دیار خلافت کا سفر شوق قسط 67

تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

اپنے آبائی وطن میں رائج و متداول علوم کی تحصیل اور خرقہ و سجادہ کا فیض تبرک پانے کے بعد ایک کامل شیخ بن کر نمایاں ہوئے۔۔۔۔ اسی عرصے کے دوران ایک روایت کے مطابق حضرت شیخ شمس تبریز نے عالم اسلام کے مختلف علمی اور روحانی مراکز کے رحلات علمیہ و روحانیہ کا قصد فرمایا اور اپنے وطن سے نکل کھڑے ہوئے۔۔۔ دراصل مشیت الٰہی نے آپ کے وجود مسعود سے بہت بڑے سلسلہ خیر کے اجرا کے تمام انتظامات دست قدرت سے مکمل فرمائے تھے۔۔۔

مولانا جلال الدین محمد رومی اپنے وقت کے بڑے عالم فاضل شخص تھے۔۔۔ آپ کی علمیت کا شہرہ سن کر سلجوق سلطان نے آپ کو سلجوق سلطنت کے دار الخلافہ قونیہ آنے کی دعوت دی۔۔۔ حضرت رومی علیہ الرحمہ نے اس دعوت کو شرف قبول بخشا اور قونیہ میں سلطنت کے اعزاز و اکرام کے زیر سایہ اپنا فیض علم جاری کیا۔۔۔۔ آپ سلجوق سلطنت اور دار السلطنت قونیہ کے جانے مانے اور سر بر آوردہ عالم دین تھے۔۔۔۔ سرکار دربار سے لیکر عام عوام تک دینی اور شرعی رہنمائی کیلئے آپ سے رجوع کیا جاتا تھا۔۔۔ اور اس کے علم حضرت رومی اپنے دور دراز کے امصار و بلاد سے استفادے کیلئے آنے والے شاگردوں میں ہمہ وقت گھرے رہتے تھے۔۔۔ تاہم یہ سب علوم ظاہری تھے۔۔۔

ابھی آپ تصوف و سلوک کی وادی سے نا شناس تھے۔۔۔ اسی عالم میں مشیت الٰہی نے ایک لطیف فیصلہ فرماتے ہوئے حضرت شیخ شمس تبریز علیہ الرحمہ سے آپ کی باطنی تربیت کا اہتمام کر لیا۔۔۔ حضرت رومی کو کچھ خبر ہی نہیں تھی۔۔۔ انہیں فقہ و حدیث کی تعلیم اور عوام و حکام کی شرعی رہنمائی سے فرصت ہی نہیں تھی، وہ تصوف و تزکیہ کی ریاضتوں کیلئے کہاں سے وقت اور فرصت نکالتے۔۔۔۔ چنانچہ آپ کو کبھی اس طرف توجہ کا بھی موقع نہیں ملا تھا۔۔۔ اب آئیے یہ دیکھتے ہیں کہ مشیت ایزدی نے کیا اہتمام کیا۔۔۔ اور کیسے دو ایسے اشخاص جو ایک دوسرے سے نا واقف تھے، ایک دوسرے سے ایک بار کیا ملے کہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے شیخ و مرید کی صورت میں من تو شدم تو من شدی کی للہ فنائیت کا مصداق و مظہر تمام ٹھہرے۔۔۔

تاریخ میں اس حوالے سے کئی روایتیں بیان کی گئی ہیں کہ حضرت شیخ شمس تبریز جو ایران میں مقیم تھے، سے حضرت رومی جو سلجوق دار السلطنت قونیہ میں مقیم تھے، کے روحانی استفادے کی راہ کیسے ہموار ہوئی؟؟

ایک معروف روایت کے مطابق جو علامہ شبلی نعمانی جیسے محقق نے بھی نقل کی ہے، زین العابدین شیروانی نے مثنوی کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ حضرت شمس تبریزؒ کو ان کے پیر بابا کمال الدین جندی نے حکم دیا کہ رُوم جاؤ، وہاں ایک دل سوختہ ہے، اُس کو گرم کر آؤ۔۔۔ حضرت شمس تبریز پھرتے پھراتے قونیہ وارد ہوئے۔۔۔ اور قونیہ میں شکر فروشوں کی کارواں سرا میں اُترے۔۔۔

ایک دن مولانا رومؒ کی سواری بڑے تزک و احتشام سے نکلی۔۔۔ حضرت شیخ شمس تبریز نے سرِ راہ ٹوک کر پوچھا کہ "مجاہدہ و ریاضت سے کیا مقصد ہے؟” مولاناؒ نے کہا "اتباع شریعت۔۔۔۔” شیخ شمسؒ نے کہا "یہ تَو سب جانتے ہیں۔۔۔” مولاناؒ نے کہا "اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے؟” شیخ نے فرمایا "علم کے یہ معنی ہیں کہ تُم کو منزل تک پہنچا دے۔”

پھر حکیم سنائی کا یہ شعر پڑھا ؎
علم کز تو ترانہ بستاند
جہل زاں علم بہ بود بسیار

یعنی جو علم تُجھے تُجھ سے نہ لے لے، اُس علم سے جہل بہت بہتر ہے۔۔۔

مولانا رومی پر ان جملوں کا یہ اثر ہوا کہ اُسی وقت حضرت شیخ کے کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔۔۔ پھر بعض روایات کے مطابق حضرت شمس تبریزی نے مولانا روم کو قونیہ میں چالیس دن خلوت میں تعلیم دی اور دمشق روانہ ہو گئے۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت شمس تبریزی نے ایک دفعہ دعا کی کہ مجھے وہ بندہ ملے جو میری صحبت کا متحمل ہو۔۔۔ یہ دعا قبول ہو گئی اور قونیہ میں مولانا روم سے ان کے وصل کے اسباب اللہ نے میسر فرما دیے اور پھر روحانیت اور تزکیہ و احسان کے اس مجمع البحرین سے اللہ تعالیٰ کی معرفت کا وہ فیض جاری ہوا کہ اب بھی خلق خدا اس سے مستفید ہوتی ہے۔

جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *