ہمارے خاندانی نظام پر خطرناک حملے کی دستک

تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

ملک بھر میں ایک ایسے بے ہودہ قانون کی آمد آمد کے شور نے سنجیدہ حلقوں اور اہل نظر کے درمیان سخت تشویش اور فکر مندی کی لہر دوڑا دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وفاقی حکومت میں موجود طاقتور بے دین عناصر ایک قانون لانا چاہتے ہیں جس کی منظوری اور نفاذ کے بعد ہمارے خاندانی نظام کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی۔ اس قانون کے ذریعے ہمارے فیملی سسٹم کی بنیادوں میں ڈائنامائٹ رکھنے کی بہت بڑی گھناؤنی سازش رچائی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ مجوزہ قانون پاس اور نافذ ہونے کے بعد درج ذیل صورتحال ہوگی:

1۔ بچے ذرا سا گھورنے پر بھی ماں باپ کو پولیس کے حوالے کر سکیں گے۔۔۔

2۔ بیوی سے اونچی آواز میں بات، خلاف طبع مذاق اور دوسری شادی کی بات تک کرنا جرم ہوگا۔ خلاف ورزی کی صورت میں بیوی پولیس بلوا کر شوہر کو حوالہ حوالات کر سکے گی۔

آپ سوچ سکتے ہیں یہ کس قدر گھناؤنا اور ہمارا خوبصورت خاندانی نظام ختم کرنے کا ناپاک منصوبہ ہے۔ اس گھٹیا اور ناپاک قانون سے خاندانی نظام کی بنیادیں ہل جائیں گی۔

شنید ہے کہ اس مجوزہ ایکٹ کو پی ٹی آئی میں موجود بے دین این جی اوز کے ٹروجن گھوڑوں، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے دین دشمن ارکان کی تائید حاصل ہے۔۔۔

اس وقت ہمارے پاس ہمارا مضبوط خاندانی نظام ہی وہ واحد اجتماعی اور سماجی اثاثہ بچا ہوا ہے جس نے ہماری عزت رکھی ہوئی ہے۔۔۔ اب عقل، دین، سماجی اور ہماری قومی و ملی اقدار و روایات کے دشمن ہم سے یہ اثاثہ بھی چھین لینے کے درپے ہیں۔ خدا نخواستہ وہ سازشوں اور چالبازیوں سے یہ گھناؤنا وار کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس قدر خطرناک طوفان ہمارے سماج کو اپنی جکڑ میں لے کر مکمل تباہی سے دو چار کر سکتا ہے۔۔۔

مجھے حیرت ہے کہ ایک طرف جناب وزیر اعظم مغربی اقدار کے مقابلے میں اپنی اقدار و روایات کی عظمت کے قصیدے پڑھ رہے ہیں اور دوسری طرف ان کی ناک تلے ہماری ملی و قومی اقدار کے خلاف اس قدر بھیانک سازش رچی جا رہی ہے۔۔۔ اس کا مطلب یا تو یہ ہے کہ ہمارے وزیراعظم اس منصوبے سے یکسر بے خبر ہیں یا پھر اپنی قومی و ملی اقدار پر ان کا فخر جھوٹ اور دھوکا ہے اور یہ دونوں باتیں نا قابل قبول ہیں۔۔۔

مجھے اس مبینہ و مجوزہ قانون کے محرکین کی عقل پہ حیرت ہے۔ وہ یہ قانون “پدر سری” ختم کرنے کے نام پر مسلط کرنا چاہتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ہمارے معاشرے کی اقدار خواتین کے حقوق کی منافی ہیں۔۔۔ ان کی عقل پہ تف ہے۔۔۔ وہ اتنا نہیں جانتے کہ ہر معاشرے اور ہر قوم کی اپنی تہذیب، اپنی اقدار اور اپنی روایات ہوتی ہیں۔۔۔ ہمارے ہاں جو کچھ رائج ہے یہ صدیوں کے تمدنی ارتقا اور اجتماعی دانش سے وجود میں آیا ہے اور اب اگر کوئی نیا کچھ لانا چاہتا ہے تو اسے ان روایات و اقدار کے فریم اور دائرے میں ہی اپنے ارادوں کو رکھنا ہوگا۔۔۔

اس گھٹیا قانون کے محرکین دراصل مغرب کی بد تہذیبی کو ہی کائناتی سچائی مان چکے ہیں اور یہاں بھی ان کا فروغ چاہتے ہیں۔۔۔ ان فکری یتیموں کی خدمت میں عرض ہے کہ ہر سوسائٹی کی اپنی فیبرکس ہوتی ہے۔۔۔ ہمارا فیملی سسٹم ہماری سوسائٹی کی فیبرکس سے جڑی ہوئی ہے۔۔ آپ کو یہ پسند نہیں ہے تو جو کچھ تم چاہتے ہو اسے اپنے گھروں میں لاگو کرو یا وہیں سدھارو جہاں یہ بے ہودگی رائج ہے۔۔ ہمارے سماج کی پاکیزہ اجتماعی اقدار میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔۔۔

میں تمام اہل فکر و نظر کو دعوت دیتا ہوں اور تمام سیاسی جماعتوں کے نظریاتی اور خاندانی افراد، رہنماؤں اور کارکنوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ بیدار رہیں اور اپنے خاندانی نظام کے تحفظ کیلئے آگے آ کر چند فکری قلاشوں کی بے ہودگی، بے راہ روی، بے حیائی اور بے ضمیری کو قانون کے پراسس سے ہی ریمو کر دیں۔۔۔

ہمیشہ کی طرح اس معاملے پر ہماری نگاہیں ہماری دینی جماعتوں کی طرف لگی ہوئی ہیں۔۔۔ مجھے امید ہے کہ دینی جماعتیں بیدار ہو کر اس بے ہودگی کو بے ہودہ عناصر کی سوچ و دماغ سے ہی کھرچ کر فنا کر دیں گے۔۔۔ یہ وقت اپنی اقدار کے تحفظ کیلئے مکمل بیدار ہونے کا ہے۔۔۔

اٹھو وگرنہ حشر ہوگا نہ پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *