منڈی ضرور جائیں مگر

کراچی میں مویشی منڈی

تحریر : معاذ معروف

بھائی کہاں جارہے ہیں آپ لوگ؟یہ راستے میں پاس گذرتے نوجوانوں اور چند بزرگوں سے بھری سوزوکی والوں سےمیرا سوال تھاجس پر سب نے بہ یک زبان جواب دیاکہ "بھائی منڈی قربانی کا جانور لینے جارہے ہیں”آپ بھی آج کل اسکا مشاہدہ کرتے ہونگے سچ پوچھیئےتو یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوتی ہے اور وہ پرودگار بھی یقیناخوش ہوتے ہونگے جس کے نام پہ جانور قربان کرکے اسکی قربت کے حصول کے لئے مسلمانان عالم ہر سال عید کے موقع پر اس سنت ابراہیمی کو بجا لاتے ہیں۔

ہمیں یہ تو معلوم ہوتاہےکہ جانور کتنے سالوں میں قربانی کے لئے تیار ہوتا ہے، کون کون سے جانور قربانی کئے جاسکتے ہیں ، کن عیوب اور نقائص کی وجہ سے جانورکی قربانی نہیں کی جاسکتی ،الغرض جوں جوں عید قربان کے ایام قریب آتے جاتے ہیں اسکے ساتھ ہی لوگوں میں قربانی کے مسائل کے حوالے سے شوق ، جزبہ اور معلومات میں اضافہ کا موقع ہاتھ آجاتا ہے لیکن منڈی میں قربانی کا جانور خریدتے وقت ، لین دین اور بیوپاریوں کے ساتھ بھاؤ تاؤ کے وقت ہم سے کچھ بے قاعدگیاں ، غیر مناسب حتی کہ کبھی کبھار غیر شرعی عمل سرزد ہوجاتا ہے جسکی طرف کم علمی اور عدم توجہ کی وجہ سے ہماراذہن کبھی نہیں جاتا جسکا نتیجہ اپنی عاقبت کو خراب کرنے کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے، مثلا ہمیں جانور خریدتے وقت مکروہ وقت میں یعنی جمعہ کی پہلی اذان کے بعد سے لیکر جمعہ کی نماز ختم ہونے کے وقت تک منڈی ودیگر تجارتی مراکز کا رخ کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے جسکی ممانعت قرآن کریم کے سورہ جمعہ کے دوسرے رکوع میں آئی ہے۔

اسی طرح دو شخص آپس میں جانور کی قیمت طے کرنے میں مصروف ہو ں ایک نے مال کی ستر ہزار قیمت لگائی جب کہ مالک نے اسّی ہزار قیمت بتائی انکی آپس میں تقریبا بات بن گئی تھی کہ اسی دوران تیسرا شخص جاکے پچاسی یا نوّے ہزار قیمت بتاکر وہ حاصل کرتا ہے اسکا یہ عمل حدیث کی روشنی میں سراسر ناجائز ہے ،عموما ان دنوں میں چور اچکّے جانور چوری کرکےمنڈی میں سستے داموں بیچتے ہیں جبکہ خریدار کو مارکیٹ ویلیو کا علم بھی ہوتا ہیکہ اس سائز کا جانور اتنی کم قیمت میں کہیں بھی نہیں ملے گا لیکن اسکے باوجودوہ اسے کم داموں میں خریدتا ہے ایسے لوگوں سے خرید کر انکومزید چوری کرنے پر ابھارنا اور انکے ساتھ تعاون کرنا بھی شرعا ناجائز ہے ۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض لوگ ویسے شوقیہ خریدنے کی نیت کئے بغیر بیوپاریوں کے ساتھ بھاؤ تاؤ کرکے انکا ٹائم ضائع اور کسٹمر خراب کررہے ہوتے ہیں کبھی ایک کے پاس جاتے ہیں تو کبھی دوسرے کو تنگ کرنے کی نیّت سے جاتے ہیں ایذاء مسلم کے زمرے میں داخل ہونے کی وجہ سے یہ عمل بھی بالکل ناجائز ہے، اسی طرح بسا اوقات یہ کہا جاتا ہیکہ یار ! یہ تو بالکل ہماے وارے میں نہیں ہےیا اتنے پیسے میرے پاس نہیں یا میں اتنے پیسے لایا نہیں یا اس سے سستا اور اچھا جانور مجھے دوسری منڈی میں مل رہا تھا لیکن میں نے لیا نہیں حالانکہ حقیقت اسکے برعکس ہوتا ہےتو جھوٹ کا سہارا لیکر لین دین کرنا بھی خلاف قرآن و سنت ہےجس سے حد درجہ احترا ز لازمی ہے ، یہ چند اہم اور قابل عمل امور ہیں جن کی طرف منڈی جانے کے بعد بھرپور توجہ ی ضرورت ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *