہیں اپنے اپنے تئیں ان زبانوں میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں جن جن زبانوں میں وہ مہارت رکھتے ہیں، مگر ایسا ہمیں نظر نہیں آتا۔

عربی زبان کو بطور مثال پیش کرتا ہوں، چند ایک عربی چینلوں کے سوا مسئلۂ کشمیر پر کوئی آواز اٹھانے والا نہیں، جس سے ہماری سفارتی کمزوری ثابت ہوتی ہے۔

اس کمی کو پورا کرنے کے لیے راقم نے “کشمیر بالعربیہ” کے نام سے ٹویٹر پر صفحہ کا اجرا کیا، جس کے نتائج میں سے واضح ہوا کہ کشمیر کے معاملہ پر عربی زبان میں حقائق پیش نہ کرکے کتنی غفلت برتی گئی۔

علی ہذا القیاس آزاد کشمیر کی حکومت، پاکستان کی وزارت خارجہ، یا پھر کشمیر کمیٹی کو ہی چاہیے تھا کہ ہر زبان میں اس مسئلے کو اجاگر کرتے، اور اقوام عالم کی عوام الناس کو بھی اس مسئلے میں شامل کرتے، رفتہ رفتہ اس کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے۔ فلسطین کا مسئلہ کشمیر کا جڑواں ہے، ان کی آواز بہت سارے مؤثر ممالک کی عوام تک پائی جاتی ہے، جبکہ کشمیر ایشو پر ایسا نظر نہیں آتا۔

بطور مشورہ عرض کرتا ہوں کہ آج کل بہت اچھا موقع ہے، کشمیر میں بھی لوہا گرم ہے، جبکہ فلسطین میں (بیت الاقصی) کا معاملہ بھی زور پکڑے ہوے ہے، اب اور اس کے بعد بھی مقبوضہ کشمیر میں اہالیان کشمیر کو چاہیے کہ اپنی آواز کے ساتھ ساتھ فلسطین کے حق کے لیے بھی آواز بلند کریں، جب ایک مظلوم قوم (کشمیر) کی طرف سے مظلوم قوم (فلسطین) کے لیے آواز اٹھائی جائے گی تو یقینا فلسطینیوں تک یہ باتیں پہنچیں گی، پھر وہ بھی احسان کا بدلہ احسان سے ہی دیں گے۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب محترمہ ملیحہ لودھی اس حوالے سے خاصا کام کر رہی ہیں، انہوں نے بہت سے مواقع پر کشمیریوں کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کا ذکر کرکے اہل فلسطین کو اچھا پیغام دیا، مگر یہ پیغام فلسطینی عوام تک نہیں پہنچتا، ہمیں اس پیغام کو فلسطینی عوام تک پہنچا کر ان کی اخلاقی حمایت حاصل کرنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *