سندھ پبلک سروس کمیشن میں کوٹے کی دھجیاں ،رشتہ داروں کو بھرتی کرلیا گیا ، رپورٹ

رپورٹ : طارق حبیب

سندھ پبلک سروس کمیشن میں اقربا پروری کے تحت بچوں ،بھتیجوں ،بھانجوں ،دامار سمیت رشتہ داروں کو افسران بھرتی کرنے کے لئے امتحانات میں رو بدل کرنے کا بھانڈہ پھوٹ گیا ، سی سی ای کے امتحان کے علاوہ دیگر امتحانات میں بھی ایس پی ایس سی کے ذمہ داران ، سندھ حکومت کے افراد اور بیوروکریسی سے متعلقہ گھرانوں کے بچے کامیاب ہورہے ہیں ، سندھ پبلک سروس کمیشن کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو اینٹی کرپشن سے دھمکی آمیز کالز کرائی جانے لگی ہیں ۔

گزشتہ برس نومبر2018 میں سندھ پبلک سروس کمیشن کا تحریری امتحان منعقد کیا گیا تھا جس کے بعد ان کے نتائج انہوں نے 28 اگست 2019 کو جاری کئے ان نتائج میں مجموعی طور پر 542 امیداروں کو کامیاب قراردیا گیا تھا ، ان نتائج کو ویب سائٹ پر بھی جاری کیا گیا تھا جس کے بعد انٹریوز کا سلسلہ 16 اکتوبر تک جاری رہا ،اور اس کے بعد ان انٹریوز کے نتائج 25 اکتوبرکو جاری ہوئے جس کے بعد اعتراضات شروع ہو گئے ،

سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق سندھ پبلک سروس کمیشن کی جانب سے ہونے والے امتحانات میں نمبرز بھی ویب سائٹ پرجاری کئے جائیں گے ، 2013 کی طرح 2019 میں بھی نتائج مبہم جاری ہوئے ، امیدوار اس بے ضابطگی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کی حیدر آباد بینچ میں چلے گئے جس پر سندھ ہائی کورٹ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے افراد کو طلب کرلیا تھا ، 17 دسمبر کو سندھ ہائی کورٹ نے طلب کیا تو14 تاریخ اتوار کو چھٹی کے روز اچانک ویب سائٹ پر نتائج جاری ہو گئے ، تحریری طور پرکم نمبر لینے والوں کو انٹرویو میں زیادہ نمبر جاری کرکے پاس کیا گیا ،

گزشتہ چند برسوں کے دوران سندھ پبلک سروس کمیشن کی جانب سے تقریبا 11 مختلف اشتہارات کے ذریعے پی ایم ایس ، انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ، سندھ پولیس ریجن ، محکمہ شماریات سمیت مختلف محکموں میں تعیناتیوں کے لیے درخواستیں طلب کی گئیں تھیں ۔ان امتحانات میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں اور من پسند افراد کو کامیاب قرار دینے کا انکشاف ہوا ہے ۔ سندھ پبلک سروس کمیشن کے ایک افسر سمیت مختلف امیدواران کی جانب سے عدالت سے رجوع کرلیا گیا ہے ۔

ان امیدواروں کا موقف ہے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحت ہونے والا طریقہ امتحان مکمل طور پر ایک مافیا کے قبضے میں ہے جو اپنے بچوں ، رشتہ داروں ، دوستوں کو نواز رہے ہیں ۔ اس حوالے انکشاف کیا گیا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحت تحریری امتحان میں شرکت سے قبل عمومی طور پر اسکریننگ ٹیسٹ ہوتا ہے ۔

اسکریننگ ٹیسٹ میں امیدوار عمران علی رول نمبر 00043 کو نا کام قرار دینے کے باوجود تحریری امتحان میں بٹھا دیا گیا تھا اور موقف اختیار کیا گیا کہ امیدوار نے پرچہ دوبارہ چیک کرنے کی درخواست کی تھی۔اسی تحریری امتحان اور انٹرویوز کے نتائج کے بعد جاری کیے گئے نتائج میں بھی سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پر دیئے جانے والے فیصلے کی صریحاً خلاف ورزی کی گئی جس کا مقصد مخصوص انداز میں من پسند افراد کو کامیاب قرار دینا تھا۔

انٹرویو لینے والی کمیٹی میں میں پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین نور محمد جادمانی، غلام شبیر شیخ ، اعجاز علی خان، عبدالعلیم جعفری شامل تھے ۔ ان میں سے کمیشن کے رکن شبیر شیخ پر نیب نے قومی خزانے کو 500 ملین روپے نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا تھا۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کا واضح حکم تھا کہ کرپشن کے الزام کا سامنا کرنے والا کوئی شخص کمیشن کا رکن نہیں ہوسکتا۔ انٹرویو میں شامل شبیر شیخ کا بیٹا محسن کامیاب قرار دیا گیا ہے۔اسی طرح سیکرٹری پبلک سروس کمیشن احمد علی قریشی کا بیٹا کاشف علی کو بھی کامیاب قرار دیا گیا ہے ۔

سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحت مختلف امتحانات میں کنٹرولر ہادی بخش کلہوڑو کا بھتیجہ احمد کلوڑو کے علاوہ عبدالرحمن کلوڑو پاس کیا گیا ، سندھ پبلک سروس کمیشن کے ممبرآفتاب انور بلوچ کے بیٹے فہد انوربلوچ ،سائیں داد سولنگی کی بیٹی امیمہ سولنگی کو بھی کامیباب کیا گیا ،کنٹرولر کے 3 برادرنسبتی سمیت 18 رشتہ دار کامیاب ہوئے ۔ اس کے بھائی عبدالشکور کلہوڑو کو کامیاب کرکے انسپکٹر انٹی کرپشن ، بھتیجے فرازاحمد کلوڑوکو کامیاب کرکے سی سی ای ، برادرنسبتی عبیدالرحمان کو سی سی ای ، غلام محی الدین کا کامیاب قرار دیا گیا ۔

دیگر رشتہ داروں میں صدام حسین کلہوڑو، عبدالمجید کلہوڑو، عتیق نبی کلہوڑو، زبیر احمد عباسی، جاوید احمد عباسی اور فیروز احمد عباسی کو اے ایس آئی پولیس رینج کراچی کے امتحان میں کامیاب قرار دیا گیا۔شعیب احمد عباسی، میر احمد عباسی اور عبدالریشد کلہوڑو کو انسپکٹر انوسٹی گیشن کے امتحان میں کامیاب قرار دیا گیا ۔ حیران کن طور پر سندھ کی بااثر شخصیت غلام رسول برڑو کے تین بیٹے غلام محی الدین، غلام فاروق، فراز احمد اور ایک بھتیجا خالد احمد کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔

غلام رسول برڑو ناظم امتحان ہادی بخش کلہوڑو کے قریبی دوست بتائے جاتے ہیں ۔ پبلک سروس کمیشن کے سابق رکن اور بااثر شخصیت سائیں داد سولنگی کی بیٹی امیمہ سولنگی کو شہری کوٹے سے سی سی ای کے امتحان میں کامیاب قرار دیا گیا جبکہ بیٹے غلام نبی کو دیہی کوٹے میں سی سی ای میں کامیاب قرا دیا گیا تھا۔ چیف انجنیئر بلڈنگ اختر ڈاوج کے بیٹے ولید ڈاوچ ، سیبکو کے چیف سعید ڈاوچ کی بیٹی کنزہ ڈاوچ ،رشید زرداری کے بیٹے حماد زرداری ،ڈپٹی ڈائریکٹرریکرومنٹ کے بھائی اخلاق کلوڑ ، شبیر شیخ ممبر کے قریبی ماجد شیخ اور سابق سیکرٹری آغا فخر درانی کی اہلیہ کے بھائی گزشتہ سال اور ایک بھائی اس سال کامیاب قرار پائے ہیں .

سندھ کے رولر کے ڈومیسائل پر امتحان دینے والے رولز کے نہیں ہیں بلکہ وہ بھی اربن سندھ کے ہیں ، ایک خاندان کے تین بچے کامیاب ہوئے جن کے ڈومیسال علیحدہ علیحدہ جگہوں کے ہیں ،ان کے والد کا ڈومیسال علیحدہ جگہ کا ہے .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *