مرحوم ممتاز بھٹو

مرحوم ممتاز بھٹو

مرحوم ممتاز بھٹو

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو شہید کے ٹلینٹیڈ #کزن بزرگ سیاستدان اور سابق گورنر و وزیراعلی سندھ ممتاز بھٹو بھی رب کے حضور پہنچ گئے اللہ تعالٰی مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے۔

ویسے تو مرحوم سے متعدد بار سیاسی سرگرمیوں کے دوران ملاقاتیں اور گفتگو ہوئی۔ مرحوم کے بارے میں یہ تاثر عام تھا کہ وہ کافی سخت ہیں، مگر 19 دسمبر 2019ء کو کراچی میں انکی رہائش گاہ پر انٹرویو کے سلسلے میں تقریبا دو گھنٹے طویل ون ٹو ون ملاقات رہی

اس دوران شہید بھٹو سے قربت اور مرحومہ بے نظیر بھٹو سے دوری، پیپلزپارٹی سے جدائی، وفاقی سیاست سے قوم پرستی کی سیاست اور کچے کے ڈاکوؤں تک کافی تلخ سوالات بھی ہوئے ،مگر مرحوم نے انتہائی تحمل سے تسلی بخش جواب دیا اور ہم مرحوم کی سختی والا تاثر تقریباً ختم ہوا۔

مرحوم موجودہ پیپلزپارٹی کا پورا نام نہیں لیتے بلکہ “پیپلے” کہتے تھے۔ اس ضمن میں سوال پر مسکرائے اور خاموش ہوگئے۔

اس ملاقات میں میرا بیٹا محمد اسامہ ناصر بھی ساتھ تھا ، اس کو قریب بٹھایا اور لائبریری نما دفتر میں بتایا کہ بڑے ہوکر یہ کتابیں ضرور پڑھنا ، ان کے پاس بعض نایاب کتب بھی تھیں اور جس انداز میں کتابیں موجود تھیں اس سے لگتا ہے کہ انکو کتاب اور مطالعہ سے عشق تھا، کیونکہ جس کتاب کے بارے میں پوچھا تقریبا اس کا خلاصہ بیان کیا۔

انکے اس گھر میں پریس کانفرنس اور دیگر سیاسی سرگرمیوں کے دوران کئی بار آنا ہواتھا، مگر تہ خانے کے اس دفتر میں پہلی بار ملاقات ہوئی۔

تقریبا 30 سے سال سے مسلسل انتخابی میدان میں ناکامی کے باوجود ممتاز بھٹو مرحوم کی اتنی بڑی قد آور شخصیت تھی کہ غالبا اس پورے عرصے میں جب بھی سندھ میں پیپلزپارٹی کے سوا کسی بھی جماعت یا اتحاد یا مشرف آمرانہ دور میں جب بھی سندھ میں نگراں وزیر اعلی یا گورنر کی تقرری کی بات ہوتی

مرحوم ممتاز بھٹو کا نام میڈیا اور فائل میں موجود ضرور ہوتا، 2013ء میں مسلم لیگ (ن) کے دور میں صدر پاکستان کے لئے بھی انکا نام زیر غور رہا، مگر قرعہ مرحوم ممنون حسین کے نام کا نکلا(مرحوم ممنون حسین کا انتخاب کیوں اور کیسے ہوایہ بھی الگ داستان ہے ، اس پر پھر کبھی، ان شاءاللہ تعالٰی)۔ اسی طرح سندھ میں جب بھی پیپلزپارٹی کے خلاف کوئی بڑا سیاسی اتحاد بنتا تو ممتاز بھٹو کے بغیر وہ نامکمل قرار پاتا، یعنی مرحوم اپنی ذات میں انجمن تھے۔

ممتاز بھٹو سندھ کا ایک بڑا نام تھا اور سندھ ایک توانا آواز سے محروم ہوگیا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *