کیا بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے

تحریر : عثمان خان

بلوچستان اپنے وسیع وعریض رقبے کو لیکر گزشتہ کئی دہائیوں سے گونا گوں مسائل کا شکار ہے اگر یوں کہا جائے کہ یہاں کبھی بھی عوام کی منشاء ومرضی کی پالیساں نہیں بنائی گئی ہے تو بے جا نہ ہوگا ۔چاہے وہ بلوچستان کی ساحلی پٹی گوادر تا گڈانی ہو ہو یا پھر شالکوٹ سے لیکر چاغی تک ہمیشہ طفل تسلیاں دی گئی ہے جس طرح گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان پاک چائنا اکنامک زون کے سلسلے میں گوادر میں موجود تھے تو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے وزیراعظم کو تقریر کے دوران ہی کہا کہ یہاں کام نہیں ہورہا ہے اس بے بسی کا خیال خود چیئرمین سینیٹ کو بھی پتہ ہوگا ۔
وزیر اعظم عمران خان جب بلوچستان تشریف لائے تو انہیں یاد آیا کہ ماضی کی حکومتوں کی طرح وہ بھی بلوچ مزاحمت کاروں سے بات چیت کیلئے ایک کوشش شروع کردیں چناچہ انہوں نے شاہ زین بگٹی کو بلوچ مزاحمت کاروں سے مذاکرات کیلئے مشیر خاص مقرر کردیا مگر مبصرین کا خیال ہے کہ جب تک مزاحمت کاروں سے پاکستان کی عسکری قیادت نہیں چائے گی مزاکرات کامیاب نہیں ہونگے کیونکہ ماضی میں بھی سویلین حکومتیں ایسی کوششیں کر چکی ہے مگر عسکری قیادت کی حمایت نہ ملنے کی وجہ سے کسی کو کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے گو کہ حکومت پاکستان عسکریت پسند بلوچ رہنماؤں سے بات چیت کا ارادہ رکھتی ہے مگر گزشتہ پندرہ بیس برسوں میں یہ چوتھی حکومت ہے جس نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے ابھی تک تو کسی سیاسی جماعت کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی ۔

اس بار یہ زمہ داری نواب اکبر بگٹی کے پوتے شاہ زین بگٹی کو سونپی گئی ہے جو بلوچ مزاحمت کاروں کو مزاکرات کی ٹیبل پر لانے کے لئیے کام کرینگے ۔گزشتہ روز وفاقی کابینہ نے ناراض بلوچ رہنماؤں سے مزاکرات کا فیصلہ کیا ،وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر فواد چوہدری نے زرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ ناراض بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات جاری ہے مگر مزاکرات صرف ان سے ہونگے جو بھارت کے ساتھ رابطے میں نہیں ہے ۔

اس فیصلے کے بعد وزیراعظم نے عوامی جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی کو بلوچستان میں مفاہمت اور ہم آہنگی کیلئے اپنا معاون خصوصی مقرر کردیا ہے خیال رہے کہ شاہ زین بگٹی طلال بگٹی کے بیٹے اور نواب اکبر بگٹی کے پوتے ہے تاہم نواب اکبر بگٹی نے اپنی زندگی میں اپنے بیٹے طلال بگٹی سے ناراض ہوکر ان سے قطع تعلق کر رکھی تھی جسکے بعد طلال بگٹی ڈیرہ بگٹی بہت کم جاتے تھے ۔شاہ زین بگٹی اپنے دادا کے جمہوری وطن پارٹی کے اپنے دھڑے کے سربراہ ہے وہ اس وقت سیاست میں متعارف ہوئے جب سن 2014 میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ بے دخل بگٹی قبائل کو اپنے علاقوں میں لیجائینگے ۔سن 2006 کے آپریشن اور نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد بگٹی قبائل ڈیرہ بگٹی سے نقل مکانی کر چکے تھے ۔شاہ زین بگٹی قومی اسمبلی اور میڈیا میں بھی کئی بار بگٹی مہاجرین کیلئے آواز بھی اٹھاتے رہے ہیں ۔

سن 2018 کے انتخابات میں برسوں بعد نواب اکبر بگٹی کے خاندان کی انتخابی سیاست میں پھر سے واپسی ہوئی شاہ زین بگٹی ممبر قومی اسمبلی اور انکے بھائی گہرام بگٹی رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور یوں اس علاقے سے سابق صوبائی وزیر سینیٹر سرفراز بگٹی کا سیاسی تسلط ختم ہوا ۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نواب اکبر خان بگٹی کا خاندان اس وقت پاکستان اور بیرون ملک مقیم ہیں اور یہ ایک منقسم خاندان ہے ۔
جمہوری وطن پارٹی کے سابق مرکزی رہنما ،نواب اکبر بگٹی کے رفیق اور کئی سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے رفیق کھوسہ لکھتے ہیں کہ نواب بگٹی کے آخری دنوں میں شاہ زین بگٹی کا آنا جانا نہیں تھا اور انکے والد طلال بگٹی بھی صرف خوشی اور غم کے موقع پر تشریف لاتے تھے شاہ زین کا وہ سیاسی قد اور وزن نہیں جو باہر بیٹھی قیادت سے مزاکرات کرسکے وہ نواب اکبر بگٹی کے پوتے ضرور ہے مگر بلوچ مزاحمت کار شاہ زین بگٹی پر بھروسہ نہیں کرینگے ۔

شاہ زین بگٹی اپنے کزن براہمداغ بگٹی سے تو بات کرسکتے ہیں لیکن اس وقت جو مزاحمت ہورہی ہے شاہ زین میں یہ اہلیت نہیں کہ وہ ان لوگوں سے مزاکرات کرے اور ان کو بات چیت کے زریعے قائل کرسکے یہ بہت ہی دشوار ہےکیونکہ اس سے پہلے انکی سیاسی بلوغت کہیں نظر نہیں آئی ہوسکتا ہے کہ اب انکی تربیت ہوگی ہو مگر بلوچستان میں جو حالات چل رہے ہیں یہ صرف شاہ زین بگٹی کے بس کی بات نہیں ہے ۔

سابق صدر پرویز مشرف نے شاہ زین بگٹی کے دادا نواب اکبر خان بگٹی سے مزاکرات کئیے تھے جو ناکام ہوئے اور انکی پاداش میں انہیں قتل کردیا گیا ۔پیپلزپارٹی کے دور میں آصف علی زرداری نے آغاز حقوق بلوچستان کے نام سے پیکیج دیا اور مزاکرات کی کوشش کی گئی اسکے بعد نواز شریف حکومت میں بھی کوشش کی گئی اس وقت بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ تھے ۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے مطابق پی ٹی آئی حکومت مزاکرات میں سنجیدہ نظر نہیں آتی ان کا ماننا ہے کہ جب تک بلوچستان میں عسکری قیادت فیصلہ نہیں کرتی اس وقت تک سیاسی قیادت کچھ بھی نہیں کرسکتی ۔بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل کا کہنا ہے کہ شاہ زین بگٹی اگرچہ نواب اکبر بگٹی کے پوتے ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہیں فیصلہ کرنے کا اختیار بالکل نہیں ہے کیونکہ شخصیات تو آصف زرداری اور نواز شریف بھی بڑی تھیں ۔لیکن عسکری قیادت نے اختیارات اپنے پاس رکھے ہیں ۔اختر مینگل کے مطابق بلوچستان کا مسئلہ بیس سالوں میں اتنا پیچیدہ ہوگیا ہے کہ انہوں نے اعتماد سازی کے لئیے چھ نکات دئیے تھے مگر مزاکرات پر جانے سے پہلے یہاں گراؤنڈ ہموار ہونی چائیے تھی مگر ان کے پاس مسائل حل کرنے کا اختیار نہیں تھا جب بھی وزیر اعظم سے بلوچستان پر بات چیت ہوتی تو وہ کہتے کہ آرمی چیف سے مل لیں اگر اتنا بے اختیار وزیراعظم مزاکرات کیلئے کسی کو اپنا مشیر مقرر کردیں تو یہ ایک خوش فہمی تو ہوسکتی ہے مگر حقیقت سے اسکا کوئی تعلق نہیں ۔

بلوچستان میں جو کشیدگی اس وقت چل رہی ہے وہ پہلے سے بہت مختلف ہے اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب حالات پہلے جیسے نہیں رہے اب اگر آپ بیرون ملک مقیم بلوچ ناراض رہنماؤں سے بات کرینگے جن میں خان آف قلات ٫ حیر بیار مری اور براہمداغ بگٹی قابل زکر ہے مگر ان مزاحمت کاروں کو کیسے قائل کرینگے جو ڈاکٹر اللہ نذر اور دیگر مزاحمت کار جو پہاڑوں پر گئے ہیں اور کریمہ بلوچ کی شہادت کے بعد اس مزاحمت اور انکی تحریک میں بہت تیزی آگئی ہے یوں کہہ لیں کہ بلوچستان میں ایک ایسا لاوا پک رہا ہے جسکا اگر بروقت تدارک نہ کیا گیا تو کسی بھی وقت وہ ملک کے لئیے خطرہ بن سکتا ہے اور اگر اس کو افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے تناظر میں دیکھا جائے تو ریاست کو اس بار ایک سنجیدہ مذاکرات کرنے کی ضرورت ہے ورنہ کل کو مانگے تانگے کے سیاسی قیادت بھی مزاکرات کیلئے کبھی آمادہ نہیں ہونگے کیونکہ بالآخر انہیں بلوچستان میں ہی رہنا ہے اور بلوچستان کی سیاست کرنی ہے ۔

اگر عسکری قیادت اپنے اختیارات سیاسی قیادت کو دے دیں جو کہ ایسا بظاہر ناممکن منظر آتا ہے مگر بلوچستان کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے ایک راہ نکل سکتی ہے کہ اگر بلوچستان کی سیاسی قیادت جن میں سرفہرست ،سرادر اختر مینگل کی جماعت ،بزنجو کی جماعت، اسرار زہری ، نواب سراوان ،نواب جھالاوان ،نواب بیلہ سمیت بلوچستان کے ماہرین آئین وقانون ایک متفقہ دستاویز تیار کریں اور اسکی روشنی میں ایک نکاتی ایجنڈہ تیار کریں جسکی عسکری قیادت بھی اجازت دیں تب جاکر اس شورش کا کوئی دیرپا حل نکل آئیگا کہ اگر یہ قیادت بلوچستان اور بیرون ملک سمیت پہاڑوں پر گئے ہوئے بلوچ مزاحمت کاروں کو بات چیت پر آمادہ کرسکیں اور انکے ساتھ خطے میں امن کی بحالی کیلئے دیرپا اور بااختیار جرگہ کے معائدہ کریں اور مشترکات پر ایک لائحہ عمل طے کریں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *