بلوچستان کے قدرتی وسائل سے استفادہ کیا جائے تو ملکی معیشت کو اعلی مقام پر پہنچایا جاسکتا ہے، سابق وزیراعلی علاو الدین

کراچی: (اسٹاف رپورٹر ) بلوچستان کے سابق وزیراعلی اور ریجنل ریسورس ڈیویلپرز کے چیف ایگزیکٹیو، علاوالدین مری نے کہا ہے کہ اگر بلوچستان کے معدنی ذخائر ر، زرعی لائیوسٹاک، گیارہ سو کلومیٹر ساحلی پٹی اور کان کنی سے بھرپور استفادہ کیا جائے تو ملکی معیشت بلندی کی اعلی ترین مقام پر پہنچ سکتی ہے جس کے لیے حکومت کو زیرالتوا ترقیاتی منصوبوں ک فائلوں سے نکال کر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے پایہ تکمیل کو پہنچانا ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ چاغی میں موجود ونڈ کوریڈور سے بارہ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے، ساحلی پٹی کو فشریز، سیاحت اور سی فوڈ انڈسٹری کو فروغ دے کر فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور زرعی اصلاحات کے ذریعے کم پانی لینے والی فصلیں اگائی جاسکتی ہیں جن کے ذریعے خام مال اور ویلیوایڈڈ پروڈکٹس کو برآمد کرکے خطیر زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ ، JSMU کے انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں ماسٹرز کے انٹری ٹیسٹ اور انٹرویوز کا انعقاد، 33 امیدواروں کی شرکت

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایف پی سی سی آئی کے دفتر میں سینیئر صحافی سمیع گوہر کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں ترقیاتی منصوبوں کا اعلان تو ہوتا ہے افتتاح کرنے کی تختیاں لگائی جاتی ہیں مگر ان کو پایا تکمیل کو نہیں پہنچایا جاتا البتہ افتتاحی تقریب کی تختیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب وہ 2018 میں بلوچستان کے وزیراعلی تھے تو انہوں نے گوادر میں 15 ملین گیلن روزانہ سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کے لئے ایک پلانٹ کا منصوبہ شروع کیا تھا لیکن اس پر کام شروع نہیں کیا گیا اور تین سال بعد وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں ایک نئے نام سے اس پروجیکٹ کا افتتاح کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کے احساس محرومی کی ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ ہرگز نہیں ہے اس کے ذمہ دار خود ہمارے سیاستدان ہیں جو اقتدار میں نہیں ہوتے ہیں تو عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے بڑے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں اور جب اقتدار میں آتے ہیں تو کچھ نہیں کرتے اور ترقیاتی پروگراموں کا بجٹ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے ادارے تباہ حال کیوں ہیں..؟؟

انہوں نے کہا کہ ہماری فوج بلوچستان میں سیکورٹی کی حالت بہتر بنانے کے لیے بڑی محنت کر رہی ہے اور سرحدوں کی حفاظت کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کر رہی ہیں اس لیے وہ کہتے ہیں کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہماری فوج کوئی رکاوٹ نہیں ہے جس کی وہ خود مثال پیش کر سکتے ہیں کہ جب وہ وزیراعٰلی تھے تو فوج کے کسی بھی افسر نے انہیں کوئی کام شروع کرنے یا نہ کرنےکا لیے دباو نہیں ڈالا بلکہ ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری رکھنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ناراض سیاستدانوں سے مذاکرات کرنے کے بجائے اگر بلوچستان کے لوگوں کے بنیادی مسائل جن میں غربت، مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم و علاج معالجے کی سہولت، بجلی و گیس کی فراہمی، پینے کے صاف پانی کی دستیابی اور سماجی انصاف فراہم کرنے پر توجہ دی جائے تو پھر ناراض لوگوں سے بات کرنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *