وباء کہاں ہے۔۔۔۔؟

تحریر : یاسررسول

4 پرسنٹ کیسز ہیں جن میں سے بھی 99.99 فیصد ازخود بنا ویکسین ٹھیک ہورہے ہیں۔ اس کو وباء کونسی عینک سے قرار دیا جاسکتا ہے؟ صرف 0.001 پرسنٹ کی وجہ سے 99.99 پرسنٹ آبادی کو دھمکیاں دے کر، تنخواہیں بند کرکے، اوچھے ہتھکنڈے اپناکر زبردستی ویکسین لگانا کہاں کی عقلمندی ہے؟؟ جبکہ وباء کا تو وجود ہی ختم ہوچکا ہے۔

آپ بازاروں میں جائیں، مساجد جائیں، کسی بھی جگہ چلے جائیں لوگ ہشاش بشاش صحتمند ہر جگہ ویسے ہی گھوم پھر رہے جیسے پہلے تھے۔ آپ واپس گھر آجائیں ٹی وی آن کریں تو میڈیا صبح شام قرونا قرونا کرکے آپکو خوفزدہ کردیتا ہے۔ میڈیا یہ نہیں بتاتا کہ متاثرین میں سے 99 فیصد بنا کسی ویک سین کے ٹھیک ہوچکے ہیں۔ اس لیے نہیں بتاتا کہ پھر کوئی ویک سین نہیں لگوائے گا اور نہیں لگوائے گا تو مطلب عالمی ڈرامہ کیسے پورا ہوگا۔

مزید پڑھیں: بغیر ویکسینیشن کے نادرا میں جعلی اندراج کے مبینہ واقعات قابل تشویش ہیں، علامہ باقر عباس

آپ کب سمجھیں گے کہ اس سارے ڈرامے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ انہیں آپکی صحت کی فکر ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ ان کا مقصد آپ کو کورونا سے بچانا نہیں ہے بلکہ ویکسین لگاکر دنیا کی آبادی گھٹانا ہے۔ وہ پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ 2031 تک دنیا کی آبادی کو 8 ارب سے کم کرکے 1 ارب کرنا ہے۔ آپ کے کان کیوں نہیں کھڑے ہوئے کہ اتنے کم سالوں میں وہ 8 ارب انسانوں کو کہاں غائب کریں گے۔۔۔؟

آپ کے کان اس وقت بھی کیوں کھڑے نہیں ہوئے جب WHO چلانے والے صیہونی بل گیٹس نے اعلان کیا کہ ویکسین کا اصل فائدہ یہ ہوگا کہ جس ملک میں بھی لگے گی وہاں آبادی گھٹ جائے گی۔۔۔۔!! آپ نے کیوں سوال نہیں اٹھایا کہ بھلا ویکسین کا آبادی گھٹانے سے کیا تعلق ہے؟ کیسے گھٹائے گی؟

مزید پڑھیں: ویکسین نہ کرانےوالے افراد کی موبائل سمز بند کرانےکی سفارش

یہ سب باتیں آپکے لیے اگر کوئی معنی نہیں رکھتیں اور آپکے کان بھی کھڑے نہیں کرتیں تو پھر مبارک ہو آپ صحیح معنی میں دجال کے غلام بننے کے حقدار ہیں۔

مجھے پورا یقین ہے کل کو آپ نے دجال کو بھی خدا تسلیم کرلینا ہے اور مجھ سے لڑ پڑنا ہے کہ تم جھوٹے ہو دجال ہی اصل خدا ہے تم سازسی نظریات گھڑنے والے فسادی ہو وغیرہ وغیرہ، اگر مسلمانوں کو فتنوں سے خبردار کرنا فساد پھیلانا ہے۔
تو ہاں میں فسادی ہوں۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *