کرونا کی چوتھی لہر اور کفر کا نظام

کرونا کی چوتھی لہر اور کفر کا نظام

اگر اب بھی ہوش میں نہ آئے۔۔۔
ذوالحجہ کے مبارک دن شروع ہوتے ہی حکومت نے کرونا کی چوتھی لہر کا اعلان کردیا ہے, جو ان کے مطابق پہلی تین لہروں سے زیادہ خطرناک ہے, جسے ڈیلٹا وائرس کا نام دیا گیا ہے اور اس کا تعلق انڈیا سے بتایا گیا ہے

ایک طرف افغانستان میں طالبان کو فتوحات مل رہی ہیں, وہاں اللہ کی مدد اور برکتیں نازل ہورہی ہیں, سب مسلمان اللہ کے نظام پر خوش ہیں, وہاں نہ کرونا کی پہلی لہر آئی, نہ انہیں دوسری لہر کا پتا ہے, نہ طالبان اور ان کی عوام نے تیسری اور چوتھی لہر کا نام سنا ہے, دوسری طرف ہمیں شیطان کے غلام حکمران کرونا کی چوتھی لہر سے خوف زدہ کررہے ہیں, ڈیلٹا وائرس کے نام پر لاک ڈاؤن لگانے کی تیاری کر رہے ہیں,

ہم عوام کے لئے سوچنے کی بات ہے کہ آخر کب تک یہ وائرس کی لہریں آتی رہیں گی؟ کیا ہم ایک کے بعد دوسری لہر کا انتظار کریں؟ کیا ہم ایک کے بعد دوسری ویکسین لگواتے جائیں؟

کرونا کی پہلی تین لہروں اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کے کاروبار ختم ہوچکے ہیں, پرائیوٹ نوکریاں ختم ہونے کی وجہ سے لاکھوں لوگ بےروزگار ہوئے, اکثریت کے گھروں میں فاقے ہو رہے ہیں, لاکھوں لوگ مختلف ذہنی بیماریوں اور ڈپریشن کا شکار ہوگئے ہیں, اب چوتھی لہر جو پہلی تین لہروں سے زیادہ خطرناک بتائی جارہی ہے اس سے کیا نتائج نکلیں گے؟ اس سے ہماری معیشت پر کیا اثرات آئیں گے؟ ہمارے کاروبار پر کیا اثرات ہوں گے؟ ہماری تعلیم, ہماری صحت اور ہمارے مستقبل پر کیا اثرات ہوں گے؟

آخر ہم عوام کیا کریں؟
کیا ہم ان حکمرانوں کے رحم و کرم پر رہیں جو تمام جہانوں کے پروردگار اللہ احکم الحاکمین کے احکام اور قانون پر عمل کرنے کے بجائے کفر کے احکام اور قانون پر عمل کرتے ہیں؟ کیا ہم ان حکمرانوں کے کہنے پر چلتے رہیں جو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے نبی کریم علیہ السلام کے احکام سے بغاوت کرتے ہیں؟ جو حکمران کرپشن کر کے ہم عوام کا حق کھا جاتے ہیں؟ جو حکمران خود بھی فحاشی کرتے ہیں اور ساری قوم میں فحاشی پھیلاتے ہیں؟ کیا ہم ان حکمرانوں کو اپنا خیرخواہ سمجھے جو قرآن کے قانون سے بغاوت کرتے ہیں؟ جو یہود و نصاریٰ کے غلام ہیں؟ کیا ہم ان حکمرانوں کے آسرے پر رہیں جو خود بھی شرابی ہیں اور ملک میں شراب خانے کھول کر قوم میں بھی شراب عام کرتے ہیں؟

 

نہیں ہرگز نہیں! ہم اشرف المخلوقات ہیں, اللہ نے ہمیں عقل اور علم دیا ہے, قرآن مجید ہمارے پاس موجود ہے, ہم اللہ کے آخری نبی سیدالانبیاء علیہ السلام کے امتی ہیں, ہمیں اب اللہ اور رسول علیہ السلام کا نظام قائم کرنا ہوگا, جو نظام ہماری زندگی کا ضامن ہے, جو نظام ہماری دنیا اور آخرت کی بھلائی کا ضامن ہے, جو نظام ہماری معیشت اور صحت کا, عدل و انصاف کا اور راحت و سکون کا ضامن ہے!

کیا ہم اس اللہ کی رحمتوں والے نظام کو قائم نہ کریں جس اللہ نے اپنا تعارف الرحمٰن اور الرحیم سے کروایا ہے؟ کیا ہم اس نبی کریم علیہ السلام کے قانون کو نافذ نہ کریں جو ہر وقت ہماری بھلائی کے خواہشمند رہتے تھے؟

اگر ہم اب بھی اللہ کا نظام قائم نہ کریں, تو یاد رکھیں ہماری دنیا بھی تباہ ہوگی اور آخرت بھی تباہ ہوگی, کیوں کہ اللہ اور رسول علیہ السلام کے نظام کے علاوہ سارے نظام دنیا اور آخرت کی تباہی کا سبب ہیں.

وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡن

اور جو لوگ اللہ کے نازل کیے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ لوگ کافر ہیں.

( سورہ المائدہ 05 : آیت 44 )

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

سو تیرے رب کی قسم ہے یہ کبھی مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ اپنے اختلافات میں ( اے نبی ﷺ ) تجھے حاکم نہ مان لیں پھر تیرے فیصلے پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور خوشی سے قبول کریں.

( سورہ النساء 04 : آیت 65 )

وَمَنْ يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُبِينًا

اور جس نے اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنا لیا سو وہ تو کھلم کھلا خسارہ میں پڑگیا.

( سورہ النساء 04 : آیت 119 )

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *