رہنما جے یو آئی ف قاری محمد عثمان کا مفتی محمد تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے کی مذمت

کراچی : جمعیت علماء اسلام پاکستان کے رہنماء قاری محمد عثمان نے شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب پر قاتلانہ حملے کی کوشش پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے کروڑوں مسلمان اور امت مسلمہ کا ہر فرد شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے کی کوشش پر متفکراور دکھی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سندھ حکومت اس سازش کو بے نقاب کرکے مسلمانان عالم میں پائے جانے والے اضطراب کو ختم کرتے ہوئے مفتی تقی عثمانی سمیت علماء کرام کی سیکورٹی کو یقینی بنانے میں کوئی کمی باقی نہ چھوڑیں۔

انہوں نے کہا کہ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی امت مسلمہ کی متاع اور امانت ہیں۔ اگر ان پر گزشتہ حملہ آوروں کو نشان عبرت بنایا گیا ہوتا تو شایددین اور ملک دوشمن عناصر ایسی جرات پھر نہ کر سکتے۔ مگر روز اول سے ہزاروں علماء کرام اور طلباء کے قاتل اول تو گرفتار ہی نہیں کئے جاتے ہیں اگر غلطی سے کوئی گرفتاری ہو بھی جائے تو آج تک کسی قاتل کو سزا نہیں دی گئی۔

قاری محمد عثمان نے کہا کہ ان سمیت کراچی میں کئی علماء کرام سے انکی سیکورٹی اور اسکواڈ واپس لینے کا تو واضح مقصد یہ ہے کہ حملہ آور تنہا نہیں جبکہ علماء کرام کو ایک منصوبہ بندی کے تحت تنہا کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 ماہ پورے ہورہے ہیں ڈاکٹر عادل خان شہید کے کیس میں نہ کوئی پیش رفت ہوئی اور نہ ہی قاتل گرفتار ہوئے۔ سندھ حکومت اور سیکورٹی پر مامور ادارے ملک اور قوم کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *