صحت مند زندگی کا انوکھا راز

میرے ایک جاننے والے مخلص ہیں‘ میں جب بھی ان سے ملاقات کرتا ہوں ابھی دور سے ہی مسکراتے ہیں‘ جیب میں ہاتھ ڈالتے ہیں ایک سبز چھوٹی الائچی چمکتی ‘دمکتی میری ہتھیلی پر رکھ کر خوب جی بھر کر مصافحہ اور معانقہ کرتے ہیں اور بعض اوقات تو ایسا کرتے ہیں کہ الائچی نکالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ منہ کھولو اور منہ میں الائچی ڈال دیتے ہیں‘خوش ہوتے ہیں‘ اعلیٰ درجہ کے مہمان نواز‘ مخلص‘ ملن سار‘ مرنجاں مرنج ہیں۔ ان کی ساری صفات بہت اچھی لیکن یہ صفت کہ وہ الائچی ہر آنے والے کو ضرور کھلاتے ہیں اور ان کی جیب میں الائچی لازم موجود ہوتی ہے۔*

ایک بار میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ ہروقت اپنے پاس الائچی کیوں رکھتے ہیں؟
کہنے لگے: ہوا یہ کہ میں مصر گیا اور قاہرہ ایئرپورٹ پر بیٹھا ہوا تھا‘ ایک ہوٹل مینجمنٹ سے ہمارا پیکیج طے تھا کہ انہوں نے مجھے لینے آنا تھا اور ٹیکسی آنے میں دیر ہوئی‘ میرے ساتھ ایک مصری آکر بیٹھا اور بیٹھتے ہی اس نے مجھے چھوٹی الائچی دی‘ مسکرایا‘ سلام کیا‘ ہاتھ ملایا اور بہت خوش ہوا۔

مزید پڑھیں: وباء کہاں ہے۔۔۔۔؟

میں نے اس سے پوچھا کہ آپ نے مجھے چھوٹی الائچی کیوں دی؟
تو اس نے مجھے اپنی مصری عربی میں بہت اعتماد سے بتایا چھوٹی الائچی منہ کو خوشبودار رکھتی ہے‘ مسوڑھوں کی بیماری قریب نہیں آنے دیتی جس کے منہ میں چھوٹی الائچی ہوتی ہے‘ اس کے دانتوں میں اگر خون آتا ہو‘ مسوڑھے گل گئے ہوں‘ منہ میں پرانے چھالے ہوں اور زخم ہو ‘ وہ ختم ہوجاتے ہیں حتیٰ کہ کہنے لگے: مجھے سگریٹ نوشی کی وجہ سے ایک دفعہ ڈاکٹر نے بُری خبر سنائی کہ تیرے منہ میں کینسر کی علامات پیدا ہورہی ہیں‘ فوراً سگریٹ چھوڑ دو اور زبان کا کچھ حصہ سرجری سے کٹوا دو میں خوفزدہ ہوگیا۔

میں نے سگریٹ فوراً چھوڑ دیا نامعلوم مجھے دل میں کیا خیال آیا میں نے بہترین الائچیاں لیں اور وہ فوقتاً فوقتاً دن میں منہ میں ڈالتا‘ چوستا چباتا رہتا کچھ ہی ماہ میں نے یہ عمل کیا‘ مجھے منہ میں تکلیف کا احساس ختم ہوگیا اور میں یہ تک بھول گیا کہ مجھے کوئی تکلیف ہے بلکہ میں اپنے آپ کو سوفیصد صحت مند محسوس کرنے لگا۔

ایک دفعہ راہ گزرتے ہوئے میں اس ڈاکٹر کے پاس پھر چلا گیا اس نے چیک کیا اور چیک کرتے ہی حیرت سے مجھے دیکھ کر خاموش بیٹھا‘ پھر بولا: میری گزشتہ تشخیص کے مطابق آپ کے منہ میں کینسر کی جڑیں پیدا ہوچکی تھیں اور کینسر کے اثرات بڑھ رہے تھے لیکن اس وقت نہ کوئی کینسر ہے اور نہ کینسر کی علامات ہیں۔ آپ نے کہاں سے علاج کروایا اور کیسے علاج کیا۔

مجھے فوراً اس کی بات سمجھ آگئی اور میرا دل سوفیصد چھوٹی الائچی کی طرف متوجہ اور منتقل ہوگیا۔ میں نے اس سے کہا کہ میں چند ماہ سے مسلسل چھوٹی الائچی استعمال کررہا ہوں‘ بس جیب میں رکھتا ہوں اور چھوٹی الائچی چوستا رہتا ہوں‘ چباتا رہتا ہوں‘ اس نے میری بات سنی ان سنی کردی۔ فوراً اپنے کمپیوٹر کی طرف متوجہ ہوااور کچھ دیر کمپیوٹر پر جھکا‘ کچھ دیکھتا رہا‘۔

اس کے بعد اس نے میری طرف دیکھا اور مسکراتی نظروں سے بولا: آپ تو سائنس دان نکلے، یہ ٹوٹکہ آپ نے کیسے ڈھونڈ نکالا ۔
میں نے پوچھا مثلاً کیسے؟ کہنے لگا: میں نے فوراًانٹر نیٹ کا سہارا لیا اور الائچی پر جو اس دقت دنیا میں جتنی بھی ریسرچ ہوئی تھی ہر تحقیق پر سرسری نظر ڈالتے ڈالتے آگے چلتا گیا‘ ایک جگہ میں جاکر رک گیا لکھا ہوا ہے کہ ، الائچی منہ کے کینسر کا علاج‘ ناک اور زبان کے کینسر کا علاج ہے۔ الائچی دماغ کو روشن‘ نظر کو تیز یادداشت کو مضبوط کرتی ہے اور الائچی استعمال کرنے والا فرد کبھی ڈھلتا اور بوڑھا نہیں ہوتا۔

وہ ڈاکٹر بول رہا تھا اور میں حیرت سے اس کو تک رہا تھا اور کہنے لگا: مزید اس کے فوائد یہ ہیں کہ جوشخص الائچی استعمال کرے گا اس کی نسلوں میں بیٹے زیادہ ہونگے اور اس کو معدہ اور بواسیر کی بیماری سے ہمیشہ حفاظت رہے گی

وہ مصری بول رہا تھا اور میں سن رہا تھا۔ الائچی ساری عمر دیکھی اور الائچی کو ساری عمر قریب سے پرکھا لیکن اس انداز سے الائچی کو دیکھنا میرے لیے ایک حیرت کی بات تھی۔ بس میں انتظار میں تھا شاید وہ مصری بھی کسی کے انتظار میں تھا۔ یہ تھوڑی سی بات ہوئی میری گاڑی مجھے لینے آگئی میں نے ان کا شکریہ ادا کیا‘ چل دیا۔

اس دن کے بعدمیں ہروقت منہ میں الائچی رکھتا ہوں پھر خیال آیا جس چیز کو اپنے لیے پسند کرتا ہوں کسی دوسرے کے لیے کیوں نہ پسند کروں‘ لہٰذا میں نے اسے دوسروں کیلئے پسند کرنا بھی شروع کردیا اور جب سے میں نے لوگوں کو الائچی دینا شروع کی ہے میرے دوست بڑھ گئے اور لوگ اس کے فوائد بہت بتارہے ہیں ایک صاحب کو دائمی نزلہ اورکیرا تھا کہنے لگے

میرا دائمی نزلہ ختم ہوگیا۔ ایک صاحب اپنی یاداداشت بالکل کھو چکے تھے وہ سارا دن منہ میں الائچی رکھ کر اپنے کام کاج کرتے رہتے تھے اب عالم یہ ہے کہ انہیں بچپن کی بھولی ہوئی باتیں بھی یاد آرہی ہیں اور وہ خود کہتے ہیں الائچی نے مجھے نئی زندگی دی‘ نئی صحت دی‘ نئی تندرستی دی اور میں الائچی استعمال کرکے ایک نہایت کامل اور صحت مند زندگی گزار رہا ہوں۔

مزید پڑھیں: جامع مسجد سڈنی (آسٹریلیا)

الائچی سے صحت مند زندگی کا انوکھا راز
قارئین ! یہ واقعہ جو میں نے آپ کو ابھی سنایا یہ صرف ایک نہیں ہماری طب میں اور سائنس کی دنیا میں الائچی کے کمالات اور الائچی کی تاثیر بہت زیادہ ہے اور الائچی سے صحت و زندگی کا انوکھا راز ملتا ہے۔ ہم کبھی بھی تنہا الائچی استعمال نہیں کررہے بنیادی طور پر الائچی ایک بہت بڑی طاقت‘ قوت‘ وٹامن اے سے زیڈ تک کا خزانہ ہے۔ لاعلاج بیماریوں کیلئے مستقل علاج ہے۔

یہ اس دور کی بات ہے جب ہم کالج پڑھتے تھے ہمارے ایک پروفیسر صرف چھوٹی الائچی کی اتنی باریک پسائی کرتے کہ ململ کے باریک کپڑے سے نکالتے اور آدھے چنے کے برابر اس کی پڑیا ہر لاعلاج مریض کو دیتے تھے۔ ان کے تجربہ کے مطابق ہمیشہ چھلکا سمیت الائچی پیستا ہوں اور ہرلاعلاج مریض کو یہی پڑیا دیتا ہوں۔ کسی کو دن میں ایک بار کسی کو دن میں تین سےچار بار کھانے کیلئے کہتا ہوں۔

آپ چاہے کوئی بھی بیماری کا علاج کررہے آپ نہیں چھوڑنا چاہتے تو کوئی حرج نہیں لیکن اس صحت مند زندگی کو پانے کیلئے یہ بہترین علاج اور بہترین تندرستی کا راز آپ ہر گز نہ بھولیں اور اس تندرستی کے راز کو پانا آپ کو اتنا تندرست اور صحت مند کردے گا اور آپ گمان و خیال اور سوچ سے بالا تر اپنی صحت اور زندگی پائیں گے۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *