ایران بنے گا شطرنج کا بادشاہ

تحریر: علی ہلال

مشرق وسطیٰ کے نئے منظرنامہ میں ایران کو شطرنج کے بادشاہ کی حیثیت ملنے کاامکان نمایاں ہونے لگا ہے ۔

مشرق وسطیٰ میں اپنے روایتی حریف افغان طالبان کو رام کرنا تہران کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے ۔ سال 2013میں طالبان قطر دفتر کے سربراہ ملا طیب آغاز کی سرپرستی میں ایران کا پہلا دورہ ایسا کیامیاب ہوا کہ افغان طالبان اورتہران کے درمیان ملاقاتوں اور رابطوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا ۔

معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ 2019 میں جب امریکہ طالبان مذاکرات کا ایک سیشن سعودی عرب میں رکھنے کی کوشش کی گئی تب افغان طالبان نے سختی سے اس مطالبے کو مسترد کردیا ۔ جس پر کچھ تجزیہ کاروں نے اسے ایرانی دبائو کا نتیجہ قراردیا تھا ۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ میں’غیر قانونی‘ ایرانی سکولوں کیخیلاف کارروائی

رواں برس کے آغاز سے اب تک ملابرادر کی قیادت میں طالبان وفد نےتہران کے چار دورے کئے ہیں ۔ آج جمعرات کو کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات بھی تہران ہی کی میزبانی میں ہوگئ ہیں ۔

مزے کی بات یہ ہے کہ اس وقت عراق میں سرگرم پاپولر فورسز کی ایران نواز تنظیموں نے امریکی اڈوں پر حملے تیز کردئے ہیں اور شیعہ راہنما قیس خزعلی نے امریکی انخلا کے لئے طالبان کا طریقہ کار آئیڈل قراردیا ہے ۔

مزید پڑھیں: افغان طالبان کا 155 اضلاع پر قبضہ

عراق میں اس وقت ٹھیک وہی صورتحال ہے جو افغانستان میں ہے ۔ بغداد کی حکومت بہت کمزور ہے اور الحشد الشعی کسی بھی وقت اقتدار پر قبضہ کرنے کی اہلیت حآصل کرچکی ہے ۔ ایران کے لئے افغان طالبان ایک بڑا دردر سر تھے جسے تہران کے ذہین سفارت کاروں اور ہوشیار ووطن پرست مذاکرات کاروں نے رام کرلیا ہے ۔

لہذا مشرق وسطیٰ کے ماہرین کا یہ کہناہے کہ تہران ایک سمت چین اور روس اوردوسری جانب سعودی عرب کے دروازے تک پہنچنے کا خواب پورا کرچکا ہے ۔ مستبقل میں امریکہ یا کسی بھی عالمی قوت مشرق وسطیٰ سے متعلق مذاکرات میں ایران ہی کو ترجیح دے گی ۔ ایران سکون سے رہ کر اپنے مخالفین کو مات دے سکے گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *