مرکزی جامع مسجد، تاشقند (ازبکستان)

ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند کی سب سے بڑی اور ملک کی تیسری بڑی مسجد ہے۔ اس سے بڑی سمرقند کی مسجد بی بی خانم اور بخارا کی کلیان مسجد ہے۔ تاشقند کی یہ مسجد چار صدی پرانی ہے۔ یہ مسجد پرانے تاشقند کے پر رونق بازار میں چوک چہارسو کے پاس واقع ہے۔ راقم (فقیر اللہ خاں) کو جب 1992 ء میں اپنی قومی ائیر لائنز کی طرف سے اس شہر میں تعیناتی کا حکم نامه ملا تو ہر نماز جمعه اسی مسجد میں ادا کرنے کا موقع ملا ۔ تقریبا ایک صدی روس کے چنگل میں رہنے کے بعد اس وقت یہ مسجد ایک کھنڈر بنی ہوئی تھی۔ مسلمانوں کی ہزاروں مسجدوں میں روس نے تالے لگا رکھے تھے۔ جب 1991ء میں ان مسلم ریاستوں کو آزادی نصیب ہوئی تو ان مساجد کی مرمت، تزئین و آرائش کا کام شروع کر دیا گیا۔ یہ علاقه گلکاری اور پچی کاری کے فن کا صدیوں سے گہوارو چلا آرہا ہے۔ ان لوگوں نے اس مسجد کو نئی تزئین و آرائش سے ایک خوبصورت شاہکار بنا دیا۔ مسجد کے نئے چمکتے ہوئے گنبد اور پھولدا محرابی دروازوں نے اس کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ مسجد کے تین گنبد ہیں، درمیان والا گنبد بڑا ہے۔ ان گنبدوں اور درو دیوار پر گلکاری اور پچی کاری کا دیدہ زیب کام ترک کاریگروں کے ہنر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس مسجد کے صحن اور سامنے والے دالان میں تقریبا دو ہزار نمازی نماز ادا کر سکتے ہیں۔ صحن کے ارد گرد تینوں اطراف میں طلبہ کے لیے کمرے بنائے گئے ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *