قربانی کے گوشت کو گھر پہ کیسے محفوظ کیا جائے

قربانی کے گوشت کو گھر پہ کیسے محفوظ کیا جائے

سوال ہے کہ قربانی کےگوشت کو گھر پہ کیسے محفوظ کیا جائے

بازار سے دستیاب گوشت زیادہ دیر تک اچھی حالت میں رہتا ہے… جبکہ قربانی کا گوشت گھروں میں سٹور کرتے ہیں تو فریج سے بلکہ فریج میں پڑی ہر چیز سے گوشت کی بو آنے لگتی ہے

… پھر جب پکایا جاتا ہے تب بھی ذائقہ بدلا ہوتا ہے۔

تفصیلی جواب

جناب عالی اس کا قصور وار آپ کا قصائی ہے۔

اس نے ذبیحہ درست نہیں کیا گوشت کو ہوا نہیں لگنے دی کچھ دیر لٹکا کر ہوا نہیں لگوائی۔
ذبیحہ میں جانور کی گردن کا منکا کبھی نا توڑنے دیں پہلے تو ساری رگیں سامنے کٹوائیں خون کا بہاؤ بتا دے گا کہ زبح درست ہوا ہے یا نہیں بہت سارا خون نکلے گا۔

 پانی کے پائپ سے جانور پہ کبھی بھی پانی نا ڈالیں کہ جانور ٹھنڈا جلدی ہو جائے گا سارا خون خارج نہیں ہو گا۔ اس طرح قصائی کی جلدی میں جانور حرام ہو جاتا ہے۔

 گردن کا منکا توڑنے سے بھی جانور مر جاتا ہے سارا خون خارج نہیں ہوتا۔
گردن موڑ کر اس کا منکا توڑنا اسے تکلیف در تکلیف میں مبتلا کرنا ہے۔بلکہ چاہیے کہ جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کا تمام خون نکل جائے پھر ٹھنڈا ہو کر بے حس و حرکت ہو جانے تک اس کی کھال اتارنے میں جلدی نہ کی جائے۔ جبکہ حرام مغز کاٹ دینے سے جسم دم مسفوح سے پوری طرح پاک نہیں ہوتا، کیوں کہ حرام مغز کے ذریعے دماغ اور جسم کا رابطہ قائم رہتا ہے اور اس کے ذریعے بہنے والے خون کی نجاست سے جسم پاک ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں علماء کا موقف یہ ہے کہ ذبح کے وقت جلد کاٹنے کے بعد درج ذیل رگیں کاٹی جائیں۔

٭ حلقوم:… اس سے مراد سانس کی رگ ہے، اس کے کاٹنے سے سانس لینے کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔
٭ مری:… کھانے پینے کی نالی، اس کے ذریعے چارہ اور پانی وغیرہ معدہ میں جاتا ہے، اس کے کاٹنے سے کوئی غذا وغیرہ معدہ میں نہیں جا سکتی، اسے بھی کاٹنا چاہیے۔
٭ الو دجان:… اس سے مراد وہ دو رگیں جو حلقوم اور مری کے اردگرد ہوتی ہیں، ان کے ذریعے خون گردش کرتا ہے، اس کے کاٹنے سے دم مسفوح نکل جاتا ہے۔
ان کے بعد گردن کی ہڈی کا جوڑ ہوتا ہے، یہی وہ جوڑ ہے جسے گردن پیچھے کی طرف موڑ کر کھولا جاتا ہے اور اسے ہم منکا ٹوٹ جانے سے تعبیر کرتے ہیں۔ پھر سفید دھاگے کی طرح حرام مغز روئی کی بتیوں کی شکل میں نظر آتا ہے۔ اس کے کٹ جانے سے جسم اور دماغ کا تعلق ختم ہو جاتا ہے۔
ذبح کرتے وقت صرف گردن کی ہڈی تک کاٹنا چاہیے، حرام مغز کو کاٹنا ذبح کے اصولوں کے خلاف ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ایک عنوان ’’نحر اور ذبح کا بیان‘‘ قائم کیا ہے۔ انہوں نے اس کے تحت سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق لکھا ہے کہ وہ حرام مغزکاٹنے سے منع کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ جانور کو اس کی گردن کی ہڈی تک کاٹ کر چھوڑ دیا جائے تا آنکہ وہ ختم ہو جائے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدنا عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ذبح کرتے وقت جانور کی رگیں کاٹنا ہوتی ہیں، میں ان کے ساتھ حرام مغز کوکاٹنا اچھا خیال نہیں کرتا.
جب جانور مکمل ٹھنڈا ہو جائے اور سانس باقی نا رہے تب منکے کی ہڈی کو کھولنا چاہئیے اور سر جسم سے جدا کرنا چاہئیے۔ اس وقت تک جانور کے جسم کا سارا خون خارج ہو چکا ہوتا ہے اور ذبیحہ کا مکمل طریقہ بھی یہی ہے۔
کچھ موسمی قصائی اپنے ہاتھ میں موجود چھری کی نوک کو تکبیر کے فوری بعد حرام مغز میں چبھو کر جانور بے حس کر دیتے ہیں وہ طریقہ درست نہیں۔ کچھ تکبیر پھیرنے کے ساتھ ہی گھٹنا گردن کے پیچھے رکھ کر سر کھینچ کر منکا توڑ دیتے ہیں یہ بھی اصول ذبیحہ کے خلاف ہے۔ جانور کا مکمل خون خارج نا ہو تو جھٹکے والے مردار جانور اور اس جانور کے گوشت کی بو اور ٹیسٹ ایک جیسا لگے گا۔ پکاتے ہوئے بھی مردار جیسی بو دے گا باوجود کہ اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا جانور ہو گا۔
قصائی کے پاس وقت نہیں ہوتا وہ جلدی میں یہ سب کرتے ہیں۔ ان سے تکبیر سنیں کوشش کریں کہ گردن پہ چھری خود چلائیں اگر یہ نا کر سکیں تو باآواز بلند تکبیر پڑھیں تاکہ اگر قصائی بھول رہا ہو تو اس کو یاد آ جائے۔ وہڑا (بڑا جانور) درست ذبیح میں ٹھنڈا ہونے کے قریب ایسے حرکت کرے گا جیسے بھاگ رہا ہے اپنے چاروں پاؤں کو حرکت دے گا اور پانچ سات منٹ کے بعد ایسا ہوتا ہے ذبح کے بعد جبکہ چھوٹا جانور یعنی بکرا چھترا دنبہ ٹھنڈا ہونے کے قریب کانپے گا اس پہ ہاتھ رکھیں تو ہلکی سی لرزش محسوس ہو گی۔ یہ دونوں عمل ہمیشہ ہونا ضروری نہیں لیکن ایسا ہو تو سمجھیں کہ درست ذبح ہو گیا۔الحمدللہ۔

عید والے دن ہر شخص قصائی بنا ہوتا ہے جو اس کام کو جانتا بھی نہیں۔
اسی لئیے جب آپ گوشت محفوظ کرتے ہیں تو اس میں سے بدبو آنے لگتی ہے کیونکہ وہ ذبح کا نہیں گردن کا منکا توڑ کر جھٹکے کا گوشت ہو چکا ہوتا ہے۔
جانور آپکی محنت کی کمائی کا ہے اصلی قصائی جو سارا سال یہ کام کرتا ہو اور دین کو سمجھتا ہو اس کو ذبیحہ کی ذمہ داری دیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ سب درست رہے گا۔
بہتر ہے کہ جانور میں آپکا تیسرا حصہ ہے دو حصے رشتہ داروں اور مساکین میں تقسیم کریں ایک حصہ آپ کا بچا کر رکھنا کوئی عیب نہیں ہے فریج میں گوشت محفوظ کرنے میں کوئی عیب نہیں ہے لیکن ذبیحہ درست کروائیں۔ تو مشکل نہیں ہو گی انشاءاللہ
امید ہے جانور زبح کرواتے وقت ان باتوں کا خیال فرمائیں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *