دیار خلافت کا سفر شوق

دیار خلافت کا سفر شوق

دیار خلافت کا سفر شوق (مولانا ڈاکٹر قاسم محمود)

قسط 70

یہ انوارات و برکات سے بھرپور ایک ایسی محفل تھی کہ اس کی حلاوت، شیرینی اور الطاف ربانی کے احساس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ وہی اس کا درست اندازہ کر سکتا ہے جسے بہ ذات خود ایسی نورانی مجلسوں میں شریک ہونے کی سعادت حاصل رہی ہو۔۔۔

وطن سے دور، بزرگوں، اولیاء اللہ، مجاہد ین اسلام اور امت کے اہم اور خوش نصیب لوگوں کے انفاس گم گشتہ سے معمور اس قطعہ ارضی میں اللہ رب العالمین کے ذکر، رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی احادیث کی اجازت اور بیان و دعا کی محفل منعقد کرنا ایک بہت ہی با برکت تجربہ اور منفرد سعادت و اعزاز کی بات تھی،

جو الحمد للہ اہل علم اور اہل اللہ کی صحبت کے طفیل ہمیں حاصل رہی، جس پر میں اس خوبصورت سفر کے اپنے تمام رفقاء بالخصوص قابلہ سالار حضرت قائد وفاق مولانا محمد حنیف جالندھری حفظہ اللہ (جو ان سطور کی تحریر کے وقت کچھ دنوں سے علالت، اعذار و عوارض کی بنا پر زیر علاج اور صاحب فراش ہو کر ہماری دعاؤں کے حاجتمند ہیں،

اللہ تعالیٰ حضرت کو مکمل و کامل شفا اور صحت و عافیت کے ساتھ طویل متحرک و ثمر بار زندگی عطا فرمائے، آمین) حضرت مولانا مفتی محمود الحسن مسعودی، حضرت مولانا بستوی، مولانا اقبال نقشبندی، مولانا عبد الحسیب، مولانا نقیب حقانی سمیت سب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ ان کی معیت میں ایسی خوبصورت نورانی محافل کا ہمیں کئی بار موقع حاصل ہوا۔۔۔

اجازت حدیث کے بعد حضرت مفتی صاحب نے از راہ خورد نوازی ہمیں دعا کروانے کا حکم دیا۔۔۔۔ اس نورانی محفل کی تاثیر تھی کہ دعا کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف دعا یوں بھرپور انداز میں لبوں پر مچل رہا تھا جیسے رحمت حق جوش میں ہے اور منتظر کھڑی ہے کہ حرف مدعا زبان پر آئے تو بڑھ کر قبولیت کی مہر اس کی پیشانی پر ثبت کر دی جائے۔۔۔۔

اہل اللہ نے اپنے تجارب سے یہ نکتہ ارشاد فرمایا ہے کہ دعا کے وقت مکمل حضوری ہو، دل مجمتع اور دماغ رب کریم کی رحمتوں کے حصول کی طرف یکسوئی سے متوجہ ہو۔۔۔ اور اس دوران یہ احساس غالب ہو جائے اور دل میں سکون بھرا یہ اطمینان گھر کر جائے کہ دعا سنی جا رہی ہے تو یہ قبولیت کی نشانی ہوتی ہے۔۔۔

ہمیں بھی طمانیت قلب والی اس دلنشین کیفیت نے پوری طرح اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔۔۔ واضح محسوس ہو رہا تھا کہ رحمت حق مکمل متوجہ ہے اور بہ زبان حال اعلان کر رہی ہے کہ جو بھی مانگنا ہے آج کی اس محفل میں مانگ لو، بخش دیا جائے گا۔۔۔ ہم نے اس احساس کے اجاگر ہوتے ہی مانگنے کی رفتار تیز کر دی اور وارفتگئ شوق میں جو کچھ بھی مانگ سکتے تھے، جی بھر کر مانگ لیا۔۔۔۔

ہماری کیفیت یہ تھی کہ جیسے کسی بچے کو من پسند کھلونوں کی سجی سجائی دکان میں لے جا کر یہ کہہ دیا جائے کہ تمہارے پاس فقط اتنے منٹس ہیں، اس محدود وقت میں اس دکان سے جتنے کھلونے اٹھا سکتے ہو، مفت میں اٹھا لے جاؤ تو اس کے جذب و کیف کا جو عالم ہوگا، وہی اس وقت ہمیں بھی درپیش تھا۔۔۔۔ خوب خیریں اپنے، اپنے اہل و عیال، اہل حقوق، رشتہ داروں، تعلق داروں، دوست احباب اور جمیع امت کیلئے مانگیں۔۔۔۔ قوی امید ہے کہ بارگاہ ذو المنن میں قبول و منظور ہوئی ہوں گی۔۔۔

اس دوران مجھے یہاں کچھ وقت تنہائی کا میسر آیا تو میں نے حضرت شمس تبریز علیہ الرحمہ کے ساتھ مراقب ہونے کا فیصلہ کیا۔۔۔ دل میں سفر کے آغاز میں ہی یہ ارادہ پروان چڑھا ہوا تھا۔۔۔

یہ ارادہ کرکے ہی آیا تھا کہ قونیہ میں دونوں حضرات کی قبور پر مراقبہ ضرور کروں گا۔۔۔ اب یہاں اللہ نے موقع عنایت فرمایا تو اللہ کا نام لیکر حضرت کے پائنتی پر ایک طرف مراقب ہو بیٹھا۔۔۔ مراقبہ، کشف قبور، مکاشفہ تصوف کی مخصوص اصطلاحات ہیں، جو تصوف سے کچھ درک رکھتا ہو، وہی ان کی حقیقت کو سمجھ سکتا ہے، اس دائرے سے باہر کیلئے تصوف کی بہت سی باتیں ناقابل فہم بلکہ بہت سوں کیلئے ناقابل ہضم بھی ہوتی ہیں۔۔۔

تاہم مجھے یہاں تنہائی کے کچھ لمحات میسر آئے تو میں فوری حضرت شمس تبریزی علیہ الرحمہ کی قبر میں پائنتی کی طرف ایک کنارے پر مراقب ہوا۔۔۔

جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *