پاک ٹی ہاؤس اور دو لڑکے

تحریر: مسلم انصاری

لاہور کا سفر ہمیشہ مجھ سے عجلت اور تنگی کے دنوں میں ہوا
کبھی کزنوں کے ہاسٹلز میں تاش کے پتے کھیلتے اور کبھی مالٹوں کے چھلکوں اور سگریٹوں کے باقی ماندہ حصوں کے بیچ راتیں کالی کی گئیں
(یہ دن بھی اب گم گشتہ کی طرح محسوس ہوتے ہیں کیونکہ خالی جیب والا شخص ہر ایک پر بار ہے)
اب جب یہ جان چکا ہوں کہ سو روپے میں ایک روپے کے کتنے سکے ہوتے ہیں تو آدھی سے زیادہ سلام دعا اور رشتوں کی بھیڑ میرے ارد گرد سے کوچ کرچکی ہے
خیر !
ماہ بھر قبل جب میں نجی مصروفیات پر لاہور میں غم غرق کررہا تھا عین اسی وقت کسی یاد کے کونے کھدرے سے ایک دبی ہوئی آواز نے سر ابھار لیا کہ کیوں نہ خالی جیب ہی سہی مگر پاک ٹی ہاؤس میں شام کی چائے سگریٹ کے ساتھ پی لی جائے
اس روز جب یہ خیال ابھر کر ابھار پیدا کر رہا تھا میرے ساتھ مستقبل قریب میں سی ایس ایس کا طالب علم اور ادبی شغف کا نوجوان عمار احمد بھی تھا
شام ڈھل رہی تھی
بلکہ رات کا پہلا پہر داخل ہونے کا وقت آ رہا تھا
بازار اور سڑکیں اپنے معمول سے کوسوں دور کورونا وبا کے باعث مانند پڑجانے والی محبت کی طرح مدھم اور پھیکی تھیں
بٹ کڑاہی کے ساتھ بنے اورینج ٹرین کے اسٹیشن سے میں اور عمار پاک ٹی ہاؤس کی طرف جارہے تھے
کھلی اور خالی سڑکیں، چمچماتی مگر مایوسی کی طرح رینگتی گاڑیاں اور ان کے اطراف میں چلتے ہوئے ہم لمبے لمبے ڈگ بھرتے پاک ٹی ہاؤس کے قریب ہورہے تھے

کیا ہے یہ پاک ٹی ہاؤس؟
محض ایک چائے خانہ؟ یا ایک قومی ورثہ جو قیام پاکستان سے لیکر بلکہ اس سے پہلے سے لیکر حالات کا شکار رہنے والا ستونی بلڈنگ کا نچلا پورشن؟
نہیں! ہرگز نہیں!
کبھی یا پھر بھلے دنوں کی خبر ہے کہ پاک ٹی ہاؤس کا بڑا دلکش ماحول ہوتا تھا نائیلون والا چمکیلا فرش، چوکور سفید پتھر کی میزیں، دیوار پر لگی قائداعظم کی تصویر، گیلری کو جاتی ہوئی سیڑھیاں، بازار کے رخ پر لگی شیشے دار لمبی کھڑکیاں جو گرمیوں کی شاموں کو کھول دی جاتی تھیں اور باہر لگے درخت بھی دکھائی دیتے تھے دوپہر کو جب دھوپ پڑتی تو شیشوں سے گلابی روشنی اندر آتی تھی!

بحوالہ تاریخ کے اس ثقافتی مرکز کی ابتداء سکھ بوٹا سنگھ نے “انڈیا ٹی ہاؤس” کے نام سے رکھی تھی
یہ چائے خانہ بوٹا سنگھ فقط 1940ء سے 1944ء تک ہی چلا سکا مگر اس کا کام کچھ اچھے طریقے سے نہ جم سکا بوٹا سنگھ کے چائے خانہ پر دو سکھ بھائی سرتیج سنگھ بھلّا اور کیسر سنگھ بھلّا جو گورنمنٹ کالج لاہور کے سٹوڈنٹ تھے اپنے دوستوں کے ہمراہ اکثر چائے پینے آتے تھے 1940ء میں یہ دونوں بھائی گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجوایشن کر چکے تھے اور کسی کاروبار کے متعلق سوچ رہے تھے کہ ایک روز اس چائے خانہ پر بیٹھے، اس کے مالک بوٹا سنگھ سے بات چل نکلی اور بوٹا سنگھ نے یہ چائے خانہ ان کے حوالے کر دیا!

پاک ٹی ہاؤس لاہور میں مال روڈ پر واقع ہے جو انار کلی بازار اور نیلا گنبد کے قریب ہے اور پھر قیام پاکستان کے بعد حافظ رحیم بخش صاحب جالندھر سے ہجرت کر کے لاہور آئے تو انہیں پاک ٹی ہاؤس 79 روپے ماہانہ کرایہ پر لے لیا یہ چائے خانہ “انڈیا ٹی ہاؤس” کے نام سے ہی چلتا رہا بعد میں “انڈیا” کاٹ کر “پاک” کا لفظ لکھ دیا گیا
جہاں اسے آگے بڑھانے میں رحیم بخش صاحب کے بیٹوں علیم الدین، سراج الدین نے ہاتھ بڑھایا !

کیا فقط اتنا ہی؟؟؟؟
نہیں ! ہرگز نہیں!!
بلکہ لاہور کے گم گشتہ چائے خانوں میں سب سے مشہور چائے خانہ پاک ٹی ہاؤس ہی تو ہے جو ایک ادبی، تہذیبی اور ثقافتی علامت ہے
پاک ٹی ہاؤس شاعروں، ادیبوں، نقاد کا مستقل اڈا تھا جو ثقافتی، ادبی محافل کا انعقاد کرتی تھیں پاک ٹی ہاؤس ادیبوں کا دوسرا گھر تھا اور کسی کو اس سے جدائی گوارا نہیں تھی
آہ کہ وہ ٹی ہاؤس کے عروج کا زمانہ تھا
ان ہی دنوں لاہور میں دو بڑی ادبی تنظیمیں، حلقہ ارباب ذوق اور انجمن ترقی پسند مصنفین ہوتی تھیں صبح سے لیکر رات تک ادبی محفلیں جمی رہتی تھیں یہاں تک کہ ملک بھر سے نوجوان ان شخصیات سے ملاقات کرنے کے لیے آتے تھے جو اس چار دیواری کے چراغ اور منبع تھے
اتوار کو ٹی ہاؤس میں تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی تھی جو کوئی آتا کرسی نہ بھی ہوتی تو کسی دوست کے ساتھ بیٹھ جاتا تھا یہاں شعر و ادب پر بڑے شوق سے بحثیں ہوتی تھیں

ٹی ہاؤس میں بیٹھنے والے ادیبوں اور شاعروں میں سے سوائے چند ایک کے باقی کسی کا بھی کوئی مستقل ذریعہ معاش نہیں تھا
کسی ادبی پرچے میں کوئی غزل، نظم یا کوئی افسانہ لکھ دیا تو پندرہ بیس روپے مل جاتے تھے لیکن کبھی کسی کے لب پر تنگی معاش کا شکوہ نہیں تھا ایسا کبھی نہیں تھا کہ کسی دوست کی جیب خالی ہے تو وہ ٹی ہاؤس کی چائے اور سگریٹوں سے محروم رہے جس کے پاس پیسے ہوتے تھے وہ نکال کے میز پر رکھ دیتا تھا جس کی جیب خالی ہوتی علیم الدین صاحب اس کے ساتھ بڑی فراخ دلی سے پیش آتے تھے اس وقت کے ادیبوں میں سے شاید ہی کوئی ادیب ہو جس نے پاک ٹی ہاؤس کی چائے کا ذائقہ نہ چکھا ہو!

ہجرت کر کے آنے والوں کو پاک ٹی ہاؤس نے اپنی گود میں پناہ دی کسی نے کہا میں انبالے سے آیا ہوں میرا نام ناصر کاظمی ہے
کسی نے کہا میں گڑھ مکستر سے آیا ہوں میرا نام اشفاق احمد ہے تو کسی نے کہا میرا نام ابن انشاء ہے اور میرا تعلق لاہور سے ہے
پاک ٹی ہاؤس کی عمارت کے دروازے سبھی کے لئے فراخ اور ہمہ تن استقبال میں کھڑے رہے
کیسا بھلا دور تھا کہ صبح آٹھ بجے پاک ٹی ہاؤس میں کم لوگ آتے تھے اور ناصر کاظمی جیسا شخص سگریٹ انگلیوں میں دبائے، سگریٹ والا ہاتھ منہ کے ذرا قریب رکھے ٹی ہاؤس میں داخل ہوتا تھا اور بابا جی جناب اشفاق احمد صاحب سائیکل پر سوار پاک ٹی ہاؤس آرہے ہوتے تھے
اس وقت اگر پاک ٹی ہاؤس میں داخل ہوتے تو دیکھ پاتے کہ دائیں جانب شیشے کی دیوار کے ساتھ ایک صوفہ لگا ہوتا
سامنے ایک لمبی میز ہوتی میز کی تینوں جانب کرسیاں رکھی ہوئی ہوتیں ناصر کاظمی، انتظار حسین،سجاد باقر رضوی، پروفیسر سید سجاد باقر رضوی، قیوم نظر، شہرت بخاری، انجم رومانی، امجد الطاف امجد، احمد مشتاق، مبارک احمد وغیرہ کی محفل شام کے وقت اسی میز پر لگی دکھائی پڑتیں
اے حمید، انور جلال، عباس احمد عباسی، ہیرو حبیب، سلو، شجاع، ڈاکٹر ضیاء وغیرہ قائد اعظم کی تصویر کے نیچے جو لمبی میز اور صوفہ بچھا تھا وہاں اپنی محفل سجاتے تھے ڈاکٹر عبادت بریلوی اور سید وقار عظیم بھی وقت نکال کر پاک ٹی ہاؤس آتے تھے ہر مکتب فکر کے ادیب، شاعر، نقاد اور دانشور اپنی الگ محفل بھی سجاتے تھے!
(کاش ہم ایسے طالب علم کچھ راتیں وہاں سیکھ سکتے)

تاریخ کہتی ہے کہ وہ بڑے چمکیلے اور روشن دن تھے ادیبوں کا سارا دن ٹی ہاؤس میں گزرتا تھا
زیادہ تر ادیبوں کا تخلیقی کام اسی زمانے میں انجام پایا ناصر کاظمی نے بہترین غزلیں اسی زمانے میں لکھیں اشفاق احمد نے گڈریا اسی زمانے میں لکھا شعر و ادب کا یہ تعلق پاک ٹی ہاؤس ہی سے شروع ہوا تھا!

اور کیا بس یہی لوگ تھے جو یہاں کے روح رواں تھے؟
نہیں! ہرگز نہیں!!
آہا بلکہ سعادت حسن منٹو، اے حمید، فیض احمد فیض، ابن انشاء، احمد فراز، منیر نیازی، میرا جی، کرشن چندر، کمال احمد رضوی،ناصر کاظمی،سجاد باقر رضوی، استاد امانت علی خان، ڈاکٹر محمد باقر، انتظار حسین، اشفاق احمد، قیوم نظر، شہرت بخاری، انجم رومانی، امجد الطاف امجد، احمد مشتاق، سید قاسم محمود ،مبارک احمد، انورجلال، عباس احمد عباسی، ہیرو حبیب، سلو، شجاع، ڈاکٹر ضیاء، ڈاکٹر عبادت بریلوی، سید وقار عظیم وغیرہ یہ وہ لوگ تھے جو پاک ٹی ہاؤس کی جان تھے!!

بقول تاریخ کے پاک ٹی ہاؤس کئی نشیب و فراز سے گزرا اور کئی مرتبہ بند ہو کر خبروں کا موضوع بنتا رہا
عرصہ دراز تک اہل قلم کو اپنی آغوش میں پناہ دینے کے بعد 2000ء میں جب ٹی ہاؤس کے مالک نے اسے بند کرنے کا اعلان کیا تو ادبی حلقوں میں تشویس کی لہر دوڈ گئی اور اھل قلم نے باقاعدہ اس فیصلے کی مزاحمت کرنے کا اعلان کر دیا
آخر کار 31 دسمبر 2000ء کو یہ دوبارہ کھل گیا اور اہل قلم یہاں دوبارہ بیٹھنے لگے لیکن 6 سال کے بعد مئی 2006ء میں یہ دوبارہ بند ہو گیا اس بار ادیبوں اور شاعروں کی طرف سے کوئی خاص احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا
اور پاک ٹی ہاؤس ٹائروں کی دوکان میں تبدیل ہوگیا
اور نگینہ بیکری، چوپال، شیزان اور عرب ہوٹل کی طرح یہ بھی ماضی کا حصہ بن کر رہ گیا

پاک ٹی ہاؤس کی بحالی لاہور کے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کا ایک مسلسل درینہ مطالبہ تھا
پاک ٹی ہاؤس کا افتتاح 14 اگست کو کیا جانا تھا لیکن نہ ہو سکا
سیاسی وجوہات کی بنا پر افتتاح کی نئی تاریخ 6 ستمبر رکھی گئی لیکن بے سود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
20 اکتوبر، 25 اکتوبر اور 25 دسمبر 2012ء کو کیے گئے وعدے بھی وفا نہ ہو سکے
اور پھر ایک دن پاک ٹی ہاؤس کی جدائی ختم ہوئی اور وصل کا وقت آ گیا میاں نواز شریف نے بالآخر 23 مارچ کو پاک ٹی ہاؤس میں چائے پی کر اور اس کا افتتاح کر کے ادیبوں اور شاعروں کے لیے اس کے دروازے ایک بار پھر کھول دیئے تھے!!

خیر
میں کہیں مطالعے سے اخذ کی گئی تاریخ میں بہ گیا
میں تو لاہور کے حالیہ سفر کی ایک رات کی کارگزاری لکھ رہا تھا سو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے قدم ہمیں پاک ٹی ہاؤس کی عمارت کے پاس چلا لائے ۔ رات کے دس بج رہے تھے ۔ شاہراہ خالی تھی ۔ ٹی ہاؤس کے کاؤنٹر پر ایک شخص کیلکولیٹر پر حساب کتاب لکھ رہا تھا ۔ ہم دونوں کے سوا وہاں کوئی نہیں تھا
ایک نوجوان ویٹر جس کی آنکھوں میں کم خوابی کی دراڑیں تھیں وہ کچھ دھول لگی کرسیاں باہر لگائے مانو جیسے ہمارا ہی منتظر تھا
ٹی ہاؤس کی وہ دیواریں جنہوں نے کبھی اپنے کانوں سے وہ محفلیں سنی تھیں اب خاموش تھیں
سارے ٹیبل، کرسیاں، سامان اور کتب خانے کی الماری دیوار سے لگی اونگھ رہی تھی

“ڈائن ان بند یے سرجی اور چائے بھی ٹی پیک کی ہی ہے”
ویٹر ہم سے مخاطب ہوا

کیا ہم کچھ دیر یہاں گھوم کر اس سکون کو ڈھونڈ سکتے ہیں جو ادیب یہاں تلاش کرچکے تھے؟
میں نے اس سے کہا

وہ مسکرایا پھر اس نے کاؤنٹر میں بیٹھے شخص سے معلوم کیا اور ہمیں اجازت مل گئی
ہم نے بالائی منزل پر کچھ دیر مدھم روشنیوں کے بیچ سانسیں لیں
دیواروں پر اب بس فقط ان لوگوں کی تصویریں فریم کی صورت لگی رہ گئیں ہیں جو کبھی بذاتِ خود یہاں آیا کرتے تھے
اچانک میرے بیگ سے آواز آئی جو ایک کتاب کی تھی
کتاب سعادت حسن منٹو کی “گنجے فرشتے” تھی
میں نے اسے نکال کر ہاتھ میں تھام لیا اور عمار سے تصویر لینے کا کہا
ضرور سعادت حسن اپنی قبر سے مجھ پر میری اس حرکت کو لیکر مسکرایا ہوگا
کیا پتا منٹو نے قریب کھڑے کسی فرشتے کو ایک جملہ بھی کس دیا ہو اور پھر منٹو نے دوسری کروٹ بدل لی ہو!
منٹو بڑا تلخ تھا!

ہم نیچے آگئے
نوجوان ٹی پیک چائے لے آیا
برتن نفیس تھے چینی الگ سے خوش نما برتن میں تھی
ساتھ لگے ایک پیڑ پر روشنیاں تھک رہی تھیں
پاک ٹی ہاؤس نامی “مے خانے” کے بند ہونے کا وقت آگیا
ہم دونوں نے ایک دوسرے کی طرف آنکھوں آنکھوں میں باقی باتوں کو تیرتا ہوا دیکھا
بائیکیا کا فرد مجھے آرام باغ کی طرف لے گیا
اور عمار اسی طرح لمبے لمبے ڈگ بھرتا ٹی ہاؤس کی عمارت کے سائے میں روپوش ہوگیا
رات کے 11 بج رہے تھے!!

نوٹ : مذکورہ تاریخی سطروں کو انٹرنیٹ، بلاگ، میگزین کے علاوہ وکی پیڈیا کی مدد سے مکمل کیا گیا ہے
علاوہ باقی تاریخ کے یہ ایک سفرمانہ جیسا ہے!!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *