منگھو پیر میں غیرقانونی ہائیڈرنٹ چلائے جانے کا انکشاف

(اسٹاف رپورٹر)منگھو پیر میں منظور شدہ ہائیڈرنٹ کے ساتھ ایک غیرقانونی ہائیڈرنٹ چلائے جانے کا انکشاف ہوا ہےجس سے ایک اندازے کے مطابق ماہانہ تین کروڑ روپے کا پانی حب پمپنگ اسٹیشن کی ضلع غربی کے علاقوں کو پانی فراہم کرنے والی مین لائین سے کنکشن لے کر چوری کیا جاتا ہے

واضح رہے واٹر بورڈ کے شہر میں چھ منظور شدہ ہائیڈرنٹ میں منگھوپیر کرش پلانٹ کا ہائیڈرنٹ بھی شامل ہے تاہم اس کے ساتھ ہی گزشتہ تقریباً دس ماہ سے ایک دوسراغیر قانونی طور پر ہائیڈرنٹ قائم کر کے چلایا جا رہا ہے

مزید پڑھیں: کراچی : بلدیہ ٹاؤن میں واٹر بورڈ کا سیاسی افراد کے ساتھ ملکر غیر قانونی ہائیڈرنٹ قائم

ذرائع نے بتایا کہ اس کے لئے کنکشن واٹر بورڈ کے حب پمپنگ اسٹیشن سے اورنگی ،بلدیہ ٹاون ،سائٹ اور ضلع غربی کے دیگر علاقوں کو پانی فراہم کرنے والی مین لائن سے چھ انچ کا کنکشن لیا گیا ہےاس ہائیڈرنٹ کی واٹر بورڈ سے منظوری لی گئی اور نہ ہی کوئی ٹینڈر کیا گیا ہے

ذرائع کا کہنا ہے اس سے ماہانہ تقریباًتین کروڑ روپے کا پانی فرخت کیا جاتا ہے لیکن واٹر بورڈ کے بجائے پیسہ مختلف افراد کی جیبوں میں جا رہا ہے حکومت سندھ کےذمہ داران کو علم ہونے کے باوجود اس کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی جبکہ مذکورہ علاقوں کے مکینوں کو ان دنوں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے

مزید پڑھیں: منگھو پیرمیں‌ 48 انچ کی لائن سے چلنے والے 2 ہائیڈرنٹس مسمار

چند روز قبل اورنگی ٹاون میں ایس ایس پی نے ایک غیر قانونی ہائیڈرنٹ پکڑا تھا لیکن ہائیڈرنٹ چلانے والوں نے ایکسن واٹر بورڈ حب ٹرنک مین کی منظوری دکھائی جس پر پولیس نے واٹر بورڈ کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا تو وہاں ایسی کسی منظوری کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا شہریوں کا کہنا ہے جب شہر میں ضرورت سے کم پانی دستیاب ہے تو اس کی چوری کو ہر صورت روکا جانا چاہئے۔

بشکریہ : جنگ

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *