قومی جرگے میں قبائلی اضلاع کے پیش کردہ 15 نکاتی مطالبات

الرٹ نیوز : ترقیاتی عمل میں خواتین کی شمولیت اور لاپتہ افراد کے مسئلے کے قانونی حل سمیت قومی جرگے میں 15 مطالبات پیش کیے گئے ۔ پشاور کے ثقافتی مرکز نشتر ہال میں سابقہ فاٹا کی تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان کا ایک قومی جرگہ ہوا جس میں فاٹا انضمام کے بعد کی صورت حال، ضروریات، عملی اقدامات اور مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔

جرگے میں قبائلی اضلاع کے عوام بھی موجود تھے۔ جرگے کا مقصد حکومت پر واضح کرنا تھا کہ اس میں پیش کیے جانے والے مطالبات حقیقت میں قبائلی عوام کی آواز ہیں۔

باجوڑ سے تعلق رکھنے والے جرگے کے کوآرڈینیٹر محمد حسیب خان سلارزئی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جرگے میں پیش کیے جانے والے مطالبات سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں اور قبائلی اضلاع کے دیگر شخصیات کے درمیان ہونے والی بات چیت میں سامنے آئے تھے۔ بعد میں فیصلہ ہوا تھا کہ جرگے میں یہ مطالبات عوام کی موجودگی میں منظور کیے جائیں گے۔

حسیب خان نے کہا ہے کہ’اب جب ہم ان مطالبات پر صوبائی یا وفاقی حکومت سے بات کریں گے تو ہمیں عوامی تائید بھی حاصل ہوگی ۔ انہوں نے بتایا کہ آج کا جرگہ پچھلے کئی اجلاسوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس حوالے سے تجویز پیپلزپارٹی کے ایک اجلاس میں سابقہ قبائلی علاقوں کچھ لوگوں نے دی تھی۔

سابق فاٹا تحفظات اور مسائل کے لیے گرینڈ جرگہ منعقد کرنے کی تجویز ، فوج کے دفاعی بجٹ میں کمی کا بڑا فائدہ سابقہ فاٹا کو ہوگا: وزیرِ خزانہ خیبر پختونخوا

اس تجویز کی روشنی میں 28 نومبر 2019 کو تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی ایک نشست کا اہتمام کیا گیا جس کے نتیجے میں موجودہ مطالبات سامنے آئے اور تمام پارٹیوں کے قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے ان پر اتفاق کیا۔ حسیب سلارزئی نے مزید بتایا کہ’11 ستمبر کو ایک پریس کانفرنس کر کے میڈیا نمائندوں کو ان مطالبات سے آگاہ کیا گیا تھا، ساتھ ہی فیصلہ کیا گیا تھا کہ 11 جنوری کو ایک جرگے میں قبائلی عوام کی موجودگی میں ان مطالبات کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔

خیبرپختونخوا حکومت ضم شدہ اضلاع کی بہتری اور ترقی کے لیے کئی اعلانات کرچکی ہے۔ حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کے بجٹ میں ان علاقوں کے لیے 83 ارب روپے مختص کیے۔ یہ رقم صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، کھیلوں، ثقافت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں پر خرچ کی جانی ہے۔ مزید برآں سماجی بہبود کے محکمے کے لیے 76 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

تاحال زیادہ تر منصوبوں کے لیے فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں۔ دسمبر 2019 میں وزیراعلیٰ محمود خان نے وارننگ بھی دی تھی کہ تمام ادارے مقررہ وقت میں منصوبے مکمل کریں۔ ان تمام حقائق کے باجود قبائلی عوام خوش نہیں ہیں اور انہوں نے عوامی مسائل حل کرنے کے لیے حکومت کے سامنے مطالبات رکھے ہیں جن کی تفصیل یہ ہے۔

1۔ صوبائی حکومت کے فنڈز کے علاوہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں بھی قبائلی علاقوں کے لیے تین فیصد حصہ رکھا جائے۔

2- حکومت مائینز اینڈ منرل ایکٹ پر نظر ثانی کرے۔

3- قبائلی علاقوں کے لیے عبوری اور خصوصی مراعات کا پیکج جاری رکھا جائے۔ حکومت خاص طور پر صحت اور تعلیم میں دی جانے والی مراعات جاری رکھے۔ محصولات، کوٹے، روزگارکی رعایت سمیت لیویز اور خاصہ دار فورس کے لیے قانونی ڈھانچہ برقرار رکھا جائے جیسا کہ سرتاج عزیز رپورٹ میں اتفاق کیا گیا تھا۔

4- ترقیاتی پروگراموں اور پراجیکٹس میں سابقہ فاٹا کو ترجیح دی جائے۔

5- تمام قبائلی اضلاع میں ڈونرز اور فلاحی اداروں کی سرگرمیاں شروع کی جائیں۔

6- حکومت ترقیاتی منصوبوں اور اصلاحات پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے فوری طور پر ارکان پارلیمنٹ اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل کمیٹی قائم کرے۔

7- چھبیسویں آئینی ترمیم کو سینیٹ سے بھی منظور کروایا جائے جس کی قومی اسمبلی پہلے ہی منظوری دے چکی ہے۔

8- حکومت سابقہ فاٹا میں دوبارہ مردم شماری کروائے کیونکہ قبائلی عوام حالیہ مردم شماری کے اعداد و شمار مسترد کر چکے ہیں۔

9- سی پیک میں فاٹا کو منصفانہ بنیادوں پر فوقیت دی جائے۔

10- حکومت بجلی اور توانائی کے شعبوں میں سبسڈی کی مد میں سابقہ فاٹا کو سالانہ دو ارب روپے دیتی رہے۔

11- حکومت ڈیورنڈ لائن کے اطراف آباد قبائل کی سرحد کے آرپار آمدورفت کے لیے سہولیات فراہم کرے۔

12- سابقہ سرحدی اضلاع (ایف آرز) سے متعلق انتظامی امور کے مسائل کو جغرافیائی توسیع شناخت اور ترقیاتی ضروریات کو مد نظر رکھ کر حل کیا جائے۔

13۔ لاپتہ افراد کے مسئلے کو حکومت قانونی طور پر حل کرنے کی کوشش کرے۔

14- سابقہ فاٹا میں بحالی کے کام پر فوری توجہ دی جائے۔

15- قبائلی اضلاع کی خواتین کو بھی ترقیاتی عمل میں شامل کیا جائے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *