عارف نظامی صحافت کا ایک درخشاں باب اپنے اختتام کو پہنچا

لاہور () پاکستان میں اخبارات کے مدیروں کی ایک تنظیم سی پی این ای کے منتخب صدر۔ 1926ء میں ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جہاں صحافت ہی اوڑھنا بچھونا تھی۔

عارف نظامی کے والد حمید نظامی نے 23 مارچ 1940ء کو عین اس دن لاہور سے نوائے وقت کا پہلا پرچہ شائع کیا جب لاہور کے منٹو پارک میں قرارداد پاکستان پیش کی گئی۔ ان کے والد صرف پینتالیس برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

مزید پڑھیں:کراچی : CPNE کا موجودہ اسٹینڈنگ کمیٹی کا تسلسل مئی 2022ء تک برقرار

مجید نظامی اپنا الگ اخبار ندائے ملت نکال چکے تھے۔ عارف نظامی کی والدہ نے نوائے وقت کی ادارت سنبھالی اور اپنے کم سن بچوں کے ساتھ اخبار چلانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہیں۔ چند ہی مہینوں میں نوائے وقت کی اشاعت بہت کم رہ گئی تھی۔ دیور بھابھی میں صلح کے بعد مجید نظامی روزنامہ نوائے وقت کے انتظامی اور ادارتی سربراہ ٹھہرے، بھتیجے عارف نظامی نے ایک عام رپورٹرکی حثیت سے اخبار میں کام کرنا شروع کیا اور سنہ انیس سو چھیاسی میں اس دور کے پنجاب کے واحد نجی انگریزی اخبار ’دی نیشن‘ کی بنیاد رکھ دی۔

پرنٹ لائن پر عارف نظامی کا نام شائع ہوا۔ یوں عارف نظامی کا شمار پاکستان کے صفحہ اول کے صحافیوں میں ہونے لگا۔ ستمبر دو ہزار نو میں انہیں اپنے چچا سے اختلافات کی بنیاد پر روزنامہ دی نیشن سے نکال دیا گیا۔

مزید پڑھیں:میر شکیل الرحمان کی ہمشیرہ کے انتقال پر CPNE کا اظہار تعزیت

عارف نظامی نے خاندانی اختلافات کے باعث 2010ء میں انگریزی اخبار ‘دی نیشن’ کو خیر باد کہہ کر ‘پاکستان ٹو ڈے’ کی بنیاد رکھی تھی۔

2013ء میں عارف نظامی کو نگراں وفاقی وزیر برائے اطلاعات و پوسٹل سروسز بنایا گیا اور 2015ء میں آپ نجی ٹی وی چینل ‘چینل 24’ کے سی ای او بنے جہاں سے آپ ایک پروگرام کی میزبانی بھی کرتے تھے 21 جولائی 2021ء کو لاہور میں وفات پاگئے-

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *