ٹھہریں پہلے تحقیق کرلیں

علی کی فیملی بہت ہی ملن سار، بڑی رکھ رکھاؤ والی اور پڑھی لکھی تھی۔ علی کے والدین نے بڑے ہی محدود وسائل ہوتے ہوئے بھی بچوں کو اچھے سکولوں میں پڑھا رہے تھے۔ علی بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھا اس سے بڑی دو بہنیں تھیں اس لئے علی کو بہت لاڈ پیار سے ٹریٹ کیا جاتا تھا علی کے بعد 2 بہنیں اور تھیں اور پھر ایک بھائی۔۔۔

علی نے میٹرک کا امتحان دے دیا تھا لیکن اس کی امی اسے زیادہ گھر سے باہرنہیں نکلنے دیتی تھیں۔ ایک دن علی کے دروازے پر دستک ہوئی ، امی نے کہا علی دیکھو دروازے پر کون ہے، علی نے دروازہ کھولا کوئی 25-30 سال کی عمر کا ایک آدمی دروازے پرہاتھ میں چندے کا ڈبا لئے، کاندھے پر ایک بوری اور ہاتھ میں ایک رسید بک لئے کھڑا تھا۔

علی: جی انکل کیا کام ہے؟؟؟

چندے والا: (علی کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئےبولا) بیٹا ہم یتیم بچوں کے لئے رہنے کی جگہ بنا رہے ہیں، عید کے کپڑے بھی لینے ہیں، چندہ دے دو، میں باقاعدہ رسید بنا کے دونگا فراڈ نہیں ہوں، اور اگر کوئی کپڑے ہیں تو وہ بھی دے دو اُن بچوں کے لئے دُعا دینگے۔
علی کی امی نے آواز دے کے پوچھا بیٹا کون ہے؟، ہر کسی کے لئے دروازہ مت کھولا کرو۔

مزید پڑھیں: اونٹ کا انتقام

علی: امی چندے والا ہے۔ بیسے اور کپڑے مانگ رہا ہے۔
امی: فوراً دروازہ بند کرو اوراندر آؤ ، میرے پرس سے دس روپے اسے دےدو، اور سنو رسید وغیرہ مت لینا ہم نے اللہ کے نام پے دینا ہے، رسید نہیں چاہیئے۔
اب چندے والا دروازے پر کھڑا سب سن رہا ہے وہ علی کو کہتا ہے: بیٹا کچھ زیادہ پیسے لانا، وہ بھی تمہارے بھائی بہن ہیں دعا دینگے دس روپے سے کیا ہو گا۔
علی کے ماتھے پے جیسے پسینا سا آ گیا کہ اب کیا کرے،کہاں سے پیسے دے۔ خیر وہ بھاگ کر اندر گیا اور اپنی غلک میں سے پیسے نکالنے کی کوشش کی اور آخر اسے توڑ کے پیسے نکالے اور 10 روپے امی کے پرس سے بھی لئے اور بھاگ کر گیٹ پر چلا گیا جہاں وہ چندہ جمع کرنے والا آدمی کھڑا تھا۔

علی: انکل یہ پیسے لے لیں (ہاتھ کی مٹھی میں جانے کتنے پیسے تھے جو علی نے اپنے غلک سے نکالے تھے) میں نے اپنے غلک توڑ کے نکالے ہیں اپنے ان بہن بھائیوں کے لئے جو آپ کے پاس ہیں، اور یہ 10 روپے امی نے دیئے ہیں۔
اور فوراً دروازہ بند کر دیا اور خود کو سنبھالتا ہوا واپس امی کے پاس دالان میں بیٹھ گیا۔
چندے والا کچھ دیر دروازے پر کھڑا سوچتا رہا، آس پاس سے گھر کا معائنہ کیا اور چلا گیا۔

ہوتے ہوتے علی کا وہ ہستا مسکراتا ، تمیز والا لہجہ بدلنا شروع ہو گیا، چندے والے آدمی کا اکثر آنا جاتا رہتا، کبھی وہیں گھر کی گلی میں اور کبھی علی بنا بتائے اُس آدمی کے ساتھ کہیں نکل جاتا۔۔۔ کچھ دن بعد کسی نے علی کے ابو کو بتایا کہ علی کسی اور محلے میں چندہ جمع کر رہا تھا۔ جب ابو نے علی سے پوچھا تو وہ علی جو کبھی ابو کے سامنے آنکھ نہیں اٹھاتا تھا بدتمیزی سے یہ کہہ کے چلا گیا کہ میں کچھ اچھا کرنا چاہتا ہوں اور آپ مجھے کسی صورت نہیں روک سکتے۔

مزید پڑھیں: کینسر کیئر اسپتال ، 250 لاعلاج مریضوں کا مسکن

علی کے والدین بہت زیادہ پریشان تھے علی کے لئے، انہیں ہر وقت یہی پریشانی رہتی کی علی کہیں غلط لوگوں کے ہتھے نا چڑھ جائے۔۔۔ اسی میں عید آ گئی علی کا روئیہ یکثر بدل چکا تھا، اُس نے قربانی کے جانور کی کھال اپنے کھر سے بھی اور گلی کے دوسرے گھروں سے بھی جمع کر لیں، اور اپنے ابو سے کہا کہ قربانی کے گوشت میں جتنا حصہ اُس کا ہے وہ الگ کر دیں اسے لے کے جانا ہے۔ خیر عید کا دن تھا ابو نے بحث نہیں کی اور گوشت نکال کر اسے دے دیا، علی کی والدہ سے پوچھا کہ کوئی نیا دوست تو نہیں بنا اس کا، انہوں نے بتایا کہ:
دوست تو نہیں بیانا نیا اس نے بلکہ آجکل تو اپنے بچپن کے دوستوں سے بھی نہیں ملتا۔ ہاں البتہ وہ ایک آدمی چندہ لینے آیا تھا کچھ دن پہلے وہ اکثر آتا ہے۔

علی کے ابو بہت پریشان ہوئے اور فوراً اندر جا کر علی کی بڑی بہن سے کہا کہ علی کے کمرے میں اس کی کتابوں میں دیکھو کوئی نئی کتاب کوئی تحریر کسی تقریب کا دعوت نامہ کچھ بھی اگر ہے تو جلدی لے کر آؤ۔ بہن نے جب چیزوں کو ٹتولا تو ایک حلف نامہ ملا جس میں لکھا تھا کہ” میں ہر حال میں مقصد کی حصولی کے لئے تا دمِ آخر کام کرتا رہوں گا اور تنظیم کا وفادار رہوں گا۔”

یہ دیکھنا تھا کہ علی کے ابو کے تو پسینے چھوٹ گئے، انہوں نے اپنے بھائی کو ساتھ لیا اور چھپکے سے علی کے پیچھے نکل گئے وہ ابھی اپنی ہی گلی کی قربانی کے جانوروں کی کھالیں چمڑے جمع کر رہا تھا۔ پیچھا کرتے کرتے وہ آخر اس بندے تک پہنچ گئے جو چندہ لینے آتا تھا۔ لیکن حقیقت میں وہ بھی کسی اور کے لئے کام کر رہا تھا۔ علی ان سے کہہ رہا تھا کہ اب تو میں نے اپنا ٹاسک پورا کر لیا اب تو مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔صاحب سے ملوا دیں۔ چندہ لینے والے نے اُسے کہا کہ” نہیں ابھی شرفِ ملاقات نہیں، ابھی اپنے اندر کی آگ کو اور بھڑکنے دو، اب تم گھر جاؤ، فی الحال تمہیں گھر نہیں چھوڑنا۔”

مزید پڑھیں: کیا آپ AM اور PM کا مطلب جانتے ہیں ؟

یہ سنتے ہی علی کے ابو کی آنکھوں سے آنسو نکل گئے خیر انہوں نے علی کا پیچھا جاری رکھا، اور وہ سیدھا گھر آیا اور اپنے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر لیا۔ ابو نے وقت ضائع کیئے بنا پولیس میں اپنے ایک جان پہچان والے بندے کو جا کے یہ سب بتایا۔ پھر ایس ایچ او اور دیگر متعلقہ لوگوں سے بات ہوئی ،اور پتہ چلا کہ کچھ لوگ / ایک تنظیم آجکل بہت سرگرم ہے لیکن اُن کا ٹھکانہ نہیں مل رہا۔ علی کے کمرے سے جو پیپر اور ایک رسید چندہ جمع کرانے کی ملی وہ بھی دکھائی جس سے کافی مدد ملی اور علی کی فیملی کی مدد اور محلے والوں کے تعاون سے اُس تنظیم کے سرکردہ رکن کو جو اس علاقے میں موجود تھا گرفتار کر لیا گیا۔ علی کو دوبارہ نارمل زندگی کی طرف لانے کے لئے اس کے والدین نے بہت محنت کی، اسکی سائیکو تھیرپی سیشنز کروائے گئے کیونکہ جب اسے یہ پتا چلا کہ یہ تنظیم جمع کیئے ہوئے چندے کو ملک دشمن سرگرمیوں میں اور نوجوانوں کو مذہب کے بام پر ورغلاء کے اپنے ناسودہ عزائم کے لئے استعمال کرتے تھے تو وہ خود سے نفرت کرنے لگا، کہتا خود سے بدلا لونگا خود کو سزا دونگا۔۔، خیر بڑی تگ و دو کے بعد وہ پہلے جیسی ذندگی گزارنے کے قابل ہوا، اتنے میں اسکا رزلٹ بھی آ گیا اچھے نمبروں سے میٹرک پاس کر کے اچھے کالج میں ایڈمیشن کرایا۔
آج اس بات کو کافی عرصہ گزر گیا لیکن آج بھی جب کبھی کسی ریفرنس سے اُس دور کی بات ہو تو علی کانوں کو ہاتھ لگا کے توبا کرتا ہے۔۔

جی یہ ساری کہانی آپ سے شیئر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک تو یہ آج سے کوئی 15سے 20 سال پہلے کی کہانی ہے، نام فرضی ہیں لیکن ایسا ہوا حقیقت میں، آپ خود سوچیں اگر 20 سال پہلے یہ سب کچھ ہواتھا تو آج تو اس سے 100 گنا زیادہ حالات خراب ہیں، سوچیں ہمیں کتنی احتیاط کی ضرورت ہے؟ جب چندہ جمع کرنے، نوجوانوں کو وغلانے، ریاست خلاف سرگرمیوں کے لئے پیسہ جمع کرنے، دہشت گردی کرنے کے ، ناجائز طریقوں سے پیسے بٹورنے، بلیک میک کرنے کے لاکھوں نئے طریقے ہیں، آپ ہاتھ سے جو لے جاتے ہی ہیں پورے کے پورے بنک اکاؤنٹ خالی کر دیئے جاتے ہیں ہماری ایک چھوٹی سے لاپرواہی سے کہ ہم تحقیق نہیں کرتے اور بنا سوچے سمجھے اپنی ڈیٹیلز دے دیتے ہیں۔۔۔

مزید پڑھیں: آج کا نوجوان بے راہ روی کا شکار کیوں؟

آج جب کے کلعدم تنظیموں کے نشاندہی ہوچکی ہیں، لسٹیں موجود ہیں تھانوں میں اور دوسرے قانون نافظ کرنے والے اداروں کے پاس،انٹر نیٹ پر، مکامی انتظامیہ کے پاس بھی میسر ہیں ، لوگوں میں شعوراس چیز کا شعورپیدا کرنے کے لئے سوشل میڈیا، انٹر نیٹ، ٹی وی، ریڈیو، اخبار اور پرائیویٹ سیکٹر سب اندھا دندھ کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔
لیکن جب تک ہم خود اپنا، اپنے بچوں کی سرگرمیوں کا، اپنے گھر اورگھر اور گھر کے دروازے پرچندہ جمع کرنے والے، خیرات مانگنے والے، مذہب کے نام پر ، اخلاق کے نام پر اآپکو بلیک میل کرنے والے، سڑکوں ، دکانوں بازاروں میں رکھے چندے کے ڈبوں ، بنا گورنمنٹ کی منظوری کام کرنے والی تنظیموں اور ان کی سرگرمیوں اور اُن میں شرکت سے پہلے تحقیق نہیں کریں گے، تو جان لیں آپ اُن کے ہر جرم میں برابر کے شریک ہونگے۔۔۔ اور یقیناً سزا کے مستحق بھی۔۔۔۔
یاد رکھیں۔۔۔۔۔
کوئی بھی قدم پاکستان میں نئے منظور شدہ قوانین کے خلاف ہوا تو آپکے خلاف سخت کاروائی ہو سکتی ہے
قومی اسمبلی اور سینٹ سے درجن بھر قوانین منظور کیے گئے اور پہلے سے موجودہ قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں
ان قوانین کی رو سے ۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں: اُردُو زُبان کا خون کیسے ہوا ذمہ دار کون

اگر کوئی بھی شخص کسی مشکوک شخص یا ادارے کے ساتھ منسلک ہوا، غیر قانونی طور پر رقم کی منتقلی میں شامل رہا، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی سرمایہ کاری میں ملوث ہوا تو اسکے خلاف سخت قانونی کاروائی ہوگی۔
قوانین میں پاکستان پیسے آنے کے حوالے سے شرائط اتنی سخت نہیں جتنی پاکستان سے پیسے باہر بجھوانے کے لیے ہیں۔کیش لے جانے پر ڈکلیئر کرنا ہوگا جبکہ بینکوں سے پیسے بھیجنے کی صورت میں دستاویزات پیش کرنا ہوں گی۔قانون سازی کا بنیادی مقصد رقم کی ترسیل کو شفاف بنانا اور دہشت گردی میں استعمال ہونے سے روکنا ہے۔

کمپنیز ایکٹ 2017 کے ترمیمی بل کے تحت یقینی بنایا گیا ہے کہ کمپنیوں کے مالکان کی اصلیت واضح ہو اور بے نامی کمپنیاں بنا کر خفیہ طریقے سے کاروبار نہ کیا جا سکے۔ بیئرر شیئرز رکھنے والے تمام موجودہ مالکان بھی متاثر ہوں گے کیونکہ ایسے شیئرز اب منسوخ تصور ہوں گے۔ اس ترمیمی بل کے تحت کمپنیوں کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اپنے تازہ ترین حقیقی مالک یا بینیفشل اونر کا ریکارڈ فراہم کرے گی جو کہ کمپنی کے نفع نقصان کا اصل مالک ہو گا۔
اسلام آباد وقف املاک بل 2020 کے مطابق وفاق کے زیرانتظام علاقوں میں مساجد، امام بارگاہوں کے لیے وقف زمین چیف کمشنر کے پاس رجسٹرڈ ہوگی اور اس کا انتظام و انصرام حکومتی نگرانی میں چلے گا

دہشت گردی کی روک تھام کے لیے نئے قوانین اور انسداد دہشت گردی ترمیمی ایکٹ 2020:ان قوانین کی رو سے اگر آپ کسی نوعیت کی دہشت گردی میں ملوث ہیں یا کالعدم تنظیم کے رکن ہیں تو بینک اکاونٹ نہیں کھول سکتے یا کوئی کریڈٹ کارڈ حاصل نہیں کر سکتے۔
دیر مت کیجیئے۔۔ چھان بین اوراحتیاط آج سے ہی شروع کریں، خود بھی اور اپنے ارد گرر بھی۔۔۔
تحقیق کیجئے، جانچ پڑتال کریں، بنا تحقیق کے نا کسی کی مدد کریں اور نا ہی کسی سے مدد لیں۔۔۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *