علم کا ایک اور چراغ گل ہوگیا

تحریر: مولانا محمد عدیل معاویہ

استاد محترم،شیخ الحدیث،مرکزی صدر وفاق المدارس العربیہ و اتحاد تنظیمات المدارس،امیرمرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت،مہتمم و شیخ الحدیث جامعة العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاٶن حضرت مولاناڈاکٹرعبدالرزاق اسکندرصاحب کے سانحہ ارتحال کی خبر ملی۔دل خون کے آنسو رورہاہے۔غم کی کیفیت یہ کہ اظہار مشکل ہے۔اور یقیناًہر دین پسند اور بالخصوص حضرت کے شاگردوں اور متوسلین و متعلقین کی یہی حالت ہے۔

حضرت کی دینی خدمات اور شفقتیں اس قدر ہیں کہ شاید ہی کوئ بھول سکے۔ڈاکٹر صاحب 1935ءمیں ضلع ایبٹ آباد کے گاٶں کوکل کے ایک دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم سکندرخان بن زمان خان صوم وصلوٰة کے پابند اور علماءکے صحبت یافتہ تھے، بڑے وجیہ اور ذی فہم انسان تھے، ڈاکٹر صاحب نے گاو ¿ں میں ہی قرآن کریم کی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد میٹرک تک اسکول پڑھا، بعدازاں دینی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے، ہری پور میں دو مدرسے تھے۔ ایک دارالعلوم چوہڑ شریف، یہاں آپ نے دو سال تعلیم حاصل کی اور دو سال احمد المدارس سکندر پور میں پڑھا۔ اس کے بعد مزید تعلیم کے لیے 1952ءمیں کراچی تشریف لائے اور دارالعلوم کراچی( نانک واڑہ) میں داخلہ لیا۔ درجہ رابعہ سے سادسہ تک کی کتابیں آپ نے دارالعلوم نانک واڑہ میں پڑھیں۔

جس وقت ڈاکٹر صاحب دارالعلوم میں زیرتعلیم تھے، اسی دوران لیبیا اور مصر کی حکومت کے تعاون سے کراچی میں عربی سکھانے کے لیے مختلف جگہوں پر کورس شروع کرائے گئے تھے۔ ڈاکٹر امین مصری مرحوم اس کے نگران تھے، تربیتی کورس میں ڈاکٹر صاحب کے علاوہ سارے شرکاءعلماءاور اساتذہ تھے۔ ان علماءکو عربی پڑھانے کے لیے مختلف جگہوں پر تعینات کردیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب کو شیخ امین مصری نے نیوٹاٶن مسجد میں کلاس شروع کرنے کے لیے بھیجا۔ یہ کلاس عصر کے بعد ہوتی تھی، کلاس سے فارغ ہوکر آپ محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ کی مجلس میں حاضر ہوتے، اس طرح آپ کا مولانا بنوریؒ سے وہ والہانہ تعلق قائم ہوا، جس کو” نسبت اتحادی“ کی بہترین مثال سمجھا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: تحفظ ختم نبوت تحریک کا مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کی خدمات کو خراج تحسین

حضرت بنوری ؒ کو بھی عربی زبان و ادب سے بچپن سے غیر معمولی شغف رہا تھا اور ان کی عربی دانی پر ان کے اساتذہ بھی ناز کیا کرتے تھے اور انہیں بھی اپنے دور میں عالم اسلام میں ہندوستانی علماءکی ترجمانی کا اعزاز حاصل تھا، جو ان سے ڈاکٹر صاحب کو ورثے میں ملا۔

حضرت بنوری ؒ نے عام مدارس سے ہٹ کر اپنے مدرسہ کا آغاز تکمیل کی کلاس یعنی تخصص سے کیا تھا، نچلے درجات کی کلاسیں نہیں تھیں، ڈاکٹر صاحب کی ہی درخواست پر حضرت بنوری رحمة اللہ علیہ نے موقوف علیہ اور دورہ کے درجات شروع کیے اور آپ ان دس ابتدائی طلبہ میں شامل تھے جن سے جامعہ میں درس نظامی کا آغاز ہوا۔ اس وقت سے تادم آخر حضرت ڈاکٹر صاحب جامعہ سے منسلک رہے۔

ڈاکٹر صاحب کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ بیک وقت عالم اسلام کے تین ممتاز ترین دینی اداروں جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاون، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ اور جامعہ ازہر مصر کے فاضل ہیں۔ 1962ءمیں آپ جامعہ سے چھٹی لے کر مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور چار سال وہاں تعلیم حاصل کی۔ وہاں سے فارغ ہوکر دوبارہ جامعہ میں تدریس شروع کردی۔ جامعہ ازہر میں آپ کے داخلے کا پس منظر یہ ہے کہ ایک مرتبہ مصر کی المجلس الاعلیٰ بشٶن الاسلامیہ کے رئیس پاکستان آئے، بنوری ٹاون بھی تشریف لائے، مدرسہ کا معائنہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے متکلم کے فرائض انجام دیے اور طلبہ واساتذہ کے اجتماع میں کلماتِ ترحیب اور خطبہ استقبالیہ بھی پیش کیا۔شیخ جامعہ کی کارکردگی کے ساتھ ڈاکٹر صاحب سے بھی بہت متاثر ہوئے اور اپنے خطاب میں انہوں نے اعلان کیا کہ میں مصر حکومت اور اپنے ادارہ کی طرف سے اس جامعہ کے لیے چار طلبہ کو جامعہ ازہر میں پی ایچ ڈی میں داخلے کی منظوری دیتا ہوں، جن میں پہلا نام عبد الرزاق کا ہوگا۔

مزید پڑھیں: میڑک بورڈ امتحانات ، طویل تاخیر کے باوجود تاحال امتحانی سینٹرز لسٹ جاری نہ ہوسکی

ان کی دعوت پر 1972ءمیں حضرت بنوریؒ خود حضرت ڈاکٹر صاحب کو مصر لے گئے اور شفیق باپ کی طرح آپ کا وہاں داخلہ کرواکر آئے۔ ڈاکٹر صاحب نے چار سال وہاں تعلیم حاصل کی اور ”عبداللہ بن مسعودؓ امام الفقہ العراقی“ کے عنوان سے مقالہ تحریر فرمایا اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرکے فروری 1977ءمیں پاکستان واپس آئے اور جامعہ کے ناظم تعلیمات مقرر کیے گئے۔ 1997ءمیں مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختارؒ کی شہادت کے سانحہ فاجعہ کے بعد اساتذہ جامعہ کے پرزور اصرار پر آپ نے جامعہ کے اہتمام کی ذمہ داری لینا قبول فرمائی اور آپ کے دور میں جامعہ بنوری ٹاون نے بے مثال ترقی کی۔2004میں مفتی نظام الدین شامزئؒ کی شہادت کے بعد آپ جامعہ کے شیخ الحدیث مقرر ہوۓ۔ہزاروں طلبہ کرام نے آپ سے علم کی پیاس بجھائ۔2001 میں وفاقالمدارس العربیہ کے نائب صدر منتخب ہوۓ جبکہ شیخ الحدیث مولاناسلیم اللہ خانؒ کے سانحہ ارتحال کے بعد 5اکتوبر 2017 کو باقاعدہ صدر وفاق منتخب ہوگۓ اور تادم آخر صدر رہے۔

2015میں حضرت مولاناعبدالمجیدلدھیانویؒ کی شہادت کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیرمرکزیہ منتخب ہوۓ اور تادم آخر اس منصب پربھی فائز رہے۔حضرت ڈاکٹر صاحب انتہائ شفیق اور مہربان تھے اکثر جامعہ میں اگر طلبہ کرام کےلیے کوئ پریشانی ہوتی تو حضرت ڈاکٹر صاحب کی سفارش تلاش کرتے۔لب لہجہ انتہائ نرم کہ اساتذہ سے سننے میں آیا کہ جب جامعہ میں عبدالرزاق نامی ایک سے زائد اساتذہ تھے تو اس وقت حضرت ڈاکٹر صاحب کی پہچان میٹھےعبدالرزاق کے نام سے ہوتی تھی۔بچوں سے والہانہ محبت کرتے تھے جب بخاری شریف کا سبق پڑھا کر نکلتے تو لفٹ کے سامنے چھوٹے چھوٹے بچے کثیرتعداد میں جمع ہوتے حضرت ان کےلیے جیب میں ٹافیاں رکھتے اور سب کو شفقتوں سے نوازتے۔

حضرت کو اپنے شیخ محترم سے انتہائ لگاٶ تھا۔بلکہ یو ں کہا جاۓ کہ آپ فنافی الشیخ تھے تو غلط نہیں ہوگا۔دوران سبق اکثر حضرت بنوریؒ کی اداٶں اور ان کے معمولات بالخصوص ان کے ہمراہ حج اور دیگر اسفار کا تذکرہ کرتے۔اگر حضرت ڈاکٹر صاحب سفر پہ ہوتے اور چنددن کلاس میں نہ آتےتو طلبہ آخری گھنٹے میں بے چینی سے انتظار کرتے۔لیکن اب وہ انتظار بھی نہیں رہا اب جامعہ کے دورہ حدیث شریف کے طلبہ کرام کس کا انتظار کریں گے؟اب طلبہ سفارش کس سےکروائیں گے؟ اب مذہبی جماعتوں کے ذمہ داران دعائیں کس سے کروائیں گے؟ اب چھوٹے بچے دارالحدیث کے سامنے ٹافیاں کس سے لیں گے؟ اب حضرت بنوریؒ کے حالات و واقعات کون سناۓ گا؟ اور نجانے کتنےسوالات چھوڑ کر اور لاکھوں آنکھوں کو اشکبار چھوڑ کروقت کا یہ ولی بسووجنت رخصت ہوگیا۔
اناللہ واناالیہ راجعون

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *