منزل جدا جدا

تحریر: علی ہلال

ہمارے بچپن میں ریڈیو پاکستان پشاور سے ایک پشتو گانا نشر ہوتا تھا ۔
” منزل دہ ٹولو یو دے خو سفر جدا جدا ۔۔۔۔”
آج اسی گانے کے تناظر میں دیکھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ قوم پرستوں اور مذہبسٹوں کا موقف اورنظریہ ایک ہی ہے مگر دشمنی ، داڑھی اور شیونگ کی ہے ۔ لروبر یو اولس اوراسلامی اخوت دونوں وہ نعرے ہیں جس کے معنی ومنشا ایک ہی ہے ۔ دونوں نعروں نے نیشنل آئزیشن کی مخالفت اورسرحدی رکاوٹوں کے خلاف بغاوت کی کوکھ سے جنم لیا ہے ۔ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب یہ دونوں ایک بھی ہوجائیں گے ۔ جیسا ترکی میں ان دونوں میں اتحاد ہوگیا ہے ۔

ترک صدر امیر اردوغان صاحب نے اسلامی اخوت اور سلطنت عثمانیہ کا نعرہ لگایا تو ترک سپرمیسی اورگریٹرترکی کے علمبرداروں نے بھی انہیں قبول کرلیا ۔ صدارتی ریفرنڈم میں ترک سپرمیسی کی قوت سے امیر صاحب جیت گئے ۔

مزید پڑھیں: ہاکی ورلڈ کپ کے ہیرو نوید عالم کینسر کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہارگئے

ہمارے ہردو گروہوں کا بھی یہی کہنا ہے ۔قوم پرست اشرف غنی کو بابا اورظاہر شاہ کو بابائے قوم کہنا اپنا قومی حق اور خونی غیرت کا تقاضا قراردے رہے ہیں جبکہ مذہبسٹ ملاعمر کو امیر المومنین اور طالبان کو آئیڈل کہنا قرآنی حکم سمجھتے ہیں ۔

یہاں قوم پرست مگر کچھ زیادتی یہ کررہے ہیں کہ وہ جلال آباد میں باچاخان کے مزار پر جانے کو تو باعث ثواب سمجھتے ہیں اورکابل کو کابل جان کہتے نہیں تھکتے مگر مذہبسٹوں کی جانب سے زابل میں واقع ملاعمر مرحوم کے آخری مکان کی تصاویر شیئر کرنے پر برا مانتے ہیں ۔ انہیں یہ بھی قبول نہیں کہ افغانستان کے آج کل ہونے والی سرگرمیوں کی کوئی خبرسوشل میڈیا پر آئے ۔

غرض یہ کہ جلوزئی اورشمشتو کیمپ کے دروازے تک آٹے کا تھیلا دونوں کاندھے پر رکھ کر پہنچ جاتے ہیں مگر لینے والوں کا حلیہ مختلف ہوتا ہے ۔ صرف یہ نہیں اس ملک میں ایک اورگروہ بھی ہے ۔ جسے عراق ،شام اورلبنان کا غم ستاتا رہتا ہے ۔ان کا مسئلہ بھی یہی ہے ۔

مزید پڑھیں: سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی جانب سے 49 ذہین طلبہ کے لئے اسکالرشپ ایوارڈ کی منظوری

وہ یمن میں بمباری اور جنگ پر توکڑ رہے ہیں اور وہاں کے حالات کو خداکے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف قرادے رہے ہیں مگر ان بھلے مانسوں کو عراق اورشام میں پچاس لاکھ زائد بے گھر انسانوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملے نظر نہیں آتے ۔

میرے خیال سے یہ تینوں بہت تھک گئے ہیں ۔ تینوں نے دوسرے ملک کا مسئلہ اپنے سرپر کچھ زیادہ سوار کرکے رکھا ہوا ہے ۔ حق اورسچ مگر یہ ہے کہ قوم پرستی ہو یا اسلامی اخوت۔ یہ نعرے دونوں اپنے معنی اور اپنا حسن اور حقیقت کھوگئے ہیں ۔

اگر اسلامی اخوت ہوتی یا قوم پرستی صحیح معنوں میں ہمارے دلوں میں ہوتی تو آج جلوزئی سے شام کے الہول تک نہ مسلمان عورتوں کے میلے لگتے ۔ ناہی ہمارے ایلان سمندر کی لہروں پر تیرتے ۔ ناہی شربت گلہ کی آنکھوں میں سے بسی ہوتی اورناہی یتیمیوں کے لشکر سڑکوں پر کاغذ چننے اور ہوس پرستوں کے ہوس کی بھینٹ چڑھتے ۔ ہم سب کافی حدتک جھوٹے ہیں ۔ خواہ مذہب میں ہوں یا قوم پرستی میں ۔ حجرہ میں ہوں یا مسجد میں ۔ امام بارگاہ میں ہوں یا کلیسیا میں ۔ ہم کنٹرولڈ ہیں ۔ ہمارا ریموٹ کسی اورکے ہاتھ میں ہے جو ہم سے نعرے لگواتا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *