سابق سینیٹر تاج آفریدی کی کمپنی اور النور پٹرولیم کیخلاف تحقیقات تیز

کراچی : باپ پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر تاج محمد آفریدی کی ملکیتی کمپنی الحاج انٹر پرائزز اور مناف کباڈیا کی میسرز النور انٹرپرائزز کے خلاف ایف آئی اے میں دائر شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے معاملہ ایف بی آر کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔

ایف آئی اے کو تاج محمد آفریدی کی کمپنی الحانن انٹر پرائرز کی شکایات موصول ہوئی تھیں کہ انہوں نے پاکستان سے پیسہ بیرون ملک روانہ کیا جس کی ان کے پاس منی ٹریل بھی نہیں ہے اور بڑی تعداد میں پیسہ باہر گیا جو کسی بھی بینکنگ چینل کے ذریعے باہر نہیں گیا ۔

جس کے بعد ایف آئی اے کے متعلقہ حکام نے شکایت کو ایف بی آر روانہ کئے جانے کی سفارش کر دی ہے تاکہ مذید کارروائی ایف بی آر میں کی جائے ۔ ای میل پر مبنی شکایت کے مندرجات پر کارروائی کی گئی ہے جس کے لئے ویری فکیشن نمبر 2020/17 کے تحت کی گئی تھی ۔تاہم ایف بی آر کو روانہ کی جانے والی اس شکایت کے علاوہ اس معاملے پر 2 مزید شکایات بھی ایف آئی اے میں موجود ہیں ۔

مذید پڑھیں :ڈاؤ یونیورسٹی ہیلتھ سائنسز کو کمرشیلائیزڈ کردیا گیا،کرونا وائرس ٹیسٹ کی بھاری فیس طلب

معلوم ہوا ہے کہ شکایت کے مطابق دونوں کمپنیاں دیگر کمپنیوں کے ساتھ مل کر نیٹو فورسز کو 2 اقسام کے جیٹ فیول، ڈیزل سپلائی کرتی رہی ہیں ۔ شکایت کے مطابق دونوں کمپنیوں کے ساتھ مبینہ دیگر کمپنیاں افغانستان میں نیٹو کو تیل سپلائی کرنے والی این سی ایس نامی کمپنی کے سب کنٹریکٹر ہیں ۔

شکایت کے مطابق یہ الحاج انٹرپرائزر اور مناف کباڈیا کی کمپنی النور پٹرولیم کئی سال سے جی ایس ٹی کی مبینہ چوری کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ شکایت کے مطابق پی ایس او کی جانب سے فیول نہ منگوانے کے باعث جی ایس ٹی کی مبینہ چوری ممکن ہوئی ہے ۔

مذید پڑھیں :فائیو جی ٹیکنالوجی کیس میں بھارتی اداکارہ کو ایک ہفتے کی مہلت

تاج آفریدی نے سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پٹرولیم کا ممبر ہونے کے دوران پاکستان اسٹیٹ آئل اور کسٹم ایف بی آر پر اثر انداز ہو کر پی ایس او کو سائیڈ لائن کرکے اپنی کمپنی اور النور پٹرولیم کو اسپیس مہیا کیا ۔

اس حوالے سے مذید معلوم ہوا ہے کہ الحاج انٹرپرائزر کے خلاف پہلے بھی تحقیقات ہوئی ہیں تاہم ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس چوری کی جانچ کے دوران مذید ہوشربا انکشافات سامنے آئیں گے ۔

تحقیقاتی اداروں کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تاج آفریدی نے سینیٹر ہونے کی وجہ بیرون ملک کے بعض ایسے دورے کئے اور بعض ممالک کے ایسے لوگوں کو اپنی سیکورٹی و خصار میں پاکستان کے حساس مقامات کے دورے کرائے ہیں جس پر ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے جانے کا امکان ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *