(قربانی)

قربانی

یقینا آپ نے ناخن تراش لیے ہونگے اور بال کٹوانے کی زمہ داری سے بھی فارغ ہو چکے ہونگے۔

لاکھوں لوگ پچھلے ہفتہ سوشل میڈیا پر اسی یاد دہانی میں مصروف رہے کہ یہ دوکام ذی الحج کے چاند طلوع ہونے سے قبل کرنے ہیں۔

شکر ہے کہ لوگوں نے اس طرح اپنے کٹے ناخنوں اور حجام کی دکانوں کی تصاویر شئیر نہیں کیں جس طرح بقیہ دس دن اپنے قربانی کے جانوروں کا ہر پوز شئیر کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ شریعت کو ان نجی معاملات سے کیا دلچسپی؟؟

کوئی غیر مسلم اگر اسلام کو استیڈی کررہا ہو تو سوچے گا کہ اس نجی عمل کا خارجہ امور،اخلاقیات معاملات،امور حکومت پر ضرور اتنا گہرا اثر پڑتا ہوگا کہ کروڑوں مسلمان ایک دوسرے کو اس شدت یاد دھانی کرا رہے ہیں۔۔
سال بھر میں جب چاھیں ناخن کاٹیں۔کاٹیں نہ کاٹیں۔۔

جب چاھیں جس طرح کے چاھیں بال بڑھائیں،کٹوائیں،منڈوائیں۔۔
یہ شریعت کی دلچسپی کے امور نہیں ہیں۔
معاف کیجئے گا شریعت کو دلچسپی تو روزہ و طواف وحج سے بھی نہیں
جن کو ہم امت کا حکیم کہتے ہیں وہ فرما گئے کہ
ہے طواف وحج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا
کند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغ بے نیام

کوئی اور یہ بات کہنے کی جرات کرتا تو قابل سنگ زنی قرار پاتا لیکن یہ بات اس نے کہی ہے جس کی انگلیاں امت کی نبض پر تھیں تب ہی تو حکیم الامت کہا گیا۔۔۔
شریعت نے لینا دینا تو قربانی کے جانوروں کے خون اور بالوں سے بھی نہیں کہ
نہ تمہارا گوشت پہنچتا ہے نہ خون۔۔۔۔

ہم جیسے ہر نبی کے دور میں رھے ہیں۔۔
حضرت عیسیٰ کی شریعت کے پیروکاروں کے بارے میں کہاگیا تھا ناں کہ مچھر چھانتے ہیں اور اونٹ نگل لیتے ہیں۔
ہم جو ناخن اور بالوں کے لیے کروڑوں پیغام بھیج رہے ہیں .
ہم جانتے ہیں کہ ہم ایک سودی معیشت میں زندہ ہیں؟

وہ سود جس کو ماں سے زنا سے تشبیہ دی گئی۔کسی نافرمانی کے بارے میں اللہ سے جنگ کا استعارہ استعمال نہیں کیا گیا ماسوائے سود کے۔

جتنا ہم ناخنوں کے لیے حساسیت دکھارہے ہیں اس کی دس فیصد حساسیت بھی سود کے خلاف دکھاتے۔اسی طرح مہم چلاتے،اسی طرح بیداری کا پیغام عام کرتے تو بھلا یہ لعنت آج تہتر برس بعد بھی اس آب وتاب سے موجود ہوتی!!
میں ہرگز نہیں کہہ رہی کہ اس حکم میں دو رائے ہیں کہ بال اور ناخن اس دنوں میں نہ تراشو مگر اس کی روح کو تو سمجھیں۔

مدینہ کی ریاست میں سب تو نہیں حج پر جاسکتے تھے مگر آرزو تو ہر دل میں ہوتی ہے۔سو کہاگیا کہ حاجی یوں کرتے ہیں تم بھی یوں کرلو تو ایک فعل میں ان کے مشابہ ہونے کا اجر پالوگے۔
اب حاجی عرفات گئے کیوں ہیں؟؟

اس لیے نہیں کہ آب زم زم اور عجوہ کا حصول آسان ہوگیا یا وہ منتیں مرادیں جو اور درباروں پر پوری ہونے سے رہ گئیں چلو ایک دورازہ اور کھٹکھٹا لیں۔۔۔
فلاں کی بیماری،فلاں کی بے اولادی،فلاں کا اچھا رشتہ۔۔

یہ سب مانگیں ۔۔
کون کافر کہتا ہے کہ اس در پر جھجک کر مانگیں۔
دامن پکڑ پکڑ کر مانگیں۔۔
فقیروں کی طرح پیروں میں پڑ کر مانگیں۔۔
جھولی پھیلا کر مانگیں۔۔
اسی کا تو در ہے جہاں مانگا جائے گا۔۔

مگر یہ جان رکھیں کہ اسوقت کے حاجی پورے شعور کے ساتھ حج پر جاتے تھے کہ
ماں کے پیٹ سے نکلے ہوئے بچے کی طرح پاکیزہ ہو کر آنا ہے۔
عرفات سے امت کی سرفرازی کا جذبہ لے کر پلٹنا ہے۔

ہم پرچیاں لے کر جاتے ہیں دعاؤں کی اور کھجور زم زم کی تقسیم سے حج مکمل ۔ہار پھول مبارک بادیں،دیگیں ،دعوتیں۔
جب نماز کا نہیں پتا کہ قبول ہوئی کہ نہیں تو حج کا کیسے پتا کہ شان دیکھ کر تو لگتا ہے کہ حاجی صاحب کا ہی حج مبرور اور سعی مشکور ٹہری ہے۔

جس ملک میں گھریلو تشدد کے نام پر مغربی تہذیب لائی جارہی ہو،یکساں نظام تعلیم کے نام پر اور درجہ کی سازشیں کی جارہی ہوں۔جب حرم کے دروازے بند ہوں امت پر۔۔۔
وہاں ہم دس دنوں کی برکات میں روزہ اور صدقہ سے آگے بات ہی نہ کریں۔

دیکھیں وہ پیارے لوگ تو روزہ رکھ کر خندقیں کھودنے تھے،جہاد کرتے تھے۔
ان کے ظاہری اعمال کی روح کو نہ جانیں گے تو اللہ کو اعمال مطلوب بھی نہیں ہیں۔شریعت پورے نظام کی بات کرتی ہے جس کو نافذ کرکے دکھایا گیا۔

بڑی پیاری پوسٹ ڈالی کسی نے کہ
ہم باپ بیٹے کی ساری گفتگو بھول گئے صرف”دنبہ” یاد رہ گیا۔

بات سولہ آنے درست ہے کہ قربانی نہ گوشت کا تہوار ہے،نہ طواف وحج کا ہنگامہ مطلوب ہے۔
وہ روح ابراھیمی علیہ السلام مطلوب ہے۔وہ مسلم حنیف درکار ہے جس کو رب خلیل اللہ کہتا ہے۔وابراھیم الذی وفی
وہ ابراھیم جس نے وفا کا حق ادا کردیا
کتنی پیاری یہ گواہی قرآن کی۔

آپ کو ذی الحج کا چاند مبارک
اس ماہ مبارک کی ہر گھڑی مبارک
مگر ذرا سا ٹہریں۔۔۔
پچھلے ایک برس میں ہم نے وفا کا کون کون سا حق ادا کیاہے؟؟
آئیے خود سے پوچھتے ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *