دیکھ سکتا ہوں اندھیرے میں بہت صاف مگر

شاعر : عابی مکھنوی

دیکھ سکتا ہوں اندھیرے میں بہت صاف مگر
دِن میں سو جاؤں تو پھر رات سے ڈر لگتا یے

یہ رہے بچھو مِری مُٹھی میں ، ہیں جیب میں سانپ
ہاں مگر آدمی ذات سے ڈر لگتا ہے

ایک دو دِن ہوں گزر جائیں کسی طور کہ اب
عُمر میں وقت کی بہتات سے ڈر لگتا ہے

اتنی عیاشی بھی ہے کافی کہ سُن سکتا ہوں
بول بھی سکتا ہوں مگر بات سے ڈر لگتا ہے

لوگ اچھے بھی ہیں مخلص بھی قدردان بھی ہیں
میں بُرا ہوں سو مُلاقات سے ڈر لگتا ہے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *