سوشل میڈیا، عربی زبان اور پاکستان

عربی زبان سے ہمارا رشتہ کبھی بھی نہیں ٹوٹ سکتا، اس لیے کہ ہماری پیدائش سے لیکر تا دم واپسیں اس سے ربط نا گزیر ہے، پیدا ہوتے ہوے یہ رشتہ اذان سے شروع ہوتا ہے، اور مرتے دم تک کلمہ طیبہ ہمارے گوش گزارا جاتا ہے، زندگی میں ہماری عبادات کا جزو لاینفک عربی زبان ہے کہ اس کے بغیر ہماری عبادتیں ادھوری ہیں، ہمارے نام اکثر وبیشتر عربی سے تراشیدہ ہوتے ہیں، الغرض عربی زبان کی چہک ہمارے ہونٹوں سے اور مہک ہمارے خون سے ختم نہیں ہو سکتی۔

کیا وجہ ہے کہ مختلف غیر عربی ممالک عربی زبان میں “سوشل میڈیا” پر اپنے بھرپور مثبت بیانیہ کے لیے اکاؤنٹ بناتے اور عرب ممالک کے باشندوں کے ساتھ میل جول رکھتے، اور اپنے اپنے ممالک کی مثبت تصویر پیش کرتے ہیں؟!

اسی طرح اگرچہ کم مگر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ مغربی ممالک اردو زبان کو اپناتے ہوے اردو بولنے والوں سے رابطے میں رہتے ہیں، جس کا فائدہ یقیناً مثبت صورت میں انہیں ملتا ہے۔

امریکہ ہو یا مغرب، افریقہ یا چین تمام ممالک عرب دنیا کو مخاطب کرکے اپنا اپنا مدعا پیش کرتے ہیں، یہ وہ سفارتکاری ہے جو ہم اپنے ملک میں رہ کر بآسانی کر سکتے ہیں، عرب دنیا تک اپنا پیغام پہنچا کر ان کی اخلاقی اور سیاسی مدد حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنی مثبت تصویر اجاگر کرنے کے لیے کیا کر رہا ہے؟! انگریزی زبان میں تو جو کچھ ہوتا ہے وہ ایک طرف، عربی میڈیا اور سوشل میڈیا پر پاکستان کی کردار کشی ایک منظم طریقے سے کی جاتی ہے۔

پاکستانی زبان میں عربی ذرائع ابلاغ نہ ہونے سے یہ ہوتا آیا ہے کہ مغربی میڈیا میں چھپی منفی خبریں عربی زبان میں ترجمہ ہوکر عرب ممالک کے باشندوں میں پاکستان کے متعلق زہر گھولتی رہی ہیں، جبکہ بعض عربی اخبارات پاکستان کے متعلق منظم کردار کشی کرتے ہیں، اس کے جواب میں کوئی بھی جواب دینے والا عربی زبان میں موجود نہیں۔

اکثر پاکستان کے متعلق جو منفی باتیں نکلتی ہیں وہ معاشرتی کردار کشی ہوتی ہے، اس کے علاوہ پاکستان کے سیاسی اور عسکری اداروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، بلوچستان کے موضوع پر ایک علیحدہ ہی بیانیہ دیا جاتا ہے جو نفرت آمیز ہوتا ہے، پنجابیوں کو غاصب، اور پاکستان کو قابض ملک بتایا جاتا ہے۔

عرب ممالک کی تعداد ۲۲ ہے، جو ایشیا اور افریقہ میں آتے ہیں، کل آبادی چار سو ملین سے زائد ہے، عربی زبان اقوام متحدہ کی آفیشل زبانوں میں شمار ہوتی ہے، ہر سال ۱۸ دسمبر کو اس کا عالمی دن منایا جاتا ہے، عربی زبان کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوے تمام عالمی چھوٹے بڑے ادارے عربی زبان استعمال کرتے ہیں۔

کشمیر کے متعلق کوئی بھی منظم بیانیہ پاکستان سے عربی زبان میں شائع نہیں ہوتا، جس سے نقصان یہ ہوا کہ عام لوگ تو دور کی بات عرب ممالک کے ڈیپلومیٹ بھی اس قضیہ کی جانکاری نہیں رکھتے۔

اقتصادی راہداری کے متعلق عرب ممالک کو قائل کرنے کی کوئی مستقل حکومتی کاوش عربی زبان میں نہیں، نہ ہی کوئی ایسا منظم کام موجود ہے جو عرب کے تاجروں کو پاکستان میں انویسمنٹ کے لیے قائل کر سکے۔

بحیثیتِ قومی زبان اردو زبان کے ساتھ انصاف کرتے ہوتے عربی زبان کو بھی اہمیت دی جانی ضروری ہے جس کی ضمانت دستورِ پاکستان 31/A کی شکل میں موجود ہے۔ اسی طرح میڈیا مالکان کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہیے جس میں وہ قومی کردار ادا کرتے ہوے پاکستان کی درست تصویر اجاگر کر سکیں، اور پاکستان کی مخالفین کو انہی کی زبان میں جواب دینا ممکن ہو.

ہمیں اس حوالے قومی سطح پر چند امور کا اہتمام کرنا چاہیے، جس میں سب سے پہلے تو قومی ذرائع ابلاغ میں عربی زبان کو اپنا کر اس سطح کی خبریں پیش کی جانی چاہئیں جو عالم عرب کے انداز میں ان تک پہنچیں۔

اسی طرح سوشل میڈیا کا سہارا لیکر وزارت خارجہ کو اور ان وزارتوں کو جو ہر ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہیں عربی زبان میں اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ بنانے چاہییں، وزارت اطلاع ونشریات، وزارت دفاع، قومی اسمبلی، سینیٹ اور تمام عسکری اداروں کے اکاؤنٹس بھی عربی زبان میں ہونا ضروری ہیں۔
پاکستان کے حوالے سے مواد کو سوشل میڈیا سے ہم آہنگ امور کو اپنا کر چلنا چاہیے مثال کے طور پر انفو گرافک، ویڈیو گرافک کا استعمال۔

اسی طرح یہ بھی بہت ضروری ہے کہ سرکاری سطح پر عرب ممالک کے سرکاری میڈیا ہاؤسز کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتیں سائن کی جائیں اور ان پر عمل کیا جائے۔
عربی زبان کے ماہرین کی پاکستان میں کمی نہیں خاص طور پر جبکہ سعودی عرب کے قوانین میں حالیہ تبدیلی کے بعد بہت سے ایسے نوجوان پاکستان پلٹے ہیں جنکی مادری زبان عربی اس لیے کہلاتی ہے کہ وہ وہاں پیدا ہوے اور وہ عرب معاشرے کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اس حوالے سے یہ نوجوان بہت کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔

اپنے ملک کی درست تصویر پیش کرنا ہمارا ملکی فریضہ ہے، اس سلسلے میں عرب ممالک کے مختلف ادارے جو عربی زبان کی نشر واشاعت کے حوالے سے سرگرم ہیں خاص طور پر سعودی عرب کے کنگ عبد اللہ سینٹر برائے خدمت وفروغ عربی زبان سے راہنمائی بھی لی جا سکتی ہے، امید ہے ملکی مفاد کی خاطر ارباب اختیار اس نکتہ پر ضرور نظر کرم ڈالیں گے۔

 

تحریر : راسخ الکشمیری

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *