چینی کمیونسٹ پارٹی کے 100 سال

چینی کمیونسٹ پارٹی کے 100 سال

کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے قیام کے سو سال اور قائد جمعیۃ کا اہم خطاب

(عالمی سطح پر فلسطین ،کشمیر اور افغانستان پر اپنے موقف کا اعادہ )

چین کی برسراقتدارجماعت کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ ،سی پی سی کوقائم ہوئےایک صدی مکمل ہوگئی ہے ۔1921میں یہ جماعت قائم ہوئی ،پارٹی قیادت نے اس اہم موقع پر اپنی کامیابیوں کی تشہیر کا فیصلہ کیا،اس حوالے چین میں گذشتہ تین چار دنوں سے تقریبات جاری ہیں ،سی پی سی دنیا کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے ، دو سال قبل اس کے اراکین کی تعداد 91 ملین سے زیادہ تھی،جبکہ مودی کی بی جے پی کے ارکان کی تعدادسی سی پی سے دوگنی ہے ۔

سی پی سی کو چائنہ پر حکمرانی کرتےسترسال ہوگئے ہیں،اس دوران سی پی سی کے بین الاقوامی اثر و رسوخ، اس کی کشش اور جاذبیت میں مسلسل اضافہ ہواہے، جس نے اس جماعت کو عالمی سیاست کی صف اول میں پہنچا دیاہے۔ اس پارٹی نے گزشتہ ایک صدی کےدوران مشکل حالات ،آفات ،قحط سالی، جنگوں اور معاشی بدحالی میں چینی عوام کی قیادت کی۔کئی ملین غریب اور فاقہ زدہ چینی شہریوں کو انتہائی غربت سے نکالا ، یہ سماجی تبدیلی اور معاشرتی تحریک کا وہ دورتھا، جس نے عوامی جمہوریہ چین کو دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

کمیونسٹ پارٹی اپنی کامیابیوں کے ثبوت دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتی ہے ، اپنے طرز حکومت کی پائیداری کو کھل کر دکھانا چاہتی ہے۔پارٹی چاہتی ہے کہ وہ دنیا کو دکھائے کہ کس طرح اس کا وضع کردہ نظام مالیاتی بحرانوں، قدرتی آفات، سیاسی اسکینڈلوں اور عالمی وبا تک پر قابو پانے میں نہ صرف کامیاب رہا ہے بلکہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط بھی ہوا ہے۔سی پی سی چاہتی ہے کہ چین زیادہ سے زیادہ 2049ء تک سپر پاور بن جائے اور اپنی حیثیت بھی تسلیم کروا لے۔

یہ چین کا اپنے لیے طے کردہ وہ ہدف ہے، جس کا چینی صدر شی جن پنگ باقاعدہ تعین کر چکے ہیں۔ یہی چین کی وہ ساکھ ہے، جس کی سی پی سی اپنے قیام کی صد سالہ تقریبات مناتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تشہیر چاہتی ہے ۔ صد سالہ تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدرنے کہا کہ چین کو ڈرانے دھمکانے کا دور اب ختم ہوگیاہے اورجس کسی نے بھی پارٹی اور چینی عوام کو علیحدہ کرنے کی کوشش کی اسے بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

سی پی سی نے اس اہم موقع پر عالمی سیاسی رہنماوں کی آن لائن کانفرنس کا اہتمام بھی کیا،دنیا بھر سے پانچ سو سیاسی
رہنما وں اور قائدین نے اس میں شرکت کی ،قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان صاحب دامت برکاتہم کو بھی دعوت دی گئی ،قائد جمعیت نے اس موقع پر خصوصی خطاب فرمایا ،سی پیک ،افغانستان،کشمیر اور فلسطین ایشوز سمیت کئی اہم مسائل پر گفتگو فرمائی ۔

قائد جمعیت نے اپنے خطاب میں کمیونسٹ پارٹی آف چائینہ کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کو باعث اعزاز قراردیا ،اپنی اور جماعت کی طرف سے شکریہ ادا کیا ،قاید جمعیت نے سی پی سی کی خدمات کا تفصیل سے ذکر کیا

چینی قیادے نے ستر سالوں میں اقتصادی اور معاشی ترقی کو دنیا کے لئے مثال قرار دیا ،چین کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چین ایک کمزور ملک تھا ،جنگوں نے نقصان پہنچایا ،اسکی اقتصادی حالت نا گفتہ بہ تھی ،عوام تنہائی محسوس کر رہے تھے

ایسے میں چینی قیادت نے سوشلسٹ نظان نافذ کیا اور محض تین سالوں میں ملک کی اقتصادی حالت سنھبل گئی ،زراعت اور صنعت و حرفت کے جال بچھائے گئے اور ایسا ماڈل تیار کیا جس نے چین کو ترقی سے ہمکنار کیا اور کرپشن کا مکمل خاتمہ کیا ۔

کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے دنیا بھر کی اہم سیاسی جماعتوں کت ساتھ تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں میں جے یو آئی بھی شامل ہے ،ہماری سی پی سی سے تعلقات پرانے ہیں اور ہمیں ان تعلقات پر فخر ہے ،پارٹی سربراہ اور فارن افئیر کمیٹی کے چئیرمین کی حیثیت سے تین بار چین کا دورہ کیا ،ریاستی سطح پر دونوں ملکوں کے تعلقات کے علاوہ دونوں ملکوں کے عوام اور سیاسی جماعتوں میں بھی تعلقات موجود ہیں ،پاکستانی عوام چینی عوام کو اپنا مخلص دوست اور بھائی سمجھتی ہے ۔ چین نے بین القوامی فورمز پر ہمیشہ پاکستانی موقف کی حمایت کی خصوصا مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا ساتھ دیا ۔

قائد جمعیۃ نے سی پیک یا ون بیلٹ ون روڈ کے منصوبے کو امن ،ترقی ، خوشحالی ،اقوام عالم کے رابطے اور غریب اقوام کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا منصوبہ قرار دیا ،سی پیک سے چین اور پاکستان میں تعلقات کو نئی جہت ملی ہے ۔ قائد جمعیۃ نے شرکاء کو بتایا کہ میں نے 1995 میں چین کا دورہ کیا تو کاشغر کو گوادر کے ساتھ ملانے اور شاہراہ ریشم کی بات کی تھی ،آج اس سوچ اور خواب کو سی پیک کی صورت میں تعبیر مل گئی ہے ۔

چین نے اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ سیاسی اور فوجی ترقی بھی کی ہے جس کے نتیجے میں ترقی نے اپنا رخ مغرب سے مشرق کی طرف موڑ دیا ہے ،اس خطے میں امریکی مداخلت ،امریکہ انڈیا تعلقات ،افغانستان کی صورتحال اور پاکستان انڈیا کشیدگی کی وجہ سے چین کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے

امریکہ افغانستان سے نکلنے کی بات تو کررہا ہے لیکن افغانستان کے خلاف کاروائی کے لئے افغانستان کے پڑوس میں فوجی اڈے ،فضائی اور زمینی راستے بھی تلاش کررہا ہے ۔امریکہ کا یہ عمل پورے خطے خصوصا افغانستان ،پاکستان ،ایران اور چین کے لئے خطرناک ہے ۔ہمیں اس حولے سے متفقہ موقف اپنانا ہوگا تاکہ امریکہ کے یہاں سے نکلنے کے بعد کوئی ملک ان کو اڈے نہ دے ،جے یو آئی نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے پاکستان اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دے ۔

قائد جمعیۃ نے کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے اپنے دیرینہ موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علماء اسلام فلسطین اور کشمیر کو آزاد مملکتوں کی حیثیت سے دیکھنا چاہتی ہے اور ہمیں امید ہے کہ چین ان دونوں مظلوم اقوام اور مقبوضہ علاقوں کی آزادی کے لئے عالمی اور سپر طاقت کی حیثیت سے اپنی حمایت جاری رکھیں گے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *