تحریک انصاف نے کراچی کے تاجروں کے مسائل حل کرنے کا بیڑہ اٹھا لیا

کراچی: () تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی، کراچی ڈویژن کے صدر خرم شیر زمان اور رکن قومی اسمبلی آفتاب صدیقی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کراچی کے تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی اور ترجیحی بنیادوں پر مسائل حل کرانے کے لیے وزیراعظم عمران خان اور وزیر خزانہ شوکت ترین سے درخواست کریں گے جبکہ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ یارن کے تاجروں کی ملاقات کا بھی اہتمام کریں گے تاکہ وہ ازخود وزیراعظم کو اپنے مسائل سے آگاہ کرسکیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن(پائما) کے دفتر میں بجٹ اناملیز پر تبادلہ خیال کے لیے منعقد کیے گئے اجلاس سے خطاب میں کیا۔ اس موقع پرپائما کے وائس چیئرمین فرحان اشرفی،کراچی چیمبر کے سینئر نائب صدر ثاقب گڈلک،چیئرمین اولڈ سٹی تاجر اتحاد ایس ایم عالم، چیئرمین کے سی سی آئی لاء اینڈ آرڈر سب کمیٹی جنید الرحمان، ممبرز پائما خورشید شیخ، خرم بھراڑہ، ثاقب نسیم، سہیل نثار، نعمان الیاس، قادر شیخانی، انیس مانڈویا، صمد گابا، وحید عمر، رضوان دیوان، فیصل شیخانی، ناصر مکانی، سکندر میمن و دیگربھی موجود تھے۔

مزید پڑھیں: کراچی گرج چمک کے ساتھ بارش، بجلی غائب،ٹریفک جام

پائما کے وائس چیئرمین فرحان اشرفی نے رکن صوبائی اسمبلی خرم شیر زمان اور رکن قومی اسمبلی آفتاب صدیقی کو اولڈ ایریا کی مارکیٹوں کا دورہ کروایا اور حالیہ بارش کے بعد گلیوں میں کیچڑ اور گندگی کے ڈھیر صاف نہ ہونے اور اسٹریٹ لائٹس کے بارے میں آگاہ کیا۔ خرم شیر زمان اور آفتاب صدیقی نے مارکیٹوں میں صفائی ستھرائی کو یقینی نہ بنانے پر سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ آفتاب صدیقی نے اس موقع پر پائما کے وائس چیئرمین فرحان اشرفی سے کہا کہ وہ اولڈ ایریا کی گلیوں کی نشاندہی کرائے جہاں وہ اپنے فنڈز سے راستوں کی مرمت کروائیں گے ساتھ ہی انہوں نے اسٹریٹ لائٹس لگانے کا بھی اعلان کیا۔

رکن قومی اسمبلی آفتاب صدیقی نے اجلاس میں بجٹ اناملیز پر تفصیلی تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہاکہ وہ فنانس کمیٹی کے ممبر ہیں لہٰذا وہ بجٹ اناملیز بارے میں وزیراعظم اور وزیر خزانہ کو آگاہ کریں گے اور یارن کے تاجروں کے مسائل حل کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔رکن صوبائی اسمبلی خرم شیر زمان نے بجٹ تقریر میں اعلان کے باوجود کسٹم ڈیوٹی9 فیصد نہ کیے جانے کی نشاندہی کے جواب میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا یہ ویژن ہے کہ کاروبار کرنے کو آسان تر بنایا جائے مگر ایسا لگتا ہے کہ اناملیز کمیٹی وزیراعظم عمران خان کی معاشی پالیسیوں کو ناکام بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 18ویں ترمیم کی وجہ سے ہمارے ہاتھ پاؤں بندھے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم نے کراچی میں بہت کام کیے اور کرتے رہیں گے۔ انہوں نے اولڈ ایریا میں واقع تاریخی عمارتوں کو خوبصورت بنانے کی بھی یقین دہانی کروائی تاکہ غیر ملکی خریدار یہاں آنے سے نہ کترائیں۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ ، JSMU کے انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں ماسٹرز کے انٹری ٹیسٹ اور انٹرویوز کا انعقاد، 33 امیدواروں کی شرکت

قبل ازیں پائما کے وائس چیئرمین فرحان اشرفی نے رکن صوبائی اسمبلی اور رکن قومی اسمبلی کو پولیسٹر کودرپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بجٹ تقریر میں یارن پر کسٹمز ڈیوٹی 9 فیصد کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا اور بجٹ اناملیز کمیٹی نے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اجلاس بلانے سے پہلے ہی ازخود فیصلے کرلیے اور یارن پر کسٹمز ڈیوٹی 11فیصد پر برقرار رکھی جبکہ 8 بی کو بھی ختم نہیں کیا گیا۔

انہوں نے ایس ایم ایز سیکٹر کو تباہی سے بچانے کے لیے کمرشل اور صنعتی امپورٹر ز کے درمیان ٹیکسوں کی شرح کے فرق کو ختم کرنے،اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی جو3سے13فیصد ہے ختم کرنے مطالبہ کیا کیونکہ مینوفیکچررز نے40سالوں کے دوران اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ نہیں کیا اور صرف25سے30فیصد مقامی طلب کوبمشکل پورا کرپاتے ہیں جبکہ صنعتوں کوبقیہ70فیصد درآمد پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ یارن اور فیبرک کی ڈیوٹی یکساں ہونے سے ایس ایم ایز سیکٹر متاثر ہوگا اور صنعتیں بند ہوجائیں گی لہٰذاکیسکیڈنگ کا 7فیصدکے فرق کا فارمولارکھا جائے۔ انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے کم سے کم اجرت25ہزار کرنے کے فیصلے کو بھی مسترد کردیا اوردرخواست کی کہ وفاقی حکومت کی طرح سندھ حکومت بھی کم سے کم اجرت20ہزار روپے کا اعلان کرے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *