عظمت کی عظمت نامہ

تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

ہمارے بہت ہی پیارے اور مخلص دوست، فعال سماجی کارکن اور توانائی سے بھرپور نوجوان اور با صلاحیت صحافی عظمت خان صاحب المعروف عظمت علی رحمانی ماشاءاللہ بہت قلیل عرصے میں دوسری کتاب کے مصنف بن گئے ہیں۔۔۔ عظمت بھائی کراچی کے دینی و مذہبی حلقوں میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔۔۔ عظمت بھائی نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز روزنامہ اسلام سے کیا۔۔۔ اس کے بعد وہ روزنامہ جسارت میں کچھ عرصہ رہے۔۔۔ پھر انہوں نے کراچی کی تحقیقاتی صحافت کے اہم نام موقر روزنامہ امت کا رخ کیا اور طویل عرصے تک روزنامہ امت کے ذریعے قلمی جہاد میں حصہ لیا اور ہر شعبے اور ہر محاذ پر اپنی خدا داد صلاحیتوں، جانفشانی، جہد مسلسل، اخلاص اور بہادری کی بدولت سرخرو ٹھہرے۔۔۔

عظمت بھائی کے کردار اور شخصیت کی عظمت یہ ہے کہ وہ بہت ہی ملنسار، دوستوں کے دوست، مخلص، وفادار، ساتھ نبھانے والے، سادہ مزاج اور متواضع انسان ہیں۔۔۔ اور ان لوگوں میں سے نہیں جو مقام و منصب کو ذرا سا پر لگتے ہی آپے سراپے میں نہیں سماتے۔۔۔ ایسے لوگوں کو بڑا منصب اور مقام راس نہیں آتا۔۔۔ قسمت کی خوبی سے ذرا بھی رتبہ بلند ہوتے ہی انہیں بد ہضمی شروع ہوجاتی ہے۔۔۔ عظمت بھائی سے ان کی صحافتی خدمات کے دائرے سے تعلق کی بنا پر برسوں سے شناسائی ہے، مگر برسہا برس کے ان گزرے ماہ و سال میں ہم نے ان میں ہمیشہ اخلاقی اقدار کی پاسداری اور وضعداری ہی کی خو بو پائی۔۔۔۔

عظمت خان محنتی اور جفاکش نوجوان ہیں۔۔۔ محنت اور جد و جہد سے ہی مقام بنانے پر یقین رکھتے ہیں۔۔۔ اور ہمیشہ ہی انہوں نے ابتدا سے اب تک جفاکشی کو شعار بنا رکھا ہے اور یہی ان کی بڑی کامیابی اور ہر نوجوان کیلئے سب سے موثر زاد راہ ہے۔۔۔ آج کل ہر نوجوان کامیاب ہونا چاہتا ہے اور کامیابی کے خواب دیکھتا ہے۔۔۔ یہ درست ہے کہ کامیابی کیلئے پہلے کامیابی کا خواب اور سوچ ترتیب دینی چاہئے۔۔۔ وہ شخص کامیابی کا زینہ نہیں چڑھ سکتا جو پہلے سے کامیابی کا عزم پلے سے باندھے ہوئے نہ ہو۔۔۔ چنانچہ کامیابی کا خواب دیکھنا بڑی اہم بات ہے مگر ہمارے نوجوانوں کی اکثریت اس خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے عمل کے اصل تقاضوں کی طرف آنے سے گریز کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بس وہ کچھ کئے بغیر اور قدم اٹھاتے، مشکلات کی گھاٹیاں عبور کئے بغیر ہی کامیابی کی منزل سے ہمکنار ہوں۔۔۔ وہ چاہتے ہیں رات کو سوئیں تو خواب میں خود کو کامیاب انسان دیکھیں اور صبح اٹھتے ہی دنیا بھی انہیں بڑا انسان دیکھے۔۔۔ منزل ایسے کبھی نہیں ملتی۔۔۔ میں ہر نوجوان کو یہی کہتا ہوں کہ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔۔۔ کامیابی کیلئے تین باتیں بے حد ضروری ہیں۔۔۔ سب سے پہلے ہدف کا تعین، یہ طے کرنا کہ آپ کس شعبے اور میدان میں کامیابی چاہتے ہیں۔۔۔ دوسرے سیکھنے کا جذبہ اور تیسرے مسلسل محنت۔۔۔ ان تین چیزوں کے بغیر آج تک کوئی بھی شخص کامیاب قرار نہیں پایا ہے۔۔۔ ایک فارسی شاعر بھی یہی تلقین کرتے ہوئے کہتا ہے کہ

کسبِ کمال کن کہ عزیزِ جہاں شوی

دنیا میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو تو خود کو گھلا کر اپنے اندر کمال پیدا کر لو۔۔۔ عظمت بھائی کی یہی بات اچھی لگتی ہے کی انہوں نے نوجوانی میں ادھر ادھر کے علائق سے دلبستگی میں وقت ضائع کرنے کے بجائے لمحات زندگی کی قدر و قیمت جانی، اپنا ہدف متعین کیا اور محنت کے بل پر کسب کمال کیا۔۔۔ آج وہ ہم سب کے پیارے اور قابل احترام دوست ہیں تو اپنے کمال فن اور ہنر پروری کی بدولت ہی ہیں۔۔۔

عظمت خان تقریباً دس سال کوچہ صحافت کی خاک نوردی کے بعد اپنی صحافتی تحریروں کا مجموعہ “عظمت نامہ” کے عنوان سے منظر عام پر لے آئے ہیں۔ عظمت خان کے فکر و فن کا سفر ابھی جاری ہے۔ ساتھ ہی ان کا سیکھتے رہنے اور نت نئے تجربات کرنے کا جذبہ بھی مسلسل توانا اور جوان ہے۔۔۔ جو اس بات کی علامت ہے کہ پیشہ ورانہ زندگی کے تجربات کے مزید کئی سنگ میل عبور کرنے کے بعد امید ہے پہلے سے بہتر اور پختہ فکر پر مشتمل “عظمت نامہ” اپنے قارئین کو پیش کریں گے۔

عظمت نامہ کی پہلی جلد میرے سامنے ہے۔۔ جو ماشاءاللہ ہر طرح کے صوری اور معنوی خوبیوں کا حسین مرقع ہے۔۔۔ “عظمت نامہ” اگر ایک دوست عزیز عظمت خان کے رشحات فکر کا مجموعہ ہے تو دوسری طرف ہمارے دوسرے قابل و لائق فاضل عالم دوست جناب مولانا قطب الدین عابد کا خوبصورت “نشریہ” بھی ہے۔۔۔ کہ یہ کتاب جناب قطب الدین عابد صاحب نے اپنے طباعتی ادارے “آثار۔۔۔ مرکز تحقیقات و اشاعت” کے اہتمام سے شائع کی ہے۔۔۔ اس طرح یہ کتاب ہمارے دو بہت ہی پیارے دوستوں کی فکری و مادی محنتوں کا ما حصل ہے۔۔۔ امید ہے احباب اس عمدہ کاوش کا دل و جان سے خیر مقدم کریں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *