کراچی پریس کلب کے الیکشن میں سیاست و محبت بام عروج پہ ہوتی ہے

کراچی پریس کلب کے 28اکتوبر کو ہوئے انتخابات کا اونٹ ابھی تک کسی کروٹ نہیں بیٹھا ہے بظاہر ڈیموکریٹس 11 نشستوں پر کامیاب ہو کر انتخابات جیت چکے ہیں لیکن یہ جیت ادھوری ہے کیونکہ 12 ویں نشست جو کلب کے آئین کے مطابق آئینی سربراہ کی ہے اس پر مقابلہ برابر ہونے کی وجہ سے اس وقت کراچی پریس کلب کی نومنتخب باڈی کی حیثیت اس لاش کی ہے جس کا سر نہ ہو۔

کراچی پریس کلب کے اس سال ہونے والے انتخابات گذشتہ کئی سالوں سے ہونے والے انتخابات سے کافی منفرد رہے کراچی پریس کلب پر کافی عرصے سے ڈیموکریٹس غالب ہیں، ڈیموکریٹس کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور اور ان کے اتحادیوں پر مشتمل ایک گروپ کا نام ہے جس میں ان کے اتحادی کوئی اور نہیں کراچی یونین آف جرنلسٹس برنا کے ہی چند لوگ ہیں جو جیتتے تو دستور کے ہی ووٹوں سے ہیں لیکن 12 رکنی باڈی میں صدر، نائب صدر اور چار گورننگ باڈی کی نشستوں کی صورت میں نصف کا کوٹہ ان کے لیے مخصوص ہے جبکہ سیکریٹری، خازن اور جوائنٹ سیکریٹری سمیت گورننگ باڈی کی تین نشستیں دستور اپنے پاس رکھتی ہے ،

2017 کے انتخابات میں صدر کے عہدے پر دستور کے اتحادی سراج احمد کو کے یو جے برنا کے احمد ملک کے ہاتھوں شکست نے ڈیموکریٹس کو ہلا کر رکھ دیا تھا ڈیموکریٹس کو یہ نظر آنے لگا تھا کہ اب کراچی پریس کلب ان کے ہاتھوں سے نکلنے والا ہے اور اگر انہوں نے اسے اپنے پاس رکھنا ہے تو انہیں کچھ کرنا پڑے گا اور پھر وہ "کچھ” کر ہی گزرے 2018 میں کراچی پریس کلب کی تاریخ میں پہلی بار 600 سے زائد افراد کو بیک وقت کلب کی ممبر شپ سے نواز دیا گیا مخالفین اس پر بہت زیادہ اعتراض کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جن افرا د کو ممبر شپ دی گئی ان کی اکثریت کراچی پریس کلب کی ممبر شپ کی اہلیت کی شرائط پر پورا نہیں اترتی بہت سے سینئرز کو نظرانداز کرکے پسند نا پسند کی بنیاد پر جونیئرز کو ممبر شپ دی گئی جبکہ ایسے بھی کئی افراد کو رکنیت سے نوازا گیا جو صحافت کے پیشے سے وابستہ ہی نہیں، ممبر شپ میں سن کوٹے کی نئی ٹرم بھی متعارف کرائی گئی اور ان سب میں جو بات مشترک تھی وہ یہ کہ اکثریت کا تعلق دائیں بازو کے نظریات رکھنے والوں سے ہے۔

مخالفین اپنے اعتراضات میں ایک اہم اعتراض ممبر شپ کی رکنیت کے طریقہ کار پر بھی کرتے ہیں اور اس کے لیے آئین کا حوالہ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رکنیت کا عمل دسمبر سے پہلے مکمل ہوجانا چاہیے تھا لیکن نئے ارکان کی رکنیت سازی کا مرحلہ دسمبر 2018 کے دوسرے عشرے میں جا کر مکمل ہوا اور نئی رکنیت سازی پر جمع کرائے گئے اعتراضات کو سنے بغیر اور ان پر کوئی فیصلہ کیے بغیر ہی نئے ممبران کو دسمبر 2018 کے تیسرے اور آخری عشرے میں ہوئے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا اختیار بھی دیدیا گیا اور یہ بھی آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے

مخالفین سے جب اس پر سوال کیا جائے کہ آخر انہوں نے اس پر بھرپور احتجاج کیوں نہیں کیا اور نئی ممبر شپ میں جو متنازعہ افراد تھے انہیں ممبر بنانے سے روکنے کے لیے کیا تمام آئینی طریقے استعمال کیے تو ان کا جواب ہے کہ اعتراضات جمع کرائے گئے تھے لیکن ڈیموکریٹس نے اکثریت کی بنیاد پر فیصلے کیے وہ ساتھ ہی ایک اور موقف بھی اختیار کرتے ہیں جو کمزور ہونے کے باوجود اخلاقی طور پر درست معلوم ہوتا ہے

مخالفین کا کہنا ہے کہ نومبر کے مہینے میں کراچی پریس کلب پر چھاپہ پڑا اور پھر اگلے ہی روز پریس کلب کے ایک سینئر رکن نصراللہ چوہدری کو گرفتار کرلیا گیا کراچی کی صحافی برادری نے اس موقع پر اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر پریس کلب کے وقار کی خاطر ایک مشترکا پلیٹ فارم پر متحد ہونے کا فیصلہ کیا اس موقع پر اگر ممبر شپ کو لے کر کوئی محاذ کھولا جاتا تو اس سے کلب پر چھاپے اور نصراللہ کی گرفتاری کے خلاف چلنے والی تحریک متاثر اور کمزور ہوسکتی تھی لیکن اتنا ضرور کیا گیا کہ مخالفین کے ایک بڑے دھڑے نے 2019 کے الیکشن کا بائیکاٹ کیا ،

اب واپس آتے ہیں الیکشن 2020 پر، اس الیکشن کی سب سے خاص بات ڈیموکریٹس کے مخالفین کا متحد ہونا ہے گذشتہ کئی سالوں سے اپنی اپنی مسجدیں اور اپنے اپنے امام بنا کر نمازیں پڑھنے والوں کو بالاخر یہ احساس ہوگیا کہ یہ نمازیں گلے پڑ سکتی ہیں، اختلافات کو بھلا کر یونائیٹڈ پینل کے نام سے اتحاد تشکیل دیا گیا اور الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا گیا لیکن اس بار بھی کے یو جے برنا کے چند لوگ ڈیموکریٹس کے اتحادی کے طور پر ان کے ساتھ کھڑے رہے

دونوں پینلز نے اپنی الیکشن مہم میں پلاٹس کی سیاست کی لیکن یونائیٹڈ پینل کی الیکشن مہم کافی عرصے کے بعد منظم لیکن کسی حد تک جارحانہ نظر آئی یونائیٹڈ پینل نے پہلے اپنا منشور دیا اور اس میں بھی ابتدائی طور پر 4 سے 5 نکات پلاٹس کے گرد ہی گھومتے تھے لیکن پریس کلب کے غیرجانیدار ارکان کے نزدیک یونائیٹڈ پینل کا منشور ناصرف کافی جامع اور حقیقت سے قریب تر تھا بلکہ انہوں نے اس پر عملدرآمد کے لیے ایک پلان بھی دیا تھا یونائیٹڈ پینل نے کراچی پریس کلب کے صدر کے ساتھ ٹی وی شو میں پیش آنے والے واقعے کو بھی کہیں کہیں اپنی الیکشن مہم کا حصہ بنایا لیکن وہ اس کا کوئی خاص فائدہ نہ اٹھا سکے

ڈیموکریٹس بھی اس دفعہ کافی متحرک نظر آئے اور انہوں نے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹرز کو رام کرنے کی کوشش کی لیکن ان کے مخالفین سمجھتے ہیں کہ 2019 میں ہوئی 600 سے زائد نئی ممبر شپ کے بعد انہیں اس کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی اگر وہ متحرک تھے بھی تو اپنی صفوں میں ہوئی کچھ ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے تھے

ڈیموکریٹس کو اس دفعہ اپنے اندر سے بغاوت کا سامنا تھا۔ دستور سے تعلق رکھنے والے کئی افراد موجودہ قیادت سے ناراض نظر آتے ہیں انہوں نے اپنی ناراضگی کا اعلانیہ اظہار بھی کیا اور ان کی جانب سے ایک آزاد امیدوار عرفان الحق الیکشن کے میدان میں نظر بھی آئے گوکہ وہ شکست کھاگئے لیکن انہیں ملنے والے 300 سے زائد ووٹ یہ ضرور بتاگئے کہ کہیں کوئی لاوا ضرور پک رہا ہے۔ دستور کی صفوں سے یہ نعرہ بھی بلند ہوا کہ "ووٹ صرف دستور کا” یعنی دستور کے لوگ ڈیموکریٹس کے پینل میں شامل صرف دستور کے امیدواروں کو ووٹ دیں گے ،

ڈیموکریٹس کے صدارتی امیدوار پورے پینل میں سب سے کمزور نظر آئے اور پورے پینل میں سب سے کم ووٹ بھی انہی کے حصے میں آئے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ایک طرف یہ ان کی مقبولیت میں کمی کا ثبوت ہے تو دوسری طرف "ووٹ صرف دستور کا” کے نعرے کا اثر بھی ہے ،

کراچی پریس کلب کے صدر کے عہدے پر مقابلہ برابر ہے اور دونوں امیدواروں نے یکساں 579 ووٹ حاصل کیے ہیں اس پر بھی ڈیموکریٹس میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے ڈیموکریٹس کے بعض سینئر افراد کے نزدیک 600 سے زائد نئی ممبر شپ کے باوجود صدر کے امیدوارکا پورے 600 ووٹ بھی نہ لینا لمحہ فکریہ ہے لیکن وہ ساتھ ہی یونائیٹڈ پینل کے صدارتی امیدوار احمد ملک کی کارکردگی کے بھی معترف ہیں جو انہوں نے کراچی پریس کلب کے ارکان کے پلاٹس کے مسائل حل کرنے میں دکھائی ہے لیکن دستور کے اتحادی اسے بہت زیادہ سنجیدہ لے رہے ہیں ان کے نزدیک ان کے صدر کے امیدوار کو اتنے کم ووٹ ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ دستور کی جانب سے انہیں دانستہ ہرانے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ صدر اور سیکریٹری کے عہدوں پر ووٹوں کا فرق تین سو سے زائد کا ہے اور صرف یہی نہیں وہ اسے 2017 کے الیکشن میں صدر کے عہدے پر ہی ہوئی ڈیموکریٹس کی ہار کا تسلسل سمجھتے ہیں جب دستور کے اتحادی اور ڈیموکریٹس سے صدارتی امیدوار سراج احمد کو احمد خان ملک نے شکست دی تھی

تادم تحریر کراچی پریس کلب کا صدر کون ہوگا اس کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے ادارہ بغیر اپنے آئینی سربراہ کے ہے اور ایسا کراچی پریس کلب کی تاریخ میں پہلا بار ہوا ہے اور اس "ہونی” نے اس بات کی جانب بھی توجہ مبذول کرادی ہے کہ کراچی پریس کلب کے آئین میں ضروری بنیادی ترامیم کی ضرورت ہے۔

نوٹ : مذکورہ تحریر وٹس ایپ گروپ سے لی گئی ہے ،جس کے لکھاری کا نام معلوم نہیں‌ ہو سکا .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *