دیار خلافت کا سفر شوق – قسط 66

تحریر: مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

حضرت شمس تبریز بلاشبہ وقت کے بہت بڑے ولی اللہ، عارف، متصوف، معلم اخلاق، تزکیہ نفس و تطہیر قلوب کے شیخ کامل اور اہل اللہ کی اقلیم دل کے بے تاج بادشاہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مردہ دلوں کی کھیتی میں اپنی محبت، اپنی معرفت اور اپنے جلوہ جلال و جمال کے بیج اگانے، گناہ و نا فرمانی کے اندھیروں میں دل کی حضوری اور دماغ کی شعوری آمادگی کے ساتھ عبدیت کے چراغ جلانے اور ایمان، ایقان اور احسان کی قندیلیں روشن کرنے کیلئے چن لیا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس انتخاب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ توفیق بھی بہ کمال و تمام مرحمت فرمائی کہ وہ لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی معرفت حقیقی اور محبت کی جوت جگانے کے اس مشن میں ایسے کامیاب ٹھہرے کہ آج بھی خلقت اس کی شہادت دیتی ہے۔


مزید پڑھیں: دیار خلافت کا سفر شوق قسط 57

آپ کا سب سے بڑا کارنامہ پوری دنیا جانتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے دنیا کو مولانا روم جیسا ولی، عارف، عظیم فلسفی متصوف اور دانا شاگرد دیا۔ اسی سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس عظیم شاگرد کے استاد اور شیخ عظمت کی کن بلندیوں پر براجمان ہوں گے۔

آپ کا نام شمس الدین محمد جبکہ عرفیت شمس تبریزی ہے۔آپ (1185ء میں ایران میں تولد ہوئے۔۔۔ وہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور علوم متداولہ کی تحصیل سے فارغ ہونے کے بعد راہ طریقت پر ایسے گامزن ہوگئے کہ اسی میں آپ کا نام آفاق میں گونج اٹھا۔ آپ ثابت النسب سید تھے۔ آپ کا شجرہ نسب حضرت جعفر صادق علیہ الرحمہ سے ہوتا ہوا انیسویں پشت پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے جا ملتا ہے۔ آپ ایران کے شہر سبزوار میں پیدا ہوئے۔ سبزوار کا پرانا نام بیہق ہے۔ وہی بیہق ہے جس کی طرف “بیہقی” کا انتساب علم حدیث کے طلبہ کیلئے نا مانوس نہیں۔

مزید پڑھیں: دیار خلافت کا سفر شوق قسط نمبر 62

امام ابو بکر احمد ابن الحسین البیہقی کی “سنن بیہقی” کی جلالت شان و مرتبت سے کون واقف نہیں ہے۔ یہ سبزوار اسی بیہق کا پرانا نام ہے۔ بیہق یعنی سبزوار اس دور میں علم و عرفان کا مرکز تھا۔۔۔ ہر طرف علم و فضل کے دریا بہتے تھے۔ چنانچہ حضرت شیخ شمس الدین محمد سبزواری المعروف شمس تبریزی اس شہر کے اسی علمی و روحانی فضا میں پروان چڑھے اور علم و عرفان کے ہر چشمہ فیض سے خوب سیراب ہوئے۔

حضرت شیخ شمس الدین محمد تبریزی کے والد کا نام علاء الدین علی بن ملک داؤد تبریزی تھا۔۔۔ آپ کے والد بھی بڑے خدا ترس صاحب علم و فضل شخصیت تھے۔۔۔ حضرت شمس تبریزی علیہ الرحمہ شاید والد گرامی کی نسبت کی وجہ سے ہی تبریزی کہلائے۔۔۔


(جاری ہے)


نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *