الحمد للہ حق بہ حقدار رسید

تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

یہ بڑی اطمینان اور نہایت مسرت کی بات ہے کہ استاد گرامی قدر حضرت اقدس مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر علیہ الرحمہ کی وفات کے بعد مادر علمی بین الاقوامی شہرت یافتہ دینی دانش گاہ جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے منصب اہتمام اور حضرت ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمہ کے جانشین کا فیصلہ بڑی خوش اسلوبی اور عمدگی کے ساتھ کر لیا گیا ہے۔۔۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کا نظام مجلس شوری کی رہنمائی میں چلتا ہے، جس میں کبار، زیرک، تجربہ کار، اہل الرائے حضرات علمائے کرام موجود ہیں، جو جامعہ سے حد درجے خلوص، محبت اور عقیدت کا رشتہ رکھتے ہیں۔۔۔۔ حضرت ڈاکٹر صاحب کی رحلت کے بعد شوری بیٹھی تو ڈاکٹر صاحب جیسی عظیم دینی، علمی اور عالمی شخصیت کی جانشینی اور ان کے بعد پیدا ہونے والے منصب اہتمام کے خلا کو پر کرنے کا اہم ترین معاملہ در پیش تھا۔۔۔ ۔ یہ بات پہلے ہی غیر رسمی طور پر تقریباً طے سمجھی جا رہی تھی کہ حضرت ڈاکٹر صاحب کے بعد جامعہ کے اہتمام کا بار عظیم جامعہ کے نائب مہتمم اور حضرت محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کے لائق فائق صاحبزادے مولانا سید سلیمان بنوری دامت برکاتہم کے کندھوں پر آئے گا۔۔۔ کیونکہ حضرت ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمہ کی حیات میں ہی سید مولانا سلیمان بنوری دامت برکاتہم حضرت ڈاکٹر صاحب کی نیابت بڑی مہارت اور ذمے داری سے انجام دیتے چلے آ رہے تھے۔۔۔۔ بالخصوص ڈاکٹر صاحب کے علیل ہونے کے بعد عملاً سید سلیمان بنوری صاحب ہی کار اہتمام انجام دیتے رہے تھے۔۔۔

ڈاکٹر صاحب کے طویل دور اہتمام میں در اصل مولانا سید سلیمان بنوری دامت برکاتہم کو اہتمام اور انتظام کا بہترین تجربہ اور نظام کو چلانے کی اعلیٰ صلاحیت حاصل ہوئی۔۔۔ چنانچہ شوریٰ نے بلا کسی حیل و حجت کے نہایت صائب فیصلہ کرتے ہوئے مولانا سید سلیمان بنوری دامت برکاتہم کو نیا مہتمم منتخب کیا۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور نہایت مستحسن، دور رس اور بہترین فیصلہ نیابت اہتمام کا بھی انجام پایا۔۔۔۔ شوریٰ نے حضرت بنوری علیہ الرحمہ کے نہایت ہی لائق فائق پوتے، نوجوان فاضل اور ممتاز اسکالر مولانا سید احمد یوسف بنوری کو نائب مہتمم مقرر کر دیا۔۔۔ بلا شبہ جامعہ کی مجلس شوریٰ اس انتہائی بصیرت افروز فیصلے پر مبارکباد کی مستحق ہے اور یہ فیصلہ اہل شوریٰ کی رائے کی اصابت، فراست اور دور اندیشی کا آئینہ دار ہے۔

جامعہ کے اہتمام اور نیابت اہتمام کے فیصلے پر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ حق بہ حقدار رسید۔۔۔۔ یہاں حقدار ہونے کی بات اگر صرف اس بنیاد پر بھی سمجھی جائے کہ ماشاءاللہ مولانا سید سلیمان بنوری صاحب دامت برکاتہم اور مولانا سید احمد بنوری دامت برکاتہم کا تعلق بنوری خاندان سے ہے، ایک حضرت بنوری کا بیٹا ہے تو دوسرا حضرت کا پوتا ہے، اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ محض یہ صلبی نسبت اور خونی رشتہ بھی بڑا مبارک اور قابل صد تکریم ہے اور محض اس خاندانی نسبت اور رشتے ہی کی بنیاد پر بھی یہ دونوں حضرات ان مناصب کے بالکل جائز طور پر اہل، مستحق اور حقدار تھے اور ہیں۔۔۔۔ تاہم اس سے زیادہ اطمینان کی بات یہ ہے کہ الحمد للہ یہ دونوں حضرات حضرت بنوری سے صلبی اور خونی رشتے و نسبت کے ساتھ ساتھ حضرت کے علم وفضل، تقویٰ و طہارت اور فکر و نظر میں بھی ان کے سچے جانشین اور نقش حقیقی ہیں۔۔۔۔۔

مولانا سید سلیمان بنوری ماشاءاللہ اپنے عظیم والد حضرت بنوری ہی کے گلشن فیض جامعہ بنوری ٹاؤن میں اپنے والد کے عظیم شاگردوں، اہل اللہ اور کبار علماءکے زیر سایہ تمام علوم و فنون اپنی والدہ ماجدہ کی خصوصی توجہات، سرپرستی اور دعاؤں کے سائے میں کمال قابلیت کے ساتھ حاصل کر چکے ہیں۔۔۔ دورہ حدیث میں مولانا سلیمان بنوری نے وفاق المدارس کا امتحان ملک بھر میں ٹاپ کیا، امتحان دے کر جیسے ہی فارغ التحصیل ہوئے تو آپ کو نیابت اہتمام کی ذمے داری سونپ دی گئیں اور اس کے ساتھ ہی اپنے مخلص اور بزرگ اساتذہ کی نگرانی میں انہوں نے تدریس بھی شروع کردی۔۔۔ آپ کو نیابت اہتمام کی ذمے داریاں حضرت بنوری کے تربیت یافتہ شاگرد حضرت ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر علیہ الرحمہ کی مشفقانہ سرپرستی اور عملی تربیت حاصل رہی۔۔۔ طویل عرصہ تعلیم، تدریس اور عملی تربیت کی بھٹی میں گزار کر بلا شبہ آج سید سلیمان بنوری ہر لحاظ سے اس قابل ہو چکے ہیں کہ اپنے عظیم والد کی عظیم امانت کا بار عظیم اچھی طرح سنبھال سکیں۔۔۔ یوں اللہ تعالیٰ نے تقریباً چوالیس سال بعد حضرت بنوری کی امانت اس انداز میں ان کے صلبی جانشین کو سونپنے کا سامان کیا کہ ان کو ہر طرح کے تربیتی مراحل سے گزار کر اس امانت کا اہل بھی بنایا۔۔۔

مجھے جہاں اس بات کی نہایت خوشی ہے کہ حضرت بنوری کی امانت اتنے عرصے بعد ان کے حقیقی اور صلبی جانشین کو لوٹا دی گئی ہے وہاں ان کے جانشینوں کی اہلیت، قابلیت اور مقبولیت کو دیکھ کر انتہائی قلبی اطمینان بھی محسوس ہو رہا ہے کہ ان شاءاللہ اب گلشن بنوری خوب پھلے پھولے گا۔۔۔۔ عموماً ایسا ہوتا آیا ہے کہ اکابر کی اولاد اہل نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے ان کا سارا علمی اور دینی سرمایہ اور اثاثہ ضائع ہوجاتا ہے۔۔۔۔ یہ اللہ کا خصوصی کرم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت بنوری کے صلبی جانشینوں کی اپنی رحمت سے تربیت و تعلیم کا بندوبست کرکے حضرت کی امانت سنبھالنے کا اہل بنایا۔۔۔ جو حضرت بنوری کے اخلاص و للہیت کے ساتھ ساتھ ان کی خدمات جلیلہ کی عند اللہ مقبولیت کی بھی دلیل ہے۔۔۔

مولانا سید سلیمان بنوری دامت برکاتہم تو طویل عرصے سے نائب مہتمم کے طور پر علمی اور دینی حلقوں میں بڑی حد تک متعارف بھی ہوگئے تھے، مگر ہمارے قابل فخر نوجوان فاضل بھائی مولانا سید احمد بنوری مد ظلہم چونکہ پہلی بار اس اہم ترین منصب کے ساتھ سامنے آئے ہیں، اس لیے بعض لوگوں کو یہ گمان ہے کہ شاید انہیں صرف حضرت بنوری کے پوتے ہونے کی بنا پر نوازا گیا ہے۔۔۔ جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں اگر صرف اسی نسبت کی بنا پر ہی ان کا اس عہدے کیلئے تقرر ہوتا تو بھی وہ اس کا جائز طور پر استحقاق رکھتے تھے، مگر جہاں تک میں جانتا ہوں، الحمد للہ وہ اس اہم منصب کیلئے حضرت بنوری سے صلبی نسبت کے ساتھ ساتھ اپنی خدا داد قابلیت، صلاحیت، علم و فضل اور تقویٰ و طہارت کی بنا پر بھی مکمل اہل ہیں۔۔۔

وہ شرافت کے پیکر، کسی بھی طرح کی عہدہ طلبی کے شوق سے کوسوں دور رہنے والے عالم فاضل نوجوان ہیں۔۔۔ جامعہ سے ہی امتیازی نمبروں میں درس نظامی کی تکمیل کے بعد اساتذہ اور بزرگوں کے زیر سایہ نوجوان فاضل مولانا سید احمد بنوری جامعہ میں تدریس اور کچھ عہدوں کی ذمے داریاں نبھاتے چلے آ رہے تھے۔۔۔۔ وہ مسحور کن شخصیت کے مالک نوجوان ہیں۔۔۔ سمندر کی طرح خاموش مگر علم و فضل کے موتیوں سے مالامال۔۔۔ فراغت کے بعد جامعہ کی ذمے داریوں کے پہلو بہ پہلو انہوں نے اپنی علمی پیاس بجھانے کیلئے یونیورسٹی کا رخ کیا اور گزشتہ سال الحمد للہ اعلیٰ نمبروں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کرلی۔۔۔ یوں مولانا ڈاکٹر سید احمد بنوری ہر طرح سے اس حق کے حقدار تھے اور ہیں۔۔۔

مولانا ڈاکٹر سید احمد بنوری ماشاءاللہ تحریر و تقریر کے فن میں بھی یکتا ہیں۔۔۔ حضرت بنوری علیہ الرحمہ عربی کے مایہ ناز ادیب تھے۔۔ ایسی عربی لکھتے تھے کہ اہل زبان بھی انگلیاں چاٹنے لگتے تھے۔۔۔ا س کے ساتھ ساتھ حضرت بنوری کی اردو نثر بھی نہایت رواں اور سلیس تھی۔۔۔ بینات ارد و کے آپ کے لکھے ہوئے فکر انگیز اداریے اس کے شاہد ہیں۔۔۔ مولانا ڈاکٹر سید احمد بنوری بھی ماشاءاللہ اردو زبان کے انشا پرداز اور بہترین قلم کار ہیں۔۔۔ اس کے ساتھ ہی بڑا کمال یہ ہے کہ وہ فکر و نظر میں بھی اپنے دادا حضرت بنوری علیہ الرحمہ کی طرح نہایت وسعت، رسوخ اور پختگی رکھتے ہیں۔۔۔۔

مجھے امید ہے کہ ان شاءاللہ ان دونوں حضرات کا تقرر جامعہ بنوری ٹاؤن کیلئے نہایت مبارک ثابت ہوگا اور ان دونوں علمی، فکری اور صاحبان تقویٰ شخصیات کی سیادت میں ان شاءاللہ جامعہ بنوری ٹاؤن کے علمی وقار اور اعتبار میں مزید استحکام اور تقویت آئے گی۔ اللہ تعالیٰ حضرت بنوری کے ان دونوں علمی، فکری اور صلبی جانشینوں کی قدم قدم پر حفاظت فرمائے اور ان کے وجود سے پوری امت کیلئے خیریں وابستہ فرمائے، آمین یا رب العالمین۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *