حضرت پیر عزیز الرحمن رحمانی صاحب کی روحانی مجلس

حضرت پیر عزیز الرحمن رحمانی صاحب کی روحانی مجلس

ذکر سکندر بزم رحمانی

 تحریر محمد حماد الله چھاچھی فاضل بنوری ٹاؤن

مشہور ہے مسلمان قبر پرست ہیں مرنے کے بعد کسی کی قدر کرتے ہیں ورنہ زندگی میں تو امام بخاری ؒ جیسی ہستی لوگوں سے تنگ آکر موت کی دعا کرتی دکھائی دیتی ہے یہ امت مسلمہ کا پرانا مرض ہے ہم زندہ علماء ،صلحاء کی ، ان کی زندگی میں صحیح معنوں میں قدر نہیں کرتے، کتنے ہی جید عالم ایسے بھی گزرے ہیں ان کی زندگی میں ان کے کمالات لوگوں سے مخفی تھے وفات کے بعد کسی نے ان پر قلم اٹھایا تو لوگوں کو معلوم ہوا اتنی بڑی ہستی ہمارے درمیان رہ کر چلی بھی گئی اور ہمیں نام تک معلوم نہیں تھا۔

کافی سالوں سے بندہ اس موضوع پر کام کر رہا ہے مقصد یہی ہے ہم زندوں کی قدر کرنے والے بن جائیں۔

مولانا پیر بابر زمان صاحب دامت برکاتہم العالیہ خلیفہ حضرت مفتی فرید صاحب ؒ کئ بار بندہ کی ان الفاظ میں حوصلہ افزائی فرما چکے ہیں کہ حماد فلاں فلاں عالم آپ نے مشہور کئے ورنہ ہم تو جانتے تک نہیں تھے،
یہ بات اس حد تک درست ہے بندہ ایسی کوششیں کرتا رہتا ہے ،

اب آتے ہیں اصل مقصد کی طرف
آج کی تحریر میں جمعہ والے دن بنوری ٹاؤن میں حاضری کے کچھ احوال آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں پھر حضرت پیر عزیز الرحمن رحمانی صاحب کی روحانی مجلس میں آپ کو بھی شریک کرنا چاہتا ہوں،

حضرت پیر صاحب کا مختصر تعارف یہ ہے

کہ آپ امام اہل سنت مفتی احمد الرحمن صاحب ؒ کے بڑے بیٹے ہیں مفتی نظام الدین شامزئی شہید ؒ کے خلیفہ ہیں، دنیا بھر سے آنے والے علماء کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کیا ہوا ہے، سال بھر کے زیادہ اسفار بستی بستی قریہ علماء صلحاء کے قدموں میں حاضری کے سلسلے میں ہوتے ہیں اپنے متعلقین کے دلوں میں علماء صلحاء کی محبت پیوست کرنے کا خصوصی ملکہ رکھتے ہیں،

بنوری ٹاؤن کے قریب حضرت کی خانقاہ ہے جس میں اکثر بندہ نے دنیا بھر سے آئے مہمان علماء کی زیارت کی پورے بنوری ٹاؤن میں اتنے مہمان نہیں ٹھہرتے جتنے حضرت پیر صاحب کی خانقاہ میں ہوتے ہیں ایسا لگتا ہے حضرت پیر صاحب کی خانقاہ جامعہ بنوری ٹاؤن کا ہی مہمان خانہ ہے ،اس خانقاہ میں درویش صفت یہ ہمارے پیر صاحب اپنے حجرہ میں بیٹھ کر دنیا بھر سے آئے مہمانوں کی شاہی خدمت کرتے ہیں ،روحانی مسائل کے شکار لوگوں کا علاج کرتے ہیں
ان کی کوئ بھی مجلس اکابر علماء کے ذکر خیر سے خالی نہیں ہوتی ، میرا تو کہنا ہے ہمارے اکابر کے جتنے حالات واقعات حضرت پیر صاحب کو معلوم ہیں شائد ہی کسی کو معلوم ہوں اس کا مشاہدہ حضرت کی مجلس میں جا کر کیا جا سکتا ہے۔

خیر آئیے اب دور بیٹھے احباب کو کچھ جامعہ بنوری ٹاؤن کی سیر کرواتے ہیں اور پھر پیر صاحب کی مجلس میں چلتے ہیں

جمعہ والے دن مغرب کے وقت جامعہ پہنچا مغرب کی نماز کے بعد مولانا عبد الخالق ہمدرد صاحب کی زیارت ہوئی اسی دوران بندہ نے دیکھا میرے انتہائی مشفق حضرت جی مولانا طلحہ رحمانی صاحب دار التجوید کے باہر کھڑے ہیں حضرت کی خدمت میں حاضری دی معلوم ہوا ایک بڑی سیاسی جماعت کے لیڈر اور ایک نیوز چینل کے ڈائریکٹر تعزیت کے لیے تشریف لا رہے ہیں

مہمان تشریف لائے دفتر اہتمام میں مولانا سعید سکندر صاحب بھی تشریف فرما تھے جیسے ہی دفتر اہتمام میں داخل ہوا حضرت ڈاکٹر صاحب کی نشست پر نگاہ پڑی ڈاکٹر صاحب کی کرسی اٹھا کر فرشی نشست بچھا دی گئی تھی
پوچھنے پر معلوم ہوا کرسی گھر میں حضرت کی اہلیہ محترمہ نے منگوا لی ہے۔

اس دوران مولانا عدنان کاکا خیل صاحب بھی تشریف لے آئے

سعید صاحب حضرت ڈاکٹر صاحب کا ذکر خیر کرتے رہے
بتا رہے تھے اس دفعہ جب وفاق المدارس العربیہ نے حضرت کو اپنا صدر نامزد کیا تو بہت سخت ناراض ہوئے میں نے عرض کیا ابو جی خطرہ تھا کہیں افتراق نہ ہو جائے آپ کی ذات پر سب نے اتفاق کر لیا ۔
بندہ محمد حماد الله کو اچھی طرح یاد ہے وفاق المدارس العربیہ کا صدر بننے کے بعد حضرت ڈاکٹر صاحب کو جب مبارک دی گئی تھی تو حضرت نے فرمایا تھا

“او الله کے بندو ایک آدمی پہلے سے کمزور ہو اس کے اوپر منوں بوجھ ڈال دیا جائے اس سے افسوس کیا جاۓ گا یا مبارک دی جاۓ گی”

خیر مہمانوں کے رخصت ہونے کے بعد حضرت جی مولانا طلحہ رحمانی صاحب اور حضرت قاری زبیر چترالی صاحب کی معیت میں حضرت پیر صاحب کی خانقاہ میں حاضری ہوئی
رسمی گفتگو کے بعد حضرت ڈاکٹر صاحب کا ذکر خیر شروع ہوا

ان میں سے وہ باتیں تحریر کرتا ہوں جو میرے لئے نئ تھیں اس سے پہلے نہ کہیں سنی تھیں نہ پڑھی تھیں۔

حضرت پیر صاحب نے ہمیں اپنے مخصوص انداز میں بتایا حضرت ڈاکٹر صاحب کی حضرت بنوری ؒ سے وفا دیکھیں چھیاسٹھ سال اپنے شیخ کے ادارے میں گزارے جب یہاں تشریف لائے تو جھونپڑیاں تھیں اور فرمایا کہ الله نے آخری آرامگاہ بھی یہاں نصیب فرمائ اہل خانہ بھی یہ ہی کہتے ہیں حضرت ڈاکٹر صاحب ہمارے پاس ہی تو ہیں بس یوں سمجھیں ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں منتقل ہو گئے۔

بندہ نے جب اس سلسلے میں رہنمائی چاہی کہ ہم نے تو سنا تھا اب یہاں کسی کی بھی تدفین نہیں ہو گی تو پھر کیسے ہوگئ تو پیر صاحب نے فرمایا

حضرت ڈاکٹر صاحب ؒ نے کئ دفعہ وہاں جا کر دار التجوید کے ساتھ والی جگہ کی پیمائش فرمائ تھی اور ان کی خواہش تھی حضرت کی وفات کے بعد مجلس شوریٰ نے متفقہ طور پر اس کی اجازت دی اور یوں
وفاق المدارس العربیہ کا صدر ،جامعہ بنوری ٹاؤن کے مہتمم ثالث ،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر یہاں ہمیشہ کے لیے سو گئے

جب حضرت پیر صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو مہتمم ثالث فرمایا تو بندہ سمجھا شاید بھول رہے ہیں جس کی پھر پیر صاحب نے وضاحت فرمائ کہ دیکھیں حضرت بنوری ؒ تو بانی ہیں بانی کو مہتمم نہیں کہا جاتا لہذا میری تحقیق کے مطابق مہتمم اول حضرت مفتی احمد الرحمن ؒ ہیں خیر یہ نیا علمی نقطہ ہمیں سمجھ آیا اس موقع پر حضرت جی مولانا طلحہ رحمانی صاحب نے فرمایا بھائ جان میرا جو مضمون چار قسطوں میں آرہا ہے اسمیں تدفین کے مناظر کی منظر کشی بھی ہے آپ بھی کیوں کہ لحد میں اتارنے میں شریک تھے اس حوالے سے آپ کا بھی ذکر ہو گا۔

 

اس موقع پر یہ بات بھی تبصرے میں آئی اگر جامعہ بنوری ٹاؤن کی مجلسِ شوریٰ تدفین کی اجازت نہ دیتی تو کیا کرتے یہ معلومات بھی بندہ محمد حماد الله کے لیے انتہائی دلچسپ تھیں مفتی نظام الدین شامزئی شہید ؒ مولانا یوسف لدھیانوی شہید ؒ جہاں مدفون ہیں پھر اس جگھ کا زیادہ احتمال تھا اس موقع پر یہ بات بھی سامنے آئی ابھی تک جامعہ بنوری ٹاؤن کا کوئی قبرستان نہیں ہے جس کی کوشش جاری ہے گورنر سندھ نے قبرستان کی جگھ دینے کی یقین دہانی کروائ ہے۔

 

دار العلوم کراچی کے قبرستان کا ذکر ہوا تو پیر صاحب نے فرمایا جب مفتی ولی حسن ٹونکی ؒ کی دار العلوم کے جدید قبرستان میں تدفین ہوئی تو لوگ کہتے تھے ان کو پرانے قبرستان میں دفنانا چائیے تھا لیکن مفتی جمیل خان شہید ؒ مطمئن تھے اور فرماتے تھے حضرت مفتی صاحب ؒ کی برکت سے یہاں اور بھی نورانی ہستیوں کی تدفین ہو گی ،آج ایسا ہی ہے دار العلوم کراچی کا جدید قبرستان بھی تقریباً مکمل ہو گیا ہے۔

 

اس موقع پر ایک اور بات بھی آپ کو بتاتا چلوں دارالعلوم کراچی کے ابتدائی زمانہ میں اگر کوئی فوت ہو جاتا تو تدفین کے لئے میت کو شرافی گوٹھ کے جایا جاتا مفتی رشید احمد لدھیانوی ؒ کی بیٹی کی جب وفات ہوئی تو حضرت مفتی صاحب کے راۓ پر دار العلوم کراچی میں قبرستان کی ابتدا کی گئی اور پہلی قبر مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب ؒ کی بیٹی کی ہوئ افسوس مسجد کی جدید تعمیر کے بعد اب اس قبرستان کی پہلی قبر موجود نہیں ہے،

 

اس موقع پر مولانا طلحہ رحمانی صاحب نے ہمیں بتایا کہ شہید ناموس صحابہ ڈاکٹر عادل خان شہید ؒ نے جامعہ فاروقیہ فیز ٹو میں تقریباً پانچ ایکڑ جگھ قبرستان کے لئے رکھی تھی اور مجھے فرمایا تھا جہاں بھی کوئی طالب علم فوت ہو جائے ہمارے حوالے کر دیا جائے ہم اس کی خود تدفین کریں گے اور کچھ ضروری شرائط کے ساتھ علماء کرام کی تدفین بھی یہاں کرنے کی اجازت ہے ،

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *