ہفتہ, نومبر 26, 2022
ہفتہ, نومبر 26, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

اسلامحضورﷺ کی  نبوت سے قبل مکی زندگی کا تذکرہ

حضورﷺ کی  نبوت سے قبل مکی زندگی کا تذکرہ

نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا

حضرت ابراہيمؓ  اور اسماعيل ؓ كا تذكره

درس نمبر 01

آپﷺ  کے آنے سے قبل عرب کے احوال کی کیا کعرب اقوام اور حضرت ابراہیمؓ اور حضرت اسماعیلؓ سے متعلق ہےیفیت تھی اس کا پس منظر جب تک ہمیں تھوڑا بہت معلوم نہ ہو تو سیرت النبی ﷺ  کا صحیح مقام سمجھنےتک ہماری رسائی مشکل ہے۔

عرب اقوام

 مورخین  نے عربوں کی تین(۳) اقسام بیان  کی ہیں، جن سے ان کا نسلی سلسلہ جاری ہوا۔

فقه السيرة النبوية للدكتور الغضبان ، ص : [45ْ]

عرب بائدہ               ۲عرب  عاربہ              ۳عدنانی عرب﴾

عرب بائدہ

  ان میں عاد، ثمود، عَمَالقه ، طَسم ، جَدِیس ، اُمیم ، جُرہم  اور حضرمَوت وغیرہ کے قبائل شامل ہیں ۔ اسلام سے قبل ہی ان اقوام کے آثار ناپید اور معدوم ہو چکے تھے۔ ان میں بادشاہی نظام تھا اور ان کی بادشاہت شام اور مصر تک پھیلی ہوئی تھی ۔

[ السيرة النبوية لأبي شهبة ، ص : 1/46]

۲﴾ عرب عاربہ

  یہ وہ عرب ہیں جو یعُرب بن یشُجب بن قحطان کی نسل سے ہیں۔ انھیں قحطانی عرب کہا جاتا ہے ۔ یہ جنوب میں بسنے والے عرب ہیں ۔ یمن کے بادشاہ انھی میں سے تھے۔  مَعیِن ، سَبَا اور حِمیر کی بادشاہت بھی انھی کی تھی۔

﴿ السيرة النبوية لأبي شهبة ، ص : 1/47﴾

 

۳﴾  عدنانی عرب

  ان کی نسبت عدنان کی طرف ہے جس کا نسب حضرت اسماعیل بن ابراہیم ؓ   تک پہنچتا ہے۔ یہ عرب مُستعربہ  کے نام سے معروف ہیں، یعنی  وہ لوگ جن میں غیر عربی خون شامل ہوا ، پھر عجمی وعربی خون آپس میں مدغم ہوگئے اور عربی لغت نئی مخلوط  کی زبان بن گئ۔

 

حضرت ابراہیم  ؓ  کے حالات پر نظر

رسول اللہﷺ  حضرت اسماعیل ؓ کی اولاد میں سے ہیں اور اسماعیل ؓ حضرت ابراہیم ؓ کے بیٹے ہیں تو رسول اللہﷺ  حضرت ابراہیم ؓ کی نسل سے ہوئے۔ رہا  یہ سوال کہ حضرت ابراہیم ؓ تو عراق کے تھے ان کی اولاد مکہ میں کیسے آباد ہوئی ؟ اس کے لیے ابراہیم ؓ کے حالات سمجھنا ضروری ہیں ۔

 حضرت ابراہیم ؓ کی پیدائش عراق میں کُوثَی  کے مقام پر ہوئی وہاں سے آپ اَور کے علاقے میں تبلیغ کے لئے گئے لوگوں کو توحید کی دعوت دی ،وہیں بتوں کو توڑنے کا واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں آپ کو آگ میں ڈالا گیا ، یہیں بتوں کو توڑنے کا واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں لوگ آپ کے مخالف ہوئے نمرود اور حکومت سارے اور  آپکو آگ میں ڈالا گیا پھر جب اللہ رب العزت نے آپکو آگ سے محفوظ رکھا! اس واقعہ کا ذکر قرآن کریم میں ہے

قُلۡنَا يَٰنَارُ كُونِي بَرۡدٗا وَسَلَٰمًا عَلَىٰٓ إِبۡرَٰهِيمَ (الانبیاء :69)

ہم نے کہا: ’اے آگ! ٹھنڈی ہوجا، اور ابراھیم کے لئے سلامتی بن جا‘۔

چنانچہ انہوں نے ابراہیم ؓ کو آگ میں ڈال دیا، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں آگ سے محفوظ فرمایا ۔ اب ہجرت کا حکم ہوا تو آپ عراق ہی کے علاقے بابِل تشریف لے گئے اور وہاں سے شام کے علاقے حَرَّانْ سے ہوتے ہوئے فلسطین پہنچے اور پھر وہاں سے مصر گئے

جہاں ان کے ساتھ مشہور واقعہ پیش آیا کہ مصر کے بادشاہ فرعون نے آپ کی اہلیہ حضرت سارہ ؓ  کی طرف کئی بار غلط ارادے سے ہاتھ  بڑھانا  چاہا  لیکن  ہر بار ناکام ہوا، بادشاہ نے اس بات سے متاثر ہو کر اپنی بیٹی حضرت ہاجرہ ؓ    حضرت ابراہیم ؓ کے نکاح میں دیدی۔ بعض مفسرین کے نزدیک حضرت ہاجرہ ؓ بادشاہ کی بیٹی نہیں بلکہ لونڈی تھی، تاریخ کی کتابوں میں نام ” ھَاجِر” آ تا ہے۔ عام استعمال میں حضرت ہاجرہ ؓ    ہی مشہور ہے۔

حضرت ابراہیم ؓ نے مصر سے واپسی پر فلسطین میں قیام کیا، اپنی ایک بیوی سارہ ؓ  کو فلسطین میں چھوڑا اور دوسری بیوی حضرت ہاجرہ ؓ    اور ان کے بچے حضرت اسماعیل ؓ کو لے کر مکہ مکرمہ تشریف لائے۔ یوں حضرت ابراہیم ؓ کی ایک نسل یعنی بنی اسرائیل فلسطین میں پھیلی اور دوسری نسل یعنی بنی اسماعیل عرب میں پھیل گئی۔ پھر اسماعیل ؓ مکہ میں جوان ہوئے، وہیں ان کی شادی ہوئی انہی کی نسل میں عدنان پیدا ہوئے اور عدنان کی نسل میں حضرت محمدﷺ  پیدا ہوئے، اس لئے نبی کریم ﷺ قریشی ، عدنانی اسماعیلی اور ابراہیم ؓ کی اولاد سے ہیں ۔

 

مکۃ المکرمۃ میں قیام

پھر حضرت ابراہیم  ؓ  نے اللہ کے حکم پر حضرت ھاجرہ ؓ اور اپنے لخت جگر حضرت اسماعیل ؓ کو مکہ المکرۃ میں چھوڑا۔جب  چھوڑا تو چونکہ مکہ المکرمہ  میں تھے،  وہاں تو کوئی آبادی نہیں تھی، کوئی گھر نہیں تھا۔ کوئی کھانے کی اشیاء نہیں تھیں قرآن کریم میں ذکر ہے (وَادیِ غیر ذی ذرع) ایک ایسی وادی کہ جہاں کوئی ذراعت نہیں تھی۔

آج کے اس ترقی کے دور میں بھی وہاں کوئی چیز نہیں اگتی .جب حضرت ابراہیم ؓ وہاں سے جانے لگے تو حضرت ھاجرہ ؓ نے کہا کہ آپ ہمیں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں ؟ یہاں کوئی انسان نہیں، یہاں پانی نہیں، کوئی آبادی نہیں، وَادیِ غیر ذی ذرع کالے پہاڑ ہیں حضرت ابراہیم  ؓ  خاموش ہیں۔ آخر بیوی جنت المعلیٰ تک دوڑتی چلی آئیں، حضرت ابراہیم ؓ    اونٹنی پرسوار ہیں اور خاموشی کیساتھ جارہے ہیں، جواب کا حکم نہیں، حضرت ھاجرہ ؓ نے کہا ایک بات بتائیں۔

 اٰللہ اٰمرکَ بِھذا؟

 کیا آپکو اللہ نے حکم دیا ہے ؟

جب انہوں نے یہ کہا تو اللہ نے حکم دیا کہ جواب دیں تو حضرت ابراہیم  ؓ  نے جواب دیا

 [اِنَّ اللہ اَمرنی]

اللہ نے مجھے حکم دیا ہے، میں اللہ کے حکم کے بغیر تمہیں نہیں چھوڑ کر جا رہا۔ اب حضرت ھاجرہ ؓ اپنے بیٹے اسماعیل ؓ  کے ساتھ مکہ المکرمہ میں رُک گئیں۔علماء نے لکھا ہے کہ حضرت ھاجرہؓ  نے کہا

[اِذی لَّا یُضِیْعُناّْ]  

   اگر اللہ کا حکم ہے تو پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کریگا ۔

یعنی اللہ ہماری حفاظت کریگا۔علماء نے لکھا ہے کہ اس موقع پر حاجرہ ؓ نے کہا

حَسْبُنا اللہ وَنِعْمَ الوَکیْل (اٰلِ عمران: 173)

ہمارے لیئے اللہ کافی  ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔

 

آج کے درس سے ملنے والا پہلا سبق

ایک تو حضرت ابراہیم  ؓ کا واقعہ کہ ان پر کتنی تکلیفیں آئیں ، اوران کو آگ میں ڈالا گیا اور عراق سےان کو ہجرت کرنی پڑی لیکن ساری تکالیف برداشت کیں اور اس کے باوجود بھی نہوں نے توحید کا سبق نہیں چھوڑا توحید کی دعوت نہیں چھوڑی اور یہی دعوت دیتے رہے کہ عبادت صرف اللہ ہی کی کرنی ہے  اور اس میں  ہمارے لئے بھی سبق ہے کہ ہم ملت ابراھیمی پر ہیں اور شریعت ہماری محمدی ہے لیکن ملت ہماری بھی ابراھیمی ہے اللہ  تعالیٰ نے نبی ﷺ سے فرمایا

[فَٱتَّبِعُواْ مِلَّةَ إِبۡرَٰهِيمَ حَنِيفٗا وَٱتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبۡرَٰهِ‍ۧمَ مُصَلّٗى]

 

آپ ملت ابراھیمی کی اتباع کریں، آپ مقام ابراھیم کے پاس کھڑے ہوکر نماز پڑھائیں۔

اور قبلہ ہمارا ابراھیمی ہے، اور ہم پر یہ لازم ہے کہ ہم ابراھیم ؓ  کی اس سنت کو زندہ کریں دین کے کاموں میں اگر ہم پر تکلیفیں آئیں تو ہم اسے برداشت کرنے والے ہوں۔ تو اللہ ہمیں اس پر اجر اور ترقی عطاء کریگا اور ابراھیم ؓ کی یہ دعوت قرآن کریم میں موجود ہے۔

ٱلَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهۡدِينِ 78 وَٱلَّذِي هُوَ يُطۡعِمُنِي وَيَسۡقِينِ 79 وَإِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِينِ 80 وَٱلَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحۡيِينِ 81(الشعراء)

وہی اللہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی ہدایت دینے والا ہے۔ وہی کھلانے اور پلانے والا ہےاور جب بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفاء دیتا ہے۔اسی نے زندہ کیا اور وہی موت دیگا۔

تو پہلے واقعہ سے یہ سبق ملا کہ عبادت صرف اللہ کی کرنی اور توحید کو نہیں چھوڑنا۔

آج کے درس سے دوسرا سبق

[حَسۡبُنَا ٱللَّهُ وَنِعۡمَ ٱلۡوَكِيلُْ]

آج کے درس سے ہمیں دوسرا سبق یہ ملتا ہے کہ جب حضرت ابراھیم ؓ  نے اپنی زوجہ حضرت ھاجرہ ؓ اور حضرت اسماعیل ؓ کو مکہ المکرمہ میں چھوڑا تو نہوں نے اس حکم کو تسلیم کرلیا کہ اللہ کا حکم ہے  اور اللہ کے حکم کے سامنے اپنی عقل نہیں چلائی۔

جب اللہ کا حکم ہے، تو اللہ یقیناً ہمیں ضائع نہیں کریگا  اور وظیفہ اپنا لیا﴿حَسۡبُنَا ٱللَّهُ وَنِعۡمَ ٱلۡوَكِيلُ﴾ تو دیکھیں اللہ نے انہیں کتنا محفوظ رکھا کہ وہ جگہ جو وَادیِ غیر ذی ذرع تھی، کوئی چیز وہاں نہیں اگتی تھی کوئی آبادی نہیں تھی، کوئی انسان نہیں تھا لیکن جب انہوں نے اللہ کے اس حکم کوتسلیم کیا تو وہیں پر اللہ کے حکم سے وہیں پر رہ گئے

 اللہ نے کتنی برکتیں عطاء کیں کہ مقام ابراھیم ؓ وہاں پر، زم زم وہاں پر صفاء مروہ  وہاں پر اس گھرانے میں سے ہر ایک کاعمل آج بھی زندہ ہے اور ہر مسلمان کو دل آج وہاں جانے کے لئے تڑپتا ہے کہ میں کس طریقہ سے چلا جاؤں تو یہ درحقیقت اللہ کے اس حکم کو پورا کرنا تھا، تو اللہ نے اس  وَادیِ غیر ذی ذرع کو زمین کا سب سے بہترین خطہ کردیا چونکہ یہی وہ مسعود بچہ تھا (حضرت اسماعیل ؓ )جن  کی نسل میں امام النبیاء خاتم النبیین، رحمت اللعالمین، محمدرسول اللہ کو آنا تھا ۔

اگر اسماعیل ؓ کی حفاظت نہ کی جاتی تو پھر یہ سلسلہ خاتم النبیین ﷺ تک کیسے آپہنچتا تو اصل میں یہ ساری محفل اسی پاک نبی ﷺکی بعثت کیلئے سجائی جارہی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں نبیﷺ کی سیرت اپنانے اور پھیلانے کی توفیق عطاء فرمائے [آمین]

[وَءَاخِرُ دَعۡوَىٰنا أَنِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ20]

 

مفتی سلیمان العباسی

امام و خطیب  جامع مسجد نعمانی، الہلال سوسائٹی گلشن اقبال کراچی

کِتابت و ترتیب:   طٰہٰ احمد صدیقی بن سہیل احمد

حضرت ابراہیمؓ کی جائے پیدائش اور پھر مختلف علاقوں میں ان کی ہجرت اور اولاد

متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا