دیار خلافت کا سفر شوق قسط نمبر 68

تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

روایت کے مطابق حضرت شمس تبریز چالیس دن نے اس حال میں مولانا روم کو خلوت میں تعلیم و تزکیہ کے مراحل سے گزارا کہ دونوں کا ضروریات زندگی کے تقاضوں کے علاوہ گھر سے باہر نکلنا یکلخت موقوف ہوگیا۔ یہ صورت حال مولانا روم کے ارادت مندوں، عقیدت کیشوں اور شاگردان با صفا کیلئے سخت ناگواری اور دلسوزی کا باعث بن گئی۔۔۔۔ وہ دن گزرنے کے ساتھ ان کا اضطراب شدید رنج اور آخر میں غیظ و غضب کے آتشدان میں سلگنے لگا۔۔۔ وہ اس بات سے سخت نا خوش تھے کہ باہر سے آئے ایک مجہول الحال شخص نے ان کے شیخ کو ان سے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔۔۔ انہیں کیا خبر تھی کہ ان کے شیخ نے جس اجنبی شخص کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا ہے وہ کتنا بڑا عارف اور ولی ہے۔۔۔ وہ شیخ کے مقام و مرتبہ سے واقف نہ تھے اور اس بات سے بھی آگاہ نہ تھے کہ آخر ان کے شیخ نے اس نو وارد شیخ کو اتنا مقام کیوں دے رکھا ہے کہ درس و تلقین موقوف کرکے اپنے شاگردوں اور محبت کرنے والوں کا وقت بھی اس شیخ پر نثار کر دیا ہے۔۔۔

محبوب استاد سے مہجوری کا ایک ایک لمحہ شاگردوں اور متوسلین کیلئے بے نہایت شاق گزر رہا تھا۔۔۔ آخر کار حضرت شمس تبریز کو بھی باہر کے احوال اور اشتعال انگیز ماحول کی بھنک پڑ گئی، چنانچہ چالیس دن پورے ہونے کے بعد ایک دن اچانک وہ کسی پہر یوں غائب ہوگئے کہ کسی کو پتہ نہ چلا شیخ کس طرف چلے گئے۔۔۔۔ شیخ کے جانے کے بعد شاگرد اپنے استاد مولانا روم پر دیوانہ وار پروانوں کی طرح گرنے لگے۔۔۔ شاگردوں کو تو ان کا شیخ مل گیا اور ان کے بے قرار اور مضطرب دلوں کی تسکین کا سامان بہم پہنچا مگر اب شیخ کو اپنے شیخ کی مہجوری اور دوری کے رنج و ملال نے بے چین بلکہ بری طرح تڑپا کر رکھ دیا۔۔۔ حضرت شمس تبریز نے مولانا روم کے دل میں عشق و معرفت کی وہ آگ بھڑکا دی تھی کہ اب مولانا روم کو شیخ کے بغیر ایک پل چین نہیں آ رہا تھا۔۔۔ صورت حال بالکل ایسی ہی ہوچکی تھی جیسے حضرت جگر مراد آبادی نے کہا ہے:

اس نے اپنا بنا کر چھوڑ دیا
کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے

حضرت شمس تبریز مولانا روم کو اس شدت کے ساتھ اپنا بنا کر چھوڑ گئے تھے کہ اب شیخ کی یاد اور جدائی مولانا روم کیلئے روگ جان بننے لگی۔۔۔ یہ صورت حال حضرت کے اہل خانہ اور بیٹوں ہی نہیں، شاگردوں اور اہل عقیدت کیلئے بھی سخت صدمے اور تشویش کی تھی۔۔۔ بہرکیف شمس تبریز علیہ الرحمہ چپکے سے قونیہ سے نکل کر عراق و شام میں طویل عرصہ گزارنے کے بعد واپس آئے اور کافی عرصہ اپنے مرید عاشق مولانا رومی کے ہاں ٹھہر کر ان کو روحانی کمال کے مراتب گزارتے رہے۔۔۔ تاہم مرشد اور مسترشد کے درمیان یہ والہانہ محبت بہت سے لوگوں کیلئے ناقابل قبول تھی۔۔۔

اسی فضا میں حضرت شیخ شمس تبریز کا پر اسرار حالات میں انتقال ہوگیا۔۔۔ بعض روایات میں بتایا جاتا ہے یہ باقاعدہ قتل کا واقعہ تھا اور اس میں مولانا کے ایک بیٹے کا ہاتھ تھا۔۔۔ بہر کیف حضرت شیخ کو انتقال کے بعد قونیہ ہی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔۔۔ اور جب سے اب تک حضرت شیخ کا مزار مرجع خلائق ہے۔۔۔ اور اس کے قریب ہی بعد میں حضرت کے تربیت یافتہ اور آپ کے مرید با صفا حضرت جلال الدین رومی علیہ الرحمہ کا مرقد پر انوار ہے۔۔۔۔

شیخ کے قدموں میں:

گائیڈز نے بتایا تھا کہ مزار پر گاڑیاں کھڑی کرنے کی اجازت نہیں ہے، بسیں وہاں ہمیں اتار کر واپس آئیں گی اور ہم وہاں حاضری کے بعد جمعے کی نماز کیلئے مسجد سلیمان غازی آئیں گے۔۔۔۔حضرت شیخ شمس تبریز کے مزار کے قریب ایک خوبصورت چھوٹی سی مسجد بھی قائم ہے۔۔ ہم بسوں سے اتر کر مزار کے احاطے میں داخل ہوئے جہاں مزار کے دربانوں نے ہمیں خندہ روئی سے خوش آمدید کہا اور گائیڈز کی رہنمائی میں ہم اندر داخل ہوئے۔۔۔ سب سے پہلے ہم نے سنت اور بزرگوں کے متوارث عمل کے مطابق دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کی اور اس کے بعد ہم حضرت شیخ شمس تبریز علیہ الرحمہ کے قدموں میں حاضر ہوئے۔۔۔

یقینا یہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے لوگوں کے دلوں کو بدلا اور بے شمار انسانوں کی زندگیوں میں صالح انقلاب برپا کیا۔۔۔ ہم اسی احساس میں ڈوب کر حضرت کے پیروں میں کھڑے تھے۔۔۔ فاتحہ پڑھی، حضرت کی روح کو ایصال ثواب کیا اور حضرت کی خدمات کی قبولیت اور درجات کی بیش از بیش بلندی کیلئے دعا کی۔۔۔ نیز ان کے توسل سے اپنی حاجات بھی رب بے نیاز کی بارگاہ میں بھیج دیں۔۔۔

جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *