کسی کا پاپا نہ بچھڑے

کسی کا پاپا نہ بچھڑے

عربی اور پشتو کی شاعری میں ایک قدر مشترک دیہی وصحراوی زندگی کا شکوہ ہے۔ نقل مکانی اور خانہ بدوشی کا ماتم ہے ۔ دونوں قوموں کی بد قسمتی یہ ہے کہ ہر مشکل آکر ان کے گلے کا طوق بن جاتی ہے ۔ آج بھی مشرق وسطی سے شمالی افریقہ تک کے منظرنامے کو دیکھ کر ہوبہو یہی منظر نامہ درپیش ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ دونوں قوموں کی شاعری میں مسافری ، جدائی ، بیلتون اور خونریزی سے پیدا ہونے والے حالات کا شکوہ ہی شکوہ ہے ۔ وطن کی یادیں ہیں ۔ گودر کہانی ہے ۔
امرا القیس کی ام رباب اور عنیزہ ہو یا عثمان سواتی کی خانخیلہ ۔ سبھی اسی ایک درد کی تخلیق اور ایک ہی جیسے حالات کا نتیجہ ہے ۔

کل کی خبر ہے کہ افغانستان سے ایک بار پھر ہزاروں خاندان غیر یقینی صورتحال کے باعث خانہ بدوش ہوکر ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں ۔ جن کے لئے طورخم کے اس پار عارضی کیمپوں کے قیام کے انتظامات زیر بحث ہیں۔

امریکہ میں مقیم ایک سینئر افغان گلوکار کا ایک انٹرویو سن رہا تھا جس میں امریکہ میں رہتے ہوئے بھی وہ اپنے وطن کے لئے بے قرار تھا اور رو رہا تھا ۔ بتایا کہ امریکہ کی اس پر رونق زندگی میں بھی ہم اپنے ویران ویجاڑ وطن کے مٹی کے گھروندوں کو بھلا نہ سکے ۔

سوویت یونین ہو ، امریکہ ہو ، یا پھر داخلی جنگ سالار ۔ سب بے رحم ہیں ۔ ہر دور نے بڑی بے رحمی کے ساتھ افغان عوام کو دربدر کردیا ہے اورکررہے ہیں ۔ پشتو کی کہاوت ہے کہہ کچھ پن چکی خراب تھی اور کچھ اناج میں نمی تھی ۔ یعنی کچھ خارجی عوامل تھے اور کچھ داخلی شرارت تھی جس نے مل کر افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔

گھر بار چھوڑنا ، کیمپوں میں رہنا ، بچوں کی تعلیم سے محرومی ، غیروں کے گلی کوچوں میں کچرے اٹھانے کے لئے اپنے پھولوں کو چھوڑنا کس ستم سے بھرے فیصلے ہیں ۔ یہ حالات کا جبر ہے اورجبر میں فیصلے تھوپے جاتے ہیں ۔ یہ کوئی ان سے جاکر پوچھے جو چار دہائیوں سے اس درد کو سہہ رہے ہیں ۔

دنیا کے ظلم ، شقاوت ، سنگ دلی اور بے حسی کی بھی انتہا دیکھیں کہ ان کی نظریں افغان کیمپوں میں وہ دکھ اور درد کبھی تلاش کرنے کا خیال نہیں آتا جو آنسو بن کر کاک شٹل برقعوں کے نیچے خامو شی کیساتھ بہہ رہا ہے ۔ مگر انہیں کیمپوں میں مشرق کی مونا لیزا کی آنکھیں تلاش کرنے کے لئے عالمی میڈیا کے کیمرے متحرک رہتے ہیں ۔

عید الاضحی کی آمد ہے ۔ افغانستان میں ایک بار پھر جنگ عروج پر ہے ۔ کسی ننھے بچے کے لئے یہ اہم نہیں کہ اس کا باپ کا فر ہے یا ولی ۔ ایجنٹ ہے یا وطن دوست ۔
اس کے لئے بس پاپا ہی ہے ۔ اوراب ایک بار پھر ہزاروں کے پاپا بچھڑنے کی گھڑی سرپر ہے ۔ اللہ کرے پھر کسی کا پاپا نہ بچھڑے ۔ پھر کسی کا پاپا قتل نہ ہو ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *