دہشت گرد تنظیموں کا مالی تعاون کون کر رہا ہے؟

محکمہ اطلاعات و نشریات پاکستان کے 2019 کی رپورٹ کے مطابق ہرسال 650عرب خیرات میں دیے جاتے ہیں، پر ان دینے والے افراد میں سے صرف 2٪ کو ہی معلوم ہے کے وہ رقم خرچ کہاں استعمال کی جاتی ہے؟

یقیناً ہرخاص وعام استطاعت رکھنے والے انسان کی طرح آپ بھی ضرورت مند کی مدد کرنا اپنا اولین فرض سمجھتے ہونگے، اور کرتے بھی ہونگے، لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپکی دی گئی خیرات غلط ہاتھوں میں جا کر کسی کا پیٹ بھرنے کی بجائے اُس گھر کا واحد کفیل بھی اُن سے چھین سکتی ہے اُس گھر کو اجاڑ سکتی ہے؟؟؟

اب آپ سوچیں کہ آپکی دی ہوئی خیرات میں سے کتنی رقم و دیگر وسائل کالعدم اداروں یا پھر دہشتگرد تنظیموں کے پاس پہنچائے گئے ہونگےاورانکی سرگرمیوں سے کتنے گھر اجڑے ہونگے، کتنی حکومتی تنصیبات تباہ و برباد ہوئی ہونگی؟؟؟؟

مزید پڑھیں: ٹھہریں پہلے تحقیق کرلیں

انسدادِ دہشت گردی کے لئے اور کالعدم تنظیموں کی معالی معاونت کی روک تھام کے لئے حکومتِ پاکستان نے بعض قوانین میں ترامیم کی ہیں اور کچھ نئے قوانین بھی بنائے ہیں جیسے کہ کمپنیز ایکٹ 2017 کے ترمیمی بل کے تحت یقینی بنایا گیا ہے کہ کمپنیوں کے مالکان کی اصلیت واضح ہو اور بے نامی کمپنیاں بنا کر خفیہ طریقے سے کاروبار نہ کیا جا سکے۔اس قانون سے بیئرر شیئرز رکھنے والے تمام موجودہ مالکان بھی متاثر ہوں گے کیونکہ ایسے شیئرز اب منسوخ تصور ہوں گے۔ اس ترمیمی بل کے تحت کمپنیوں کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اپنے تازہ ترین حقیقی مالک یا بینیفشل اونر کا ریکارڈ فراہم کرے گی جو کہ کمپنی کے نفع نقصان کا اصل مالک ہو گا۔

اسلام آباد وقف املاک بل 2020 کے مطابق وفاق کے زیرانتظام علاقوں میں مساجد، امام بارگاہوں کے لیے وقف زمین چیف کمشنر کے پاس رجسٹرڈ ہوگی اور اس کا انتظام و انصرام حکومتی نگرانی میں چلے گا۔

مزید پڑھیں: کینسر کیئر اسپتال ، 250 لاعلاج مریضوں کا مسکن

دہشت گردی کی روک تھام کے لیے نئے قوانین اور انسداد دہشت گردی ترمیمی ایکٹ 2020:ان قوانین کی رو سے اگر آپ کسی نوعیت کی دہشت گردی میں ملوث ہیں یا کالعدم تنظیم کے رکن ہیں تو بینک اکاونٹ نہیں کھول سکتے یا کوئی کریڈٹ کارڈ حاصل نہیں کر سکتے۔
کسی بھی تنظیم یا ادارے سے منسلک ہونے سے پہلے معلومات حاصل کر لیں آیا وہ ادارہ ملک دشمن یا کالعدم تو نہیں ہے؟
اگر آپکے پاس اسلحہ لائسنس موجود ہے لیکن آپکا نام مشتبہ دہشت گردوں کی فہرست شیڈول 4 میں شامل ہے تو ایسے افراد کے اسلحہ لائسنس منسوخ ہوں گے۔

(اوراگرجانے انجانے میں آپ نے کسی بھی اس طرح کی تنظیموں یا اداروں کی معاونت کی اور آپ ان سے منسلق پائے گئے تو مذکورہ بالا فہرست شیڈول 4 میں آپ کا نام شامل ہو سکتا ہے، یہاں تک کہ آپ نے اگر کسی تقریب میں بنا تحقیق کے شرکت بھی ثابت ہوئی تو آپ کی تفشیش کی جاسکتی ہے)

یہ ہی نہیں بلکہ مشتبہ دہشت گردوں کی فہرست شیڈول 4 میں شامل افراد کو کوئی شخص یا ادارہ قرض نہیں دے گا۔ اس لیے دیہان رکھیے ایسے افراد کی فہرست میں شامل نہ ہو جائیں بلکہ ایسے افراد کو قرض دینے سے بھی گریز کریں۔ کیونکہ اگر انجانے میں آپ نے مشتبہ دہشت گرد کو قرض دیا تو آپ پر ڈھائی کروڑ جب کہ اگر یہ قرض ادارے کے تحت دیا گیا ہے تو ادارے کو 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔

مزید پڑھیں: آج کا نوجوان بے راہ روی کا شکار کیوں؟

کسی شخص یا گروپ کو دہشت گردی کے مقاصد کے لیے بیرون ملک بھیجنے میں مدد یا مالی معاونت دینے والوں کے خلاف بھی قانونی کاروائی ہوگی۔
کسی بھی کالعدم تنظیم یا اس کے نمائندے کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد فوری منجمد کی جائے گی۔
یاد رکھیئے ملک دوست اداروں کے ساتھ کھڑے ہونے میں اور پیسے کی منتقلی کے حوالے سے احتیاط برتنے سے ہی ہم سخت قوانین کی زد سے بچ سکتے ہیں۔

مدد کرنا ہمارا مذہبی اور اخلاقی فریضہ ہے ، اپنی ریاست کی بقا ء کے لئے خود احتیاط برتنے کے ساتھ ساتھ اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی اس چیز کا شعور دیں کیونکہ لا علمی ایک بہت بڑا المیہ ہے، اپنی محنت کی کمائی کا ایک روپیہ بھی اگر آپ کسی کو دیں تو اسکی تحقیق کریں یہ آپ کا قانونی حق ہے۔ اور رائٹ ٹو انفارمیشن کے تحت بھی آپ کسی ادارے سے اپنے عطیات یا فنڈز وغیرہ کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں کہ کب کہاں اور کیسے استعمال کیئے جا رہے ہیں۔

حکومت کے ساتھ ساتھ ہمیں بطورِ ذمہ دار شہری خود بھی اور سوسائٹی کو بھی شعور دیں۔۔۔ دہشت گردی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کیجیئے۔۔۔ مدد کیجیئے لیکن حق دیکھ بھال کے حقدار کو ہی دیجیئے۔۔۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *